جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper


صحت مند بچوں سے ہی صحتمند معاشرہ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے: منجوناتھ بھجنتری

27 Jul 2017

جدید بھارت نیوز سروسسمڈیگا، 27جولائی: ضلع سمڈیگا کے ڈپٹی کمشنر منجو ناتھ بھجنتری نے ایک پریس کانفرنس میںصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ضلع میں چلائی جا رہی صحت اور غذائیت سے متعلق سرگرمیوں کی جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ صحت اور غذائیت کی سرگرمیوں کو منظم طریقہ سے چلانا بہت ہی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سمڈیگا جیسے ضلع جہاں صحت اور غذائیت کی سہولیات کو عوام تک پہنچانے کا ذریعہ صرف آگن باڑی اوراس کے خدمت گزار ہیں، ایسے حالات میں ان اداروں کا اچھے طریقے سے چلانا اور اس کی نگرانی کرنا انتظامیہ کے علاوہ مقامی لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ گاؤں کے نوزائیدہ سے پانچ سال تک کے بچے اور ان کی ماؤں کو آگن باڑی مرکز تک مسلسل لانے ، ان کی صحت کی جانچ کرانے اور صحت و غذائیت سے متعلق معلومات اور امداد بہم پہنچانے میں خادمہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔حکومت کی سطح پر لگاتار اس کا جائزہ لیا بھی جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ سماج میں صحتمند بچہ کی پیدائش سے قبل اس کا بہتر خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ محکمہ صحت ضلع انتظامہ کے ساتھ تال میل اور اس سمت میں وسیع پیمانے پر اسکیم بنا کر کام کر رہا ہے۔ صحتمند بچوں سے ہی صحتمند معاشرہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری وقت پر کی جا رہی ہے۔ حکومت کی ان اسکیموں کو کامیاب بنانے میں آگن باڑی کی خادمہ اور اے این ایم کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہیں اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ایک بھی بچے کی پیدائش ذیلی طبی مراکز کے باہر نہیں ہونی چاہئے۔ مفاد عامہ میں صحت اور غذائیت کو بہتر بنانے کی ذمہ داری انتظامیہ کے علاوہ سماج کے لوگوں کی بھی ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح کم کرنا، خراب غذائیت کو دور کرنا اور حاملہ عورتوں کی اموات کی شرح کم کرنا،ان سارے مسائل کے تئیں لوگوں میں بیداری لانے ان کو دور کرنے کا کام آگن باڑی کی خادمہ کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر منجو ناتھ نے کہا کہ اچانک جائزہ کے دوران کہیں کہیں مذکورہ مسائل سے متعلق خدمات میں لاپرواہی اور سست روی پائی گئی ہے اور غیر ذمہ دارانہ طریقے سے ہورہے ہیں اس لئے آگن باڑی کی خادماوں پر کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ اپنے کاموں کے تئیں اصلاح کرنے والی آگن باڑی خادماوں پر غور و خوض کیا جائے گا، انہیں جذبات کے رو میں بہنے کی ضرورت نہیں ہیں بلکہ خادمائیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔


کویت میں ایران کا ثقافتی مرکز بند،سفارتی عملہ کی تعداد میں کمی ایرانی سفارت کاروں کے خلاف کویتی اقدامات کو سعودیہ کی تائید

22 Jul 2017

کویت 21؍جولائی (ایجنسی)کویت میں ایران کے ثقافتی اتاشی مرکز کو بند کردیا گیا ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق کویت میں ایرانی سفارت خانے کے ثقافتی کے علاوہ فوجی دفاتر کو بند کردیا گیا ہے۔ترکی کی اناطولیہ نیوز ایجنسی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ کویت نے ایرانی سفارت کاروں کی تعداد بھی کم کر کے نو کردی ہے اور اضافی سفارتی عملہ کو ڈیڑھ ماہ میں ملک سے چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔کویت کی وزارت داخلہ نے گذشتہ روز ابدالی سیل سے تعلق رکھنے والے سولہ مجرموں کی تصاویر جاری کی تھیں۔انھیں ان کی عدم موجودگی میں عدالت نے قید کی سزائیں سنائی ہیں۔وزارت داخلہ نے ایک بیان میں شہریوں اور مکیوں سے ان کی گرفتاری میں مدد دینے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے بھی ان مجرموں کو پناہ دی یا کسی طرح ان کی معاونت کی تو اس کو قید اور جرمانے کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ 13 اگست 2015ء کو کویتی حکام نے عراق کی سرحد کے نزدیک واقع الابدالی فارم کے علاقے سے متعدد مدعاعلیہان کو گرفتار کر لیا تھا اور ان مشتبہ افراد کے ملکیتی مکانوں سے بھاری مقدار میں گولہ بارود اور ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔پکڑے گئے اسلحہ میں 19 ٹن گولہ بارود ، 144 کلوگرام دھماکا خیز مواد ،مختلف قسم کے 68 ہتھیار اور 204 دستی بم ( گرینیڈز) شامل تھے۔ان کے علاوہ برقی ڈیٹونیٹرز بھی پکڑے گئے تھے۔گذشتہ سال ایک عدالتی فیصلے کے بعد سے کویت نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کے ضمن میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔گذشتہ سال ایک ایرانی اور متعدد کویتیوں پر مشتمل گروپ کو ایران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں پکڑا گیا تھا اور پھر انھیں جاسوسی کے الزامات میں عدالت نے قصور وار قرار دیا تھا۔دریں اثناسعودی عرب نے برادر ملک کویت کی طرف سے ایرانی سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کے احکامات دینے کی حمایت کی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نے بتایا ہے کہ ریاض نے برادر ملک کویت کے ایرانی سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کے اقدامات کی تائید کی ہے۔خیال رہے کہ کویت نے گذشتہ روز ایک عدالتی فیصلے کے بعد ایرانی سفارت کاروں کی تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ کویت میں متعین ایرانی سفیر کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔یہ پیش رفت العبدلی نامی ایک خفیہ سیل کی ایرانی سفارت کاروں کی طرف سے حمایت اور معاونت کے انکشاف کے بعد سامنے آئی ہے۔اطلاعات کے مطابق ایران اپنے سفارت کاروں کی مدد سے کویت میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث اس گروپ کی مدد کرتا رہا ہے۔کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے ایرانی سفیر کو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ادھر ایرانی حکومت نے بھی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ کویت میں تہران کے سفیر کو وہاں سے نکل جانے کے احکامات ملے ہیں۔خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کویتی حکومت کے اقدامات کے بعد تہران میں متعین کویتی قائم مقام سفیر کو طلب کیا گیا ہے۔قبل ازیں کویت کی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے ایرانی سفارت خانے کے ثقافتی دفتر کے سفارت کاروں کی تعداد کم کردی ہے۔