جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

دنیا


تیونس: سیکورٹی فورسز کی کارروائی، القاعدہ کا شدت پسند ہلاک

Sun, 21 Jan 2018

تیونس: سیکورٹی فورسز کی کارروائی، القاعدہ کا شدت پسند ہلاک

تیونس کی سیکورٹی فورسز نے القاعدہ کے ایک اہم کمانڈر ابو مصعب عبدالودود کے ایک سرکردہ ساتھی کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ بات ہفتہ کو سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتائی ہے۔ تیونس کی سیکورٹی فورسز 2015ء سے چوکس ہیں جب داعش کے مسلح شدت پسندوں نے دارالحکومت تونس میں واقع عجائب گھر میں درجنوں غیر ملکی سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ الجزائر کا شہری بلال کوبی عبدالودود کا نہایت قریبی ساتھی تھا اور اسے الجزائر کی سرحد کے قریب ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ اس خطے میں القاعدہ کو منظم کرنے کے مشن پر کام کر رہا تھا۔ تیونس کی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ سال مراد شعیبی سمیت کئی شدت پسندوں کو ہلاک کیا تھا۔ مراد شعیبی، عقبہ ابن نافع نامی شدت پسند گروپ کا ایک رہنما تھا جو کئی سالوں تک تیونس کے پہاڑی علاقے میں سیکورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار رہا۔ تیونس کو بیرونی ملکوں سے واپس اپنے وطن لوٹنے والے شدت پسندوں سے بھی اب خطرہ درپیش ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران 3 ہزار سے زائد تیونس کے شہری شدت پسندوں کی طرف سے لڑائیوں میں حصہ لینے کے لیے شام، عراق اور لیبیا گئے تھے۔ 


برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ جامع تجارتی معاہد ے کا متمنی

Sat, 20 Jan 2018

برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ جامع تجارتی معاہد ے کا متمنی

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد اس کے ساتھ ایک جامع تجارتی اور دفاعی سمجھوتے کرنا چاہے گا۔ تھریسا مے نے یہ بات ایک بیان میں کہی ہے جو ہفتے کو جرمن اخبار 'بلڈ' میں شائع ہوا۔ مے نے مزید کہا کہ ان کی حکومت مذاکرات میں اپنے ہی مفاد کی بات نہیں کرتی بلکہ یہ اس سے بہتر تجارتی معاہدے کی بات کرتی ہے جو یورپی یونین کا ناروے اور کینیڈا کے ساتھ ہے کیونکہ ان کے بقول برطانیہ ان ملکوں کے مقابلے میں ایک مختلف حیثیت میں یورپی یونین کے ساتھ  مذاکرات کر رہا ہے۔ مے نے اخبار کو بتایا کہ "یہ ایسا نہیں کہ ہم وہ بات کرتے ہیں جو صرف ہمارے لیے صحیح ہے۔۔۔ہم ایک جامع تجارتی معاہدے اور دفاعی سمجھوتے کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جس حیثیت سے بات چیت شروع کرنا چاہتے ہیں وہ کینیڈا اور ناروے سے مختلف ہے۔" برطانیہ اور یورپی یونین نے گزشتہ ماہ ایک دوسرے سے الگ ہونے کا معاہدہ کیا جس کی وجہ سے مستقبل کے تجارتی تعلقات سے متعلق بات چیت اور برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے معاملے کے خوش اسلوبی سے طے کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ برطانیہ کی وزیر اعظم نے کہا کہ "ہم یورپی یونین کو چھوڑ رہے ہیں لیکن یورپ سے الگ نہیں ہو رہے۔"


شمالی یورپ میں شدید طوفان سے نو افراد ہلاک

Fri, 19 Jan 2018

شمالی یورپ میں شدید طوفان سے نو افراد ہلاک

'جرمن ویدر سروس' کے مطابق 2007ء کے بعد جرمنی کو نشانہ بنانے والا یہ سب سے شدید طوفان ہے جسے 'فریڈریکے' کا نام دیا گیا ہے۔


ترکی: ہنگامی حالت میں چھ ماہ کی مزید توسیع

Fri, 19 Jan 2018

ترکی: ہنگامی حالت میں چھ ماہ کی مزید توسیع

اس کی اطلاع ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے، ’انادولو‘ نے دی ہے۔ ترکی کے آئین کے مطابق، ہنگامی صورتِ حال زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے


قازقستان میں بس کے حادثے میں 52 مسافر ہلاک

Thu, 18 Jan 2018

قازقستان میں بس کے حادثے میں 52 مسافر ہلاک

قازقستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے حادثہ ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ پیش آیا، تاہم اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔


اقوام متحدہ کا ویانا میں شام امن مذاکرات کا اعلان

Wed, 17 Jan 2018

اقوام متحدہ کا ویانا میں شام امن مذاکرات کا اعلان

ایک بیان میں ڈی مستورا نے کہا ہے کہ یہ ملاقات 25 اور 26 جنوری کو منعقد ہوگی جس میں زیادہ تر آئینی امور پر دھیان مبذول رہے گا


چلی: پوپ فرانسس کی جنسی زیادتی کے شکار بچوں سے ملاقات

Wed, 17 Jan 2018

چلی: پوپ فرانسس کی جنسی زیادتی کے شکار بچوں سے ملاقات

کیتھولک مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے منگل کو چلی کے دورے کے موقع بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات پر نا صرف دکھ اور شرمندگی کا کھلے عام اظہار کیا بلکہ اس کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے دوران ان کے دکھ درد پر روئے اور ان کے لیے دعا بھی کی۔ ویٹیکن کے ترجمان گریگ برک نے کہا کہ یہ ملاقات چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو میں ویٹی کن کے سفارت خانے میں ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ اس موقع پر کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا، ’’صرف پوپ اور زیادتی کا نشانہ بننے والے موجود تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ "ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ وہ اپنی تکالیف کے بارے میں پوپ فرانسس سے بات کر سکیں، جنہوں نے ان کی بات سنی ان کے لیے روئے اور دعا کی۔" ایسا دوسری بار ہوا کہ اپنے بیرونی دورے کے دوران پوپ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں سے ملاقات کی ہو، آخری بار ایسی ملاقات امریکہ کے شہرفلڈیلفیا میں 2015ء میں ہوئی۔ برک نے اگرچہ اس ملاقات کی تفصیل بتانے سے گریز کیا تاہم ان کا بیان پوپ کی دن پھر پور مصروفیت کے بعد سامنے آیا جس دوران انہوں نے جنسی زیادتی کے معاملے پر دوبار بات کی اور ایک بار انہوں نے ان زیادتیوں پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے اس کا نشانے بننے والوں کو "ناقابل تلافی نقصان"پہنچا۔ پوپ فرانسس کی طرف سے پہلا بیان چلی کے صدارتی محل میں دیا گیا جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ پوپ عموماً جنسی زیادتی کے واقعات پر چرچ کے عہدیداروں سے بات کرتے ہیں نا کہ سیاستدانوں سے۔  تاہم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اسکینڈل کے خلاف چلی میں آواز بلند کی جا رہی ہے اور کیتھولک مذہب کے ماننے والوں کے ملک میں سیاسی رہنماؤں نے چرچ کے عہدیداروں پر تنقید کی ہے۔


روس: کم سن بچیوں سے زیادتی پر مسیحی مبلغ کو 14 سال قید

Wed, 17 Jan 2018

روس: کم سن بچیوں سے زیادتی پر مسیحی مبلغ کو 14 سال قید

روس میں ایک مسیحی مبلغ کو کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ لینن گراڈ کے علاقے پریوزرسک میں بدھ کو عدالت نے مبلغ گلیب گروزسکی پر الزامات ثابت ہونے یہ سزا سنائی۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے 2011ء میں ایک مسیحی سمر کیمپ کے دوران کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اُس وت وہ سینیٹ پیٹرز برگ کے نواح میں واقع ایزمشن کیتھڈرل سے وابستہ تھے۔ مزید برآں ان پر 2013ء میں یونان میں ہونے والے ایک ایسے ہی سمر کیمپ کے دوران بھی کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام تھا۔ وہاں وہ سینیٹ جان دی واریئر چرچ کے ریکٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ روسی حکام نے 2013ء میں گروزسکی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور نھیں ستمبر 2016ء میں اسرائیل سے روس منتقل کیا گیا۔ گروزسکی نے اسرائیلی حکام کو بتایا تھا کہ انھیں اسرائیل میں روسی آرتھوڈکس چرچ نے تعینات کیا ہے لیکن ان کے ادارے کے مطابق گروزسکی پر ان الزامات کے باعث مشن پہلے ہی ان کی خدمات برخاست کر چکا تھا۔


اکثر ممالک میں جمہوری اصول اور آزادی کی صورتحال ابتر رہی: فریڈم ہاؤس

Tue, 16 Jan 2018

اکثر ممالک میں جمہوری اصول اور آزادی کی صورتحال ابتر رہی: فریڈم ہاؤس

امریکہ میں قائم ایک موقر غیر سرکاری تنظیم 'فریڈم ہاؤس' نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انتخابات کی ساکھ اور آزادی صحافت جیسے  جمہوری اصول گزشتہ برس بھی تنزلی کا شکار رہے اور یہ سلسلہ گزشتہ 12 سالوں سے مسلسل ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔ تنطیم سے وابستہ دانشور آرچ پوڈنگٹن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "2017ء میں ایسے ممالک کی تعداد کہیں زیادہ تھی جہاں آزادی کی صورتحال میں ابتری دیکھی گئی۔" فریڈم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ تازہ رپورٹ 195 ممالک کا جائزہ لے کر مرتب کی گئی اور اس کے مطابق 88 ممالک کو "آزاد"، 58 کو "جزوی آزاد" اور 49 کو "پابند" شمار کیا گیا۔ رپورٹ میں امریکہ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ملک بطور جمہوری چیمپیئن کمزور رہا اور 2016ء کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی جاری تفتیش بھی اس کی ساکھ پر اثر انداز ہوئی۔ پوڈنگٹن کے بقول "(یہاں) انتخابات کے معاملے میں مسائل ہیں جو آپ کو اکثر مضبوط جمہوریتوں میں دیکھنے میں نہیں آتے۔" ان کے نزدیک انتخابی مہم میں پیسے کا بکثرت استعمال اور ریاست کی طرف سے ووٹنگ کے طریقہ کار کو مزید مشکل بنانا ایسے عوامل ہیں جو جمہوری عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔ فریڈم ہاؤس نے موجودہ امریکی انتظامیہ کو درپیش بعض اخلاقی قضیوں بشمول ٹرمپ خاندان کے کاروباری تعلقات اور ان کے مفادات کا ٹکراؤ اور صدر کی طرف سے اپنے ٹیکس گوشوارے ظاہر نہ کرنے کی بابت بھی رپورٹ میں تذکرہ کیا۔ تنظیم نے چینی صدر شی جنپنگ کی زیر قیادت چین میں جبر میں اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک میں آزادی کی تنزلی کے عوامل میں شامل ہے۔ پوڈنگٹن نے بتایا کہ چین کی حکومت کا صحافیوں اور مختلف شعبوں میں اثرو رسوخ اور سنسرشپ کا نظام اسے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور یہاں تک کہ امریکہ سے بھی کم پوزیشن پر رکھے ہوئے ہے۔ "جزوی آزاد" ممالک جیسے کہ میانمار کے بارے میں فریڈم ہاؤس کے مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی اقتدار سے جمہوریت کی طرف منتقلی کے تناظر میں یہاں کچھ بہتری تو دیکھی گئی لیکن یہاں خاص طور پر روہنگیا مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر بنگلہ دیش ہجرت سمیت انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہوئی۔ افغانستان اور عراق میں جاری جنگوں کے باوجود فریڈم ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان ممالک پر 2018ء میں نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ پوڈنگٹن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ضروری نہیں کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ یہ ملک صحیح یا غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ ہے کہ وہاں بہت کچھ ہو رہا ہے اور ہم یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہاں آئندہ سال تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔" امریکی ممالک میں خاص طور زمبابوے میں طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے رابرٹ موگابے کی منصب صدارت سے علیحدگی کے تناظر میں فریڈم ہاؤس کا کہنا تھا کہ یہ ملک بحیثیت مجموعی "جزوی آزادی" کے زمرے میں آتا ہے۔


بھارت اور اسرائیل کے مابین 9 معاہدوں پر دستخط

Mon, 15 Jan 2018

بھارت اور اسرائیل کے مابین 9 معاہدوں پر دستخط

بھارت اور اسرائیل کے مابین دفاع، تیل اور گیس، قابل تجدید توانائی، سائبر سیکورٹی اور مشترکہ فلم سازی کے شعبوں سمیت متعدد شعبوں میں 9 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نریندر مودی نے وفود کی سطح کے مذاکرات کیے۔ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ اس موقع پر نریندر مودی نے نیتن یاہو کو ”میرا دوست بی بی“ اور نیتن یاہو نے مودی کو ”نریندر“ کہہ کر مخاطب کیا اور اپنے دوستانہ تعلق کا اظہار کیا۔ نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے کہ مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم ہیں، انھیں ایک انقلابی رہنما قرار دیا۔ جبکہ نریندر مودی نے کہا کہ میک ان انڈیا پروگرام کو فروغ دینے کے لیے بھارت نے اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو یہاں تجارت کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ایک دوسرے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کریں گے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دو قدیم تہذیبیں ہیں اور ہمارے رشتے بہت خاص ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف بھارت کے ووٹ پر کہا کہ اس سے ہمارے رشتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بعض تجزیہ کاروں نے دونوں وزرائے اعظم کے ایک دوسرے کے ملک کے دورے کو باہمی رشتوں اور انسداد دہشت گردی کے لیے بہت اہم قرار دیا۔ جبکہ عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس بھارت کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تاہم ان دوروں کی کچھ وجوہات ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ” موجودہ حکومت مسلم مخالف سیاست کرتی ہے۔ بھارت امریکہ میں لابنگ کرنا چاہتا ہے۔ وہ جو ہتھیار امریکہ سے براہ راست نہیں خرید سکتا وہ اسرائیل کے توسط سے خریدتا ہے۔ ان چند وجوہات سے دونوں کے رشتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر اسی تناظر میں عرب ممالک سے بھارت کے رشتوں کو دیکھیں تو ساڑھے سات ملین بھارتی باشندے عرب ملکوں میں کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں وہاں سے سالانہ اربوں ڈالر غیر ملکی زرمبادلہ ملتا ہے۔ لہٰذا بھارت کو اسرائیل کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہیے۔ لیکن موجودہ حکومت کو یہ سب باتیں سوٹ کرتی ہیں“۔ ظفر الاسلام خاں نے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ پہلے تمام طبقات کے لوگ اسرائیل بھارت رشتوں کے خلاف مظاہرہ کرتے تھے مگر اب صرف مسلمان کرتے ہیں۔  دریں اثنا نیتن یاہو کے دورے کی مخالفت میں مختلف مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کے نزدیک بائیں بازو کا مظاہرہ ہوا جس میں پرکاش کرات اور ڈی راجہ جیسے سینئر کمیونسٹ لیڈروں نے بہت سخت الفاظ میں بھارت اسرائیل رشتوں کی مخالفت کی۔ اسی طرح متعدد تنظیموں نے ”یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ“ مہم کے تحت اسرائیلی سفارت خانہ کے باہر مظاہر کیا اور اندیشہ ظاہر کیا کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر اسرائیل کے تعاون سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دیگر مقامات سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ 


اسرائیلی وزیر اعظم نئی دہلی پہنچ گئے

Mon, 15 Jan 2018

اسرائیلی وزیر اعظم نئی دہلی پہنچ گئے

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو چھ روزہ سرکاری دورے پر نئی  دہلی پہنچ گئے ہیں۔  یہ گزشتہ 15 سال کے دوران کسی اسرائیلی وزیر اعظم کا پہلا دورہ بھارت ہے جس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نرندر مودی نے پروٹوکول میں تبدیلی کرتے ہوئے ہوائی  اڈے پر خود اسرائیلی مہمان کا استقبال کیا۔  دونوں راہنما بغلگیر ہو کر  ایک دوسرے سے ملے جس کے بعد وہ نئی دہلی میں موجود دوسری  جنگ عظیم کی یاد گار کی جانب روانہ ہو گئے ۔ بعد میں نیتن یاہو نے ٹویٹ کے ذریعے اپنے بھارتی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اُن کے جذبے  سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ جواب میں نرندر مودی نے ٹویٹ کیا، ’’آپ کا دورہ بھارت خصوصی اور تاریخی  اہمیت کا حامل  ہے اور  اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔‘‘ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہاہے۔  تاہم اس دورے سے چند ہی ہفتے قبل بھارت نے امریکہ کی طرف سے  یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان باضابطہ مزاکرات پیر سے شروع ہو رہے ہیں  اور توقع ہے کہ اس دوران اسرائیل اور بھارت میں سائیبر سیکورٹی، توانائی، خلائی تعاون اور فلم سازی کے شعبوں میں اہم سمجھوتوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ نیتن یاہو کے ہمراہ ایک بہت بڑا کاروباری وفد بھی بھارت پہنچا ہے جس میں ٹکنالوجی، زراعت اور دفاع سے متعلق صنعتکار بھی شامل ہیں۔ دورے کے دوران نیتن یاہو تاج محل دیکھنے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ مودی کی ریاست گجرات کا بھی دورہ کریں گے۔  اس کے علاوہ وہ بالی وڈ کی سرکردہ شخصیات سے بھی ملیں گے اور اُنہیں اسرائیل میں فلموں کی عکس بندی کی دعوت دیں گے۔


صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی سفارتی آداب کی تمام حدیں پار کر دیں: ایران

Sun, 14 Jan 2018

صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی سفارتی آداب کی تمام حدیں پار کر دیں: ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان سے اُنہوں نے  بین اقوامی سفارتی آداب کی تما م حدیں پار کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وہ ایران پر جوہری پابندیوں کے حوالے سے آخری مرتبہ استثنا  دے دیں گے جس سے امریکہ اور اُس کے یورپی اتحادیوں کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو تبدیل کرنے کا آخری موقع مل جائے گا۔ امریکہ نے ایران کی عدلیہ  کے سربراہ اور دیگر شخصیتوں پر بھی پابندیاں عائد  کی ہیں۔ روس نے،  جو  امریکہ، چین ، فرانس، جرمنی اور یورپین یونین کے ساتھ ایران کیلئے اس جوہری معاہدے میں ایک فریق کی حیثیت سے شامل ہے، صدر ٹرمپ کے بیان کو ’’انتہائی منفی‘‘ قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس الٹی میٹم سے ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے پر دستخط کرنے والے یورپی اتحادیوں پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اگلے 120 دن کے اندر نیا معاہدہ تیار کریں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری پابندیوں کیلئے آخری بار استثنا دیتے ہوئے ایران کے 14 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جن میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی بھی شامل ہیں جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ نے آیت اللہ لاریجانی پر پاندیوں کی شدید الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے  اس سلسلے میں بین الاقوامی سفارتی اور اخلاقی آداب کی تمام حدیں پار  کر دی ہیں۔ ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ سابق صدر براک اوباما  کے دور میں طے ہوا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ  فی الحال اس معاہدے کو منسوخ نہیں کر رہا ہے ۔ تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ یا تو اس معاہدے کے منفی پہلوؤں کو درست کیا جائے یا پھر امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ آخری استثنا ہے اور امریکہ دوبارہ استثنا نہیں دے گا۔


پاپوا نیو گنی: آتش فشاں پہاڑ پھٹنے کے بعد 15 سو افراد کا انخلا

Sun, 14 Jan 2018

پاپوا نیو گنی: آتش فشاں پہاڑ پھٹنے کے بعد 15 سو افراد کا انخلا

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس یعنی ہلال احمر نے اتوار کو کہا کہ پاپوا نیو گنی کے مشرقی ساحل کے شمال میں واقع ایک جزیر ے میں آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے کی وجہ سےتقریبا ً 15 سو افراد کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا ہے۔ پاپوا نیو گنی کے ساحل سے 24 کلومیٹر شمال میں واقع، کادووار کے جزیرے پر ایک آتش فشاں پہاڑ سے 5 جنوری کو لاوا باہر بہنا شروع ہوا اور اس کی وجہ سے کادووار کے 590 مکینوں کو بلپ کے قریبی جزیرے منتقل کرنا پڑا۔ آتش فشاں پہاڑ سے کئی دنوں تک سیال راکھ بہتی رہی جس کے بعد جمعہ کو آتش فشان پہاڑ دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس کے بعد پاپوا نیو گنی کی حکومت نے بلپ کے جزیرے سے بھی لوگوں کے انخلا کا فیصلہ کیا کیونکہ اس جزیرے کے لوگوں کو بھی آتش فشاں کے پھٹنے سے خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ پاپوا نیو گنی کے دارالحکومت پورٹ مورس بی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ریڈ کراس کے جنرل سیکرٹری اویناما روا نے کہا کہ جن لوگوں کا ان جزیروں سے انخلا کیا گیا انہیں اب پاپوا نیو گنی کی سرزمین پر منتقل کیا جارہا ہے اور بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے ان افراد کی مدد کے لیے 26 ہزار ڈالر سے زائد کی اعانت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جیسے ہی یہ آتش فشاں پہاڑ پھٹا وہاں کے لوگوں نے فوری طور پر اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکل پڑے۔ اس لیے انہیں خوراک، پانی اور کپڑوں اور عارضی پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔" دوسری طرف آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے ٹوئٹر پر کہا کہ آسٹریلیا کی حکومت انسانی امداد کے لیے 19 ہزار سات سو ڈالر سے زائد مالیت کی امدادی اشیا فراہم کر رہی ہے۔


جکارتہ: سخت گیر محاذ کے کارکنان کی فیس بک کے صدر دفتر تک ریلی

Sat, 13 Jan 2018

جکارتہ: سخت گیر محاذ کے کارکنان کی فیس بک کے صدر دفتر تک ریلی

’ایف پی آئی‘ کے ترجمان، سلامت معارف نے کہا ہے کہ ’’ہم جاننا چاہیں گے کہ فیس بک نے ہمارے اکاؤنٹ کیوں بند کیے، جب کہ اُن کے اکاؤنٹ کھلے ہوئے ہیں جو ہمارے راہنماؤں اور اسلام کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں‘‘


ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتا برقرار رکھا جائے: یورپی سفارت کار

Fri, 12 Jan 2018

ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتا برقرار رکھا جائے: یورپی سفارت کار

فریڈریکا مغیرنی نے کہا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کے ساتھ تمام معاملات پر قریبی تعاون اور مکالمہ جاری رکھنے کی صورت نکلی۔ اُنھوں نے اس کامیابی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا


پیرس: ڈکیت مشہور ہوٹل سے کروڑوں کے زیورات لے اڑے

Thu, 11 Jan 2018

پیرس: ڈکیت مشہور ہوٹل سے کروڑوں کے زیورات لے اڑے

'رٹز ہوٹل' پیرس کے مرکزی چوراہے پلیس وینڈوم کے نزدیک واقع ہے جس کے ارد گرد کے علاقوں میں ماضی میں بھی زیورات کی دکانوں میں ڈکیتیاں ہوتی رہی ہیں۔


آسٹریلیا میں ریکارڈ توڑ گرمی، سیکڑوں کم یاب جانور ہلاک

Wed, 10 Jan 2018

آسٹریلیا میں ریکارڈ توڑ گرمی، سیکڑوں کم یاب جانور ہلاک

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سردی اور گرمی کی انتہائیں دراصل کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھنے کا شاخسانہ ہیں۔


جنوبی کوریا کے صدر شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار

Wed, 10 Jan 2018

جنوبی کوریا کے صدر شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار

صدر مون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے بات چیت کیلئے ماحول کو سازگار بنانے میں مدد دی۔


بحیرۂ کیریبئن میں زلزلہ، سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی

Wed, 10 Jan 2018

بحیرۂ کیریبئن میں زلزلہ، سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز صرف 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا جس کے باعث اس کے جھٹکوں میں انتہائی شدت تھی۔


شمالی و جنوبی کوریا مذاکرات پر تیار

Tue, 09 Jan 2018

شمالی و جنوبی کوریا مذاکرات پر تیار

مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے، متحارب ملکوں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ’’موجودہ فوجی تناؤ میں کمی لائی جائے، اور اس معاملے کے حل کے لیے فوجی سطح کے مذاکرات کیے جائیں‘‘