جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper


کمبلے کی ساکھ کافی عرصہ بعد داؤ پر انڈیا کو بنگلور میں اپنے اسپن حملے کا صحیح استعمال کرانا ہوگا

01 Mar 2017


نئی دہلی،  ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کو پہلے کپتان وراٹ کوہلی اور اسٹیون اسمتھ کےمابین بطور جنگ دیکھا جا رہا تھا لیکن پونے ٹیسٹ کے بعد یہ جنگ ہندوستانی کوچ انیل کمبلے اور آسٹریلیائی ٹیم کے اسپن مشیر شری دھرن شری رام کے درمیان مقابلے میں بدل گئی ہے۔پونے میں پہلی بار منعقد ہوئے ٹیسٹ میچ میں اسپن کو مددگار پچ ملی تھی جس کے لئے یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ ہندوستانی گیندباز اس پچ کا پورا فائدہ اٹھائیں لیکن لیفٹ آرم اسپنر اسٹیو او کيفے نے دونوں اننگز میں چھ۔ چھ وکٹ لیتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کو 333 رن کی شرمناک شکست کا سامنا کرنے کیلئے مجبور کر دیا۔کيفے کی اس شاندار کارکردگی کا کریڈٹ آسٹریلیائی ٹیم کے اسپن مشیر رام کو دیا جا رہا ہے جنہوں نے ایک وقت آسام، مہاراشٹر اور گوا جیسی چھوٹی ٹیموں کیلئے رنجی میچ کھیلے تھے۔ پونے کے میچ سے پہلے کيفے اور رام کا نام کسی کی زبان پر نہیں تھا لیکن پونے کے میچ کے بعد اب ہر کوئی ان دونوں کی بات کر رہا ہے۔ کيفے نے بھی اپنی گیندبازی کا کریڈٹ رام کو دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی ٹیم کے پاس  بہتر ین اسپنروں میں سے ایک کوچ  انل کمبلے موجود ہیں۔ ہندوستان کے پاس ٹیسٹ رینکنگ میں روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ  دوچوٹی کے گیندباز موجود ہیں لیکن ان دونوں کھلاڑیوں کا تال میل بھی ہندو ستان کو پونے میں جیت نہیں دلاسکا۔شری رام ہندوستان میں تمل ناڈو کے لئے بھی کھیلے تھے اور جب آسٹریلیا  نے 2015 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا تو وہ آسٹریلیائی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ رام جنوبی افریقہ کے لیے فیلڈر کوچ اورا سپن مشیر رہ چکے ہیں۔ ساتھ ہی وہ دہلی ڈیئر ڈیولس کے بھی اسسٹنٹ کوچ ہیں۔اپنے کیریئر کا آغاز لیفٹ آرم اسپنر کے طور پر کرنے والے رام بطور کرکٹر  بہت زیادہ  کامیاب نہیں رہے اور ان کا کھلاڑی کے طور پر کیریئر  چیلنجنگ رہا لیکن ہندوستانی پچوں کے بارے میں ان کی معلومات آسٹریلیا کے لیے  فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رام نے کہا کہ آپ کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس دن آپ کے لیے کیا اچھا رہے گا اور مجھے لگتا ہے کہ کيفے نے اپنی تیاری اچھی کی تھی اور وہ اس استعمال کرنے کے لئے بھی تیار تھے۔ کيفے نے نیٹ پر اپنی طرف سے کچھ الگ کیا تھا جس کا انہیں فائدہ ملا۔کمبلے کے مقابلے دیکھا جائے تو رام کوئی شین وارن یا مرلی دھرن نہیں ہیں۔ ان کے کھاتے میں بھاری بھرکم وکٹوں کی تعداد نہیں ہے۔ہندوستان کے لیے چار سال میں شری رام نے صرف آٹھ ون ڈے کھیلے تھے جس میں انہوں نے 81 رنز بنائے تھے اور نو وکٹ لئے تھے۔ دوسری طرف کمبلے کو دیکھیں تو کمبلے کا پروفائل 619 ٹیسٹ وکٹوں اور 337 ون ڈے وکٹوں کی وجہ سے کافی بڑا نظر آتا ہے۔ لیکن پونے کے مقابلے میں کمبلے رام سے پیچھے نظرآئے۔میچ میں دوسرے دن کيفے نے سات اوور کئے تھے اور 23 رن دیے تھے جسے دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی خطرہ پیدا کر پائیں گے لیکن بریک کے بیچ رام کيفے کے پاس گئے تو کيفے نے ان سے کہا میں آغاز میں کچھ نروس محسوس کر رہا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا کہ اس وکٹ پر کیا کرنا چاہتے ہو۔ کيفے کا جواب تھا میں تھوڑا سا تیز گیندڈالنا چاہتا ہوں اور میں نے انہیں ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ رام کے مشورہ پر ایسا اثر ہوا کہ کيفے نے اپنے اگلے 21.1 اوور میں 12 وکٹ لے کر  ہندوستان  کی اننگز کو سمیٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ تاہم  ہندوستان کے تین دن میں ہارنے کے بعد پونے کی پچ کو لے کر زیادہ باتیں ہو رہی ہیں اور اسے آئی سی سی میچ ریفری نے خراب بھی قرار دیا ہے۔ لیکن کمبلے، اشون اور جڈیجہ  اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائے یہ سب سے بڑا موضوع ہے۔دوسرا ٹیسٹ چار مارچ سے بنگلور میں شروع ہونا ہے جس سے یہ طے ہو جائے گا کہ بارڈر-گواسکر ٹرافی کس طرف جانے والی ہے۔ کیا ہندوستان واپسی کرے گا یا آسٹریلیادو۔صفر کی برتری حاصل کرلے گا۔ یہ بھی دلچسپ هے کہ شری رام بارڈر-گواسکر اسکالر شپ حاصل کرنے والے پہلے شخص ہیں اور وہ آسٹریلیا کو اس ٹرافی کو حاصل کرنے میں مکمل کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہلا ٹیسٹ تین دن میں ہارنے کے بعد کمبلے پر مزید ذمہ داری آ گئی ہے کہ وہ رام کا توڑ ڈھونڈے اور ہندوستان کو سیریز میں واپسی دلائیں۔ بنگلور کے ایم چنا سوامی اسٹیڈیم کی پچ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ یہ اسپورٹنگ پچ ہے جو بلے اور گیند میں برابر کا توازن رکھے گی۔ کمبلے کی ساکھ کافی عرصہ بعد داؤ پر لگی ہے اور انہیں بنگلور میں اپنے اسپن حملے کا صحیح استعمال کرانا ہوگا۔