جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

سری لنکا میںفساد

08 Mar 2018


مرکزی سری لنکا میںایمرجنسی کے باوجود، مسلم مخالف فسادات ختم ہونے کانام نہیں لے رہے ہیں۔ حکومت نےفساد روکنے کے لئےسو شل میڈیا پر پابندی عائد کردی ہے. پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے تحت علاقے میں کرفیو جاری رکھا. علاقے کے رہائشی  بتا رہے ہیں کہ صورتحال بہت خوفناک ہے. بیان کیا گیا ہے کہ بدھ کو دو مساجد اورکئی ساری مسلم دکانوں کو نشانہ بنایا گیاہے۔ اس علاقے میں رہنے والے بدھ طبقہ کے لوگ مسلمانوں اور ان کی املاک پریہ حملے کر رہے ہیں۔تشدد میں ہونے والی نقصانات کا ابھی تک اندازہ نہیں لگایا گیاہے۔میانمار کی طرح ہی سری لنکا میں بھی ایک طویل عرصے سے مسلمانوں کوبودھوں کے ذر یعہ نشانہ بنایاجاتارہاہے۔یہاں سنہلی بودھ مسلم اقلیت کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں.

ایک انٹرنیٹ کمپنی کا کہناہے کہ حکومت نے تشدد زدہ علاقوں میں مقبول سوشل میڈیا نیٹ ورک کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمپنی کے اہلکار نے کہا کہ یہ آرڈر بنیادی طور پر فیس بک، انسٹراگرام، وائبر اور وائس ایپ کے لئے تھا۔کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے کچھ نیٹ ورک دارالحکومت کولمبو میں بند ہیں۔جبکہ ملک کے دیگر علاقوںمیںان خدمات کو سست کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔سری لنکا میں بو دھسٹوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کےبعد 10 دنوںکے لئےہنگامی صورت حال کا اعلان کیا گیا تھا۔ سری لنکا کے کینڈی ضلع میںاس تشدد کی شروعات ہوئی تھی لیکن سرکاری حکام نے اس تشدد کے لئےبو دھسٹوں کو براہ راست  ذمہ دار نہیں ماناہے۔صدر سے ملاقات کے بعد، کابینہ کے وزیر رؤف حکیم نے کہا کہ تشدد کے لئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

تازہ فسادات سے قبل 26-26فروری 2017 کو سری لنکا کےمشرقی صوبہ انپارہ قصبے میں تشدد ہوئی تھی۔ اس وقت سے، کشیدگی کی آگ سلگ رہی تھی، جس نےآخر کار بڑے تشدد کی شکل اختیار کرلی۔

اس وقت، یہ فساد کینڈی میں ہوا ہے، لیکن حکومت نے اس اندیشہ لے پیش نظر پورے ملک میں ہنگامی صورتحال کا نفاذ کر دیا ہے تاکہ دوسرے حصوں میں فسادات نہ پھیلائے جائیں۔حالانکہ

کرفیو صرف تشدد زدہ ضلع کینڈی میں ہی لگایا گیا ہے۔ سری لنکا میں، بدھ مت کی آبادی 75٪ کے قریب ہے، لیکن یہاں تمل کمیونٹی اور مسلمانوں کو کٹر بودھوں کے ذر یعہ لگاتار اپنے لئے خطرہ قرار دیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تملوں اور مسلمانوں نے اقلیت میں ہونے کے با وجود اپنی محنت سے صنعت وحرفت اور کاروبار میں کافی کامیابی حا صل کی ہےجس کے نتیجہ میں یہ زیادہ خو شحال بھی ہیں۔کاروبار میں  مسلمانوں نے اپنی پو زیشن کا فی مضبوط کرلی ہے۔ان کی اقتصادی ترقی کٹر بودھوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اپنے نوجوانوں کو یہ کہہ کر اشتعال دلاتے ہیں کہ مسلمان تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وہ پوری معیشت پر قا بض ہو جائیں گے،اس لئے اس خطرہ سے نمٹنا ضروری ہے۔

 می ٹو کے ہیش ٹیگ کا پھل

سوشل میڈیا پر متعارف کرائے گئے ’ می ٹو کے ہیش ٹیگ‘ کے تحت خواتین اپنے ساتھ پیش آنے والی جنسی ہراسانی کے واقعات بے باکی کے ساتھ شیئر کررہی ہیںاس سوشل میڈیا مہم نے ایسی خواتین کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کے بعد دنیا کے کئی نامور اور طاقت ور شخصیات کے خلاف شکایات کا انبار لگ گیا ہے۔اور بدنامی کے سبب کئی لوگوں کو اپنے اونچے عہدے بھی چھوڑنے پڑ رہے ہیں۔تازہ مثال جنوبی کوریا کے گورنر آن ہی جونگ کا اپنی سیکرٹری کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دیناہے۔جنوبی کوریا کے صوبے جنوبی چونگ چیونگ  کے گورنر آن ہی جونگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی پوسٹ میں مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ میں ہیں، میں شادی شدہ ہوں اور اس الزام کے باعث گھر میں تناؤ کا ماحول ہے اور میں خود اپنے روز مرہ کے معمولات اور ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر پا رہا ہوں اس لیے اس معاملے کو یہی پر ختم کرنے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ میں اس فعل پر قوم سے معافی چاہتا ہوں، انہوں نے اس واقعے پر اپنے ترجمان کے تردیدی بیان کوبھی جھوٹا قرار دیا۔