جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper


ٹیم انڈیاکی واپسی کاخواب چکنا چور ناتھن لیون کا قہر:دوسرے ٹیسٹ میں بھی ہندستانی شیر189رن پر ڈھیر

04 Mar 2017

بنگلور، 04 مارچ دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہندستان پنے کے بعد بنگلور میں بھی گھٹنے ٹیک بیٹھی اور آسٹریلیا کے آف اسپنر ناتھن لیون نے اپنی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 50 رنز پر آٹھ وکٹ لے کر ہندستان کو دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن ہفتہ کو 189 رنز پر ڈھیر کر دیا۔آسٹریلیا نے اس کے جواب میں دن کا کھیل ختم ہونے تک 16 اوور میں بغیر کوئی وکٹ کھوئے 40 رن بنا لئے ہیں۔لیون نے ہندستانی زمین پر کسی غیر ملکی بولر اور بنگلور میں کسی بولر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر ڈالا۔اوپنر لوکیش راہل نے یک طرفہ جدوجہد کرتے ہوئے 205 گیندوں میں نو چوکوں کی مدد سے 90 رنز کی اننگز کھیلی۔لیکن دوسرے بلے بازوں نے پنے کی طرح بنگلور میں بھی مایوس کیا اور لیون کے سامنے خود سپردگی کر بیٹھے۔ہندوستان نے لنچ تک دو وکٹ اور چائے کے وقفہ تک پانچ وکٹ گنوائے تھے۔لیکن چائے کے وقفہ کے بعد ہندوستان کے باقی پانچ وکٹ محض 21 رنز کا اضافہ کر کے گر گئے۔آسٹریلیا نے اس کے جواب میں دن کا کھیل ختم ہونے تک 16 اوور میں بغیر کوئی وکٹ کھوئے 40 رن بنا لئے ہیں۔آسٹریلیا اب ہندستان کے اسکور سے 149 رنز پیچھے ہے ۔ڈیوڈ وارنر ایک جیون دان کا فائدہ اٹھا کر 23 رن اور میٹ رینش 15 رنز بنا کر کریز پر ہیں ۔وارنر کو اجنکیا رہانے نے گلی میں فاسٹ بولر ایشانت شرما کی گیند پر جیون دان کیا ۔ اس وقت وارنر کا اسکور نو رن اور آسٹریلیا کا اسکور 19 رنز تھا۔لیون نے جو دبدبہ بنایا ویسا کارنامہ پہلے دن ہندستانی بولر نہیں  دکھاسکے۔لیون نے 22.2 اوور کی خطرناک گیند بازی میں 50 رن پر آٹھ وکٹ لے کر ہندوستانی کھلاڑیوں کو گھٹنے ٹیکنے کیلئے مجبور کر دیا۔ تیز گیند باز مشیل اسٹارک نے 39 رن پر ایک وکٹ اور گزشتہ میچ میں کل 12 وکٹ لینے والے لیفٹ آرم اسپنر اسٹیو او كيفے نے 40 رن پر ایک وکٹ لیا۔ لیون کی  اس سے پہلے ایک اننگز میں بہترین کارکردگی ہندوستان  کے خلاف ہی 94 رن پر سات وکٹ تھی ۔ یہ کارنامہ انہوں نے مارچ 2013 میں دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں انجام دیا تھا۔ابھینو مکند صفر، چتیشور پجارا 17، کپتان وراٹ کوہلی 12، اجنکیا رہانے 17، نائر 26، روی چندرن اشون سات، وکٹ کیپر ردھمان ساہا ایک اور رویندر جڈیجہ تین رن  بنا کر پویلین لوٹ گئے۔پنے کے بعد ہندوستانی بلے بازوں نے پھر سے یہاں مایوس کیا۔ہندوستانی ٹیم پنے میں دونوں اننگز میں 105 اور 107 رن پرآوٹ ہو گئی تھی۔ تب  ہندوستان کیلئے وہ خراب وقت اور آسٹریلیا کے لئے اچھا ٹاس جیتنا بتایا گیا تھا لیکن یہاں  ہندوستانی کپتان وراٹ نے ٹاس جیتا لیکن کہانی وہی کی وہی رہی۔دوسرے ٹیسٹ سے قبل وراٹ نے کہا تھا کہ ٹیم اس مرتبہ پونے کی غلطیوں کو نہیں دوہرائے گی لیکن  ہندوستانی کھلاڑیوں نے او کیفے  کے سامنے تو نہیں لیون کے سامنے ضرور وہی غلطیاں دہرا ئیں۔ ہندوستانی  اننگز میں دوسرے وکٹ کے لئے 61 رن اور پانچویں وکٹ کے لیے 38 رن کی شراکت ہوئی۔ اس کے بعد تو ہندوستانی  بلے بازوں کے وکٹ گرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ہندوستان نے اپنے آخر چھ وکٹ 33 رن جوڑ کر گنوائے۔ پونے میں ہندوستان نے پہلی اننگز میں 11 رن کے وقفے میں اپنے سات وکٹ اور دوسری اننگز میں 30 رن کے وقفے میں اپنے آخری سات وکٹ گنوائے تھے۔ بنگلور میں بھی یہی صورتحال  رہی۔دوسرے ٹیسٹ سے قبل وراٹ نے کہا تھا کہ اس بار پنے کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔ لیکن ہندستانی کھلاڑیوں نے او كيفے کے سامنے تو نہیں ليون کے سامنے ضرور وہ غلطیاں دہرا دیں۔ ہندستانی اننگز میں دوسرے وکٹ کے لئے 61 رن اور پانچویں وکٹ کے لیے 38 رنز کی شراکت ہوئی۔اس کے بعد تو ہندستانی بلے باز آیا رام گیا رام کی طرز پر پویلین لوٹتے رہے۔دوسرے ٹیسٹ میں زخمی سلامی بلے باز  مرلی وجے کی جگہ ابھینو  مکند کو اوپننگ میں لایا گیا لیکن  وہ کھاتہ کھولے بغیر تیز گیند باز مشیل اسٹارک کی گیند پر تیسرے اوور میں ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔راہل اور پجارا نے دوسرے وکٹ کے لئے 61 رن کی ساجھےداری کی۔ جب ایسا لگ رہا تھا کہ یہ شراکت داری  ہندوستانی  اننگز کو مضبوط پوزیشن میں لے جائے گی تبھی لیون نے لنچ سے پہلے کے آخری اوور میں پجارا کو پیٹر ہینڈسکمب کے ہاتھوں کیچ کراکر ہندوستان کو زبردست جھٹکا دیا ۔ لنچ تک ہندوستان کا اسکور دو وکٹ پر 71 رن تھا۔لنچ کے بعد لیون نے وراٹ کو ایل بی ڈبلیو کرکے ہندوستان کو سب سے بڑا جھٹکا دیا۔ وراٹ 17 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 12 رنز بنا چکے تھے۔ لیون کی  آف بریک ٹھیک ا سٹمپ کے سامنے وراٹ کے پیڈ سے ٹکرائی جسے  امپائر نے  اپیل کرنے پرآوٹ قرار دیا۔وراٹ جانتے تھے کہ وہ آؤٹ ہو چکے ہیں اس کے باوجود انہوں نے ریویو لے کر ہندوستان کا ایک ریویو خراب کیا۔ بڑی اسکرین پر ری پلے دیکھتے ہی وراٹ بغیر امپائر کی تصدیق کیے پویلین واپس لوٹ گئے ۔ لیون نے اس طرح پانچویں بار پجارا اور وراٹ کو اپنا شکار بنایا۔راہل نے لنچ کے بعد اپنے 50 رن 105 گیندوں میں پورے کر لیے۔ انہوں نے رہانے کے ساتھ چوتھے وکٹ کے لئے 30 رن کی ساجھےداری کی۔ رہانے  ٹک کرکھیل رہے تھے لیکن جلد ہی انہوں نے بھی  اپنا وکٹ گنوا دیا۔ لیون کی آف بریک پر رہانے اتنا باہر نکل آئے کہ وکٹ کیپر میتھیو ویڈ نے لڑکھڑانے کے باوجود انہیں اسٹمپ کر دیا۔ لیون نے چوتھی مرتبہ رہانے کو آؤٹ کیا۔انگلینڈ کے خلاف پانچویں میچ میں ٹرپل سنچری بنانے والے کرو ن نائر کو دو ٹسٹ میچوں کے بعد جا کر اس میچ میں موقع ملا۔ انہیں آف اسپنر جینت یادو کی جگہ ٹیم میں شامل کیا  گیا۔ نائر نے 39 گیندوں میں تین چوکوں کی مدد سے  26 رن بنائے اور او کیفے  کی گیند پرا سٹمپ ہو گئے۔چائے کے وقفہ کے وقت ہندوستان کا اسکور پانچ وکٹ پر 168 رن تھا لیکن چائے کے وقفہ کے بعد لیون نے پانچ وکٹ حاصل کرکے ہندوستانی اننگز کو سمیٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا ۔ لیون نے اشون، ساہا اور جڈیجہ کا شکار کیا۔ ہندوستان  کے آٹھ وکٹ 188 رن پر گر ے۔راہل اپنی سنچری سے 10 رن دور تھے اور اپنی سنچری مکمل کرنے کی کوشش میں وہ خراب شاٹ کھیل بیٹھے اور میٹ رینشا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ راہل 90 رن پر آؤٹ ہونے کے بعد مایوسی کے ساتھ پویلین چل دیے۔ لیون نے اگلی گیند پر ایشانت شرما كو  آؤٹ کرکے ہندوستانی  اننگز 189 رن پر سمیٹ دی۔


زخمی شیر کنگارؤں کو دبوچنے کیلئے تیار کیا!پہلا میچ گنوانے کے بعدٹیم انڈیا واپسی کر پائے گی؟مقابلہ آج سے

03 Mar 2017

بنگلور، 03 مارچ: پونے میں ملی شکست اور پچ تنازعہ کی زبردست بحث کے بعد ہندوستانی کرکٹ ٹیم ہفتے کے روز سے یہاں ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کے ساتھ آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کے خلاف سیریز میں 1-1 کی برابری کے مقصد کے ساتھ اترے گی۔وراٹ کوہلی کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم کوا سٹیون اسمتھ کی قیادت والی آسٹریلیائی ٹیم نے پونے میں پہلے ٹیسٹ میں 333 رن کے بڑے فرق سے ہراتے ہوئے اس کا 19 ٹسٹ میچوں میں  ناقابل تسخیر برتری کا سلسلہ بھی روکا تھا۔ تاہم گھریلو میدان پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی میزبان ٹیم کی یہ شکست بہت سے معنوں  میں حیرت زدہ کرنے والی رہی تھی۔ساتھ ہی پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ کرانے والی پونے کی پچ کو بھی آئی سی سی ریفری نے بے حد خراب قرار دیا جس کے بعد ہندوستان کو اپنے ہی اسپن جال میں پھنسنے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔فی الحال جہاں پونے کی پچ کے سلسلے میں بھی  کافی سوال اٹھ رہے ہیں تو وہیں ٹیم انڈیا کے کوچ انیل کمبلے نے  یقین دلایا  ہے کہ چار میچوں کی سیریز میں صفر۔ایک سے پیچھے ہونے والی ہندوستانی ٹیم بنگلور میں شاندار  واپسی کرے گی۔ہندوستانی  ٹیم گزشتہ ٹیسٹ سیریز میں جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ جیسی بڑی ٹیموں کو شکست چکی ہے، لیکن آسٹریلیا سے پونے میں ملی شکست  نے  ہندوستانی ٹیم کی ان خامیوں کو اجاگر کیا ہے جو اب تک نظر انداز ہو رہی تھیں۔ دنیا کی نمبر دو ٹیسٹ ٹیم سے سیریز جیتنے کیلئے اسے بنگلور میں ہر حال میں جیت درج کرنی ہوگی اور اس کیلئے وراٹ اینڈ کمپنی کو بلے بازی خاص طور پر خراب اوپننگ، کیچ چھوڑنے  اور فیلڈنگ میں اصلاح کرنا ہوگا۔ پونے ٹیسٹ میں بلے بازوں نے مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 105 اور دوسری اننگز میں 107 رنز پر ہی گھٹنے ٹیک دیے جبکہ  آسٹریلیائی ٹیم کے اسپنروں نے ہندوستانی حالات کا بہتر طریقے سے فائدہ اٹھاتے  ہوئے میچ  تین ہی دن میں نمٹا دیا تھا۔وہیں اس کی خراب فیلڈنگ بھی  موضوع  بحث رہی جس میں اس کے  فیلڈروں نے مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کو  کئی مرتبہ موقعے دیے۔ گزشتہ 10 ٹسٹ میچوں میں 23 کیچ  چھوڑنے  والی ٹیم انڈیا نے صرف پونے میں ہی  آسٹریلیا کے خلاف پانچ کیچ   ڈراپ کئے ہیں جس کا اسے  خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ وہیں ایک بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ٹیم انڈیا  اب بھی بورڈ پر رن  بنانے کے لئے خاص طور سے کپتان وراٹ پر ہی منحصر  ہے۔ آسٹریلیا سے پہلے مسلسل چار سیریز میں ڈبل سنچری بنانے والے وراٹ پونے میں صفر اور 13 رنز ہی بنا سکے تھے۔ ان کے آوٹ ہوتے ہی باقی ٹیم بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔خود وراٹ نے بھی میچ کے بعد کہا تھا کہ یہ ان کی ٹیم کی گزشتہ دو سال  میں بدترین بلے بازی تھی۔ ٹیم انڈیا کی ہار میں  خراب اوپننگ بھی کافی حد تک ذمہ دار ہے جس میں مرلی وجے اور لوکیش راہل مسلسل مایوس کر رہے ہیں۔ ان کی جوڑی نے پہلی اننگز میں اوپننگ شراکت میں 26 رنز اور دوسری اننگز میں 10 رنز جوڑے۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے جب اوپننگ جوڑی  اچھی شروعات نہیں دلاسکی۔بنگلہ دیش کے خلاف حیدرآباد میں واحد ٹیسٹ میں اوپننگ شراکت میں انہوں نے دو رنز جوڑے تھے۔ اس سے پہلے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں راجکوٹ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں مرلی اور گمبھیر نے پہلی اننگز میں 68 اور دوسری اننگز میں صفر رن جوڑے۔ گمبھیر اس کے بعد ٹیم سے باہر ہو گئے۔ وشاکھاپٹنم میں پھر دوسرے ٹیسٹ میں مرلی- راہل نے پہلی اننگز میں چھ اور دوسری اننگز میں 16 رنز کی اوپننگ شراکت کی۔ اس ٹیسٹ میں مرلی نے 20 اور تین اور راہل نے صفر اور 10 رنز بنائے۔مرلی اور راہل گزشتہ کافی عرصے سے ٹیم کو مایوس کر رہے ہیں اور بلے سے ان کی کارکردگی بے حد خراب رہی ہے لیکن ٹیم کو مسلسل  ملنے والی کامیابی سے ان کی غلطیاں نظر انداز ہوتی رہی ہیں لیکن سلامی بلے بازوں کی ناکامی نے ٹیم کے باقی کھلاڑیوں پر دباؤ بنایا ہے۔ پونے میں چتیشور پجارا، اجنکیا رہانے مڈل آرڈر میں جبکہ نچلے آرڈر میں روی چندرن اشون، رویندر جڈیجہ اور ردھمان ساہا بھی  ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ایسے میں وراٹ اگر بنگلور میں بلے بازی آرڈر میں کچھ ردوبدل کرتے ہیں تو یہ ٹیم کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن کمبلے نے پھر سے رہانے پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آخری الیون میں ٹیم کا حصہ رہیں گے جس سے ٹرپل سنچری بنانے والے کرون  نائر کی اب بھی ٹیم میں جگہ ملتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ رہانے نے پونے میچ میں 13 اور 18 رنز بنائے تھے۔ وہیں اس بار سلامی بلے بازوں پر بھی کافی دباؤ رہے گا۔خود کپتان وراٹ کے لئے بھی  اپنے فارم میں واپسی کرتے ہوئے ٹیم کا حوصلہ برقرار رکھنے کا بھی چیلنج ہوگا۔ اگر گیند بازوں کی بات کریں تو اسپنروں نے پونے میں بھی توقع کے مطابق ہی مظاہرہ کیا اور اشون اور جڈیجہ نے سات اور پانچ وکٹ لئے۔ وہیں جینت یادو بھی فائدہ مندرہے تھے۔ اگر بنگلور پچ کی بات کریں تو یہاں سست ٹرنر پچ کی توقع ہے جس سے دونوں ٹیموں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ہندوستان کا چنا سوامی اسٹیڈیم میں برابر ی کا ریکارڈ ہے جہاں اس نے اب تک کل 21 ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں سے چھ ٹیسٹ جیتے ہیں، چھ ہارے ہیں اور نو ٹیسٹ ڈرا کھیلے ہیں۔ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان بنگلور میں پہلی بار ٹیسٹ میچ ستمبر 1979 میں کھیلا گیا تھا جو ڈرا رہا تھا۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں مارچ 1998 میں کھیلیں جس میں  آسٹریلیا نے آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ آسٹریلیا نے اکتوبر 2004 میں بھی ہندوستان کو اسی میدان پر 217 رنز سے شکست دی تھی. لیکن ہندوستان نے اکتوبر 2010 میں آسٹریلیا کو سات وکٹوں سے شکست دی۔تاہم یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس بار اسپنروں میں اشون یا پونے ٹیسٹ کے مین آف دی میچ اسٹیو او کيفے میں کون بہترین ثابت ہوتا ہے۔ پونے کے حالات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریلیائی اسپنر كيفے نے یہاں کیریئر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 وکٹ حاصل کئے تھے۔ ہندوستانی کوچ کمبلے نے کہا کہ وہ حالات کے حساب سے گیندبازی آرڈر  کا فیصلہ کریں گے۔امید ہے کہ اس بار بھی ٹیم پانچ گیند بازوں کے ساتھ اترے گی جس میں اسپن کی ذمہ داری اشون، جڈیجہ اور جینت پر رہے گی اور تیز گیند بازی آرڈر میں امیش یادو اور ایشانت شرما اپنی ذمہ داری ادا کریں گے ۔ امیش نے گزشتہ میچ میں چھ وکٹ لئے تھے۔ ایشانت کو اگرچہ ایک بھی وکٹ نہیں ملا  تھا لیکن انہوں نے کفایتی گیندبازی کی تھی۔دنیا کے نمبر ایک ٹیسٹ بلے باز اسمتھ کی قیادت والی آسٹریلیائی ٹیم کا شاندار جیت کے بعد حوصلے کافی بلند دکھائی دے رہا ہے اور وہ یقیناً بنگلور میں بھی پورے اعتماد کے ساتھ اترے گی۔ پونے میں 109 رن بنانے والے ا سمتھ نے ثابت کیا تھا کہ وہ یقیناً بہترین بلے باز ہیں۔اس کے علاوہ پیٹر ہینڈسکوب، میٹ رینشا، شان مارش اور ڈیوڈ وارنر جیسے اچھے بلے باز ٹیم کے پاس موجود ہیں۔ آسٹریلیا کے بہترین اسکورر رہے وارنر تاہم گزشتہ میچ میں 38 اور 10 رنز ہی بنا پائے تھے لیکن وہ اچھے کھلاڑی ہیں اور ان پر ٹیم کو مضبوط اوپننگ دلانے کی ذمہ داری رہے گی۔ گیند بازوں میں یقیناً سب کی نگاہیں ایک بار پھر کيفے پر رہیں گی جنہوں نے ہندوستان کی سر زمین پر کسی غیر ملکی ٹیم کے گیندباز کا بہترین مظاہرہ کیا تھا۔ کیفے  کے علاوہ ہندوستانی بلے بازوں کے لیے ناتھن لیون اور تیز گیند باز جوش ہیزل وڈ بھی بڑا چیلنج رہیں گے۔


کمبلے کی ساکھ کافی عرصہ بعد داؤ پر انڈیا کو بنگلور میں اپنے اسپن حملے کا صحیح استعمال کرانا ہوگا

01 Mar 2017

نئی دہلی،  ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کو پہلے کپتان وراٹ کوہلی اور اسٹیون اسمتھ کےمابین بطور جنگ دیکھا جا رہا تھا لیکن پونے ٹیسٹ کے بعد یہ جنگ ہندوستانی کوچ انیل کمبلے اور آسٹریلیائی ٹیم کے اسپن مشیر شری دھرن شری رام کے درمیان مقابلے میں بدل گئی ہے۔پونے میں پہلی بار منعقد ہوئے ٹیسٹ میچ میں اسپن کو مددگار پچ ملی تھی جس کے لئے یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ ہندوستانی گیندباز اس پچ کا پورا فائدہ اٹھائیں لیکن لیفٹ آرم اسپنر اسٹیو او کيفے نے دونوں اننگز میں چھ۔ چھ وکٹ لیتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کو 333 رن کی شرمناک شکست کا سامنا کرنے کیلئے مجبور کر دیا۔کيفے کی اس شاندار کارکردگی کا کریڈٹ آسٹریلیائی ٹیم کے اسپن مشیر رام کو دیا جا رہا ہے جنہوں نے ایک وقت آسام، مہاراشٹر اور گوا جیسی چھوٹی ٹیموں کیلئے رنجی میچ کھیلے تھے۔ پونے کے میچ سے پہلے کيفے اور رام کا نام کسی کی زبان پر نہیں تھا لیکن پونے کے میچ کے بعد اب ہر کوئی ان دونوں کی بات کر رہا ہے۔ کيفے نے بھی اپنی گیندبازی کا کریڈٹ رام کو دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی ٹیم کے پاس  بہتر ین اسپنروں میں سے ایک کوچ  انل کمبلے موجود ہیں۔ ہندوستان کے پاس ٹیسٹ رینکنگ میں روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ  دوچوٹی کے گیندباز موجود ہیں لیکن ان دونوں کھلاڑیوں کا تال میل بھی ہندو ستان کو پونے میں جیت نہیں دلاسکا۔شری رام ہندوستان میں تمل ناڈو کے لئے بھی کھیلے تھے اور جب آسٹریلیا  نے 2015 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا تو وہ آسٹریلیائی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ رام جنوبی افریقہ کے لیے فیلڈر کوچ اورا سپن مشیر رہ چکے ہیں۔ ساتھ ہی وہ دہلی ڈیئر ڈیولس کے بھی اسسٹنٹ کوچ ہیں۔اپنے کیریئر کا آغاز لیفٹ آرم اسپنر کے طور پر کرنے والے رام بطور کرکٹر  بہت زیادہ  کامیاب نہیں رہے اور ان کا کھلاڑی کے طور پر کیریئر  چیلنجنگ رہا لیکن ہندوستانی پچوں کے بارے میں ان کی معلومات آسٹریلیا کے لیے  فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رام نے کہا کہ آپ کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس دن آپ کے لیے کیا اچھا رہے گا اور مجھے لگتا ہے کہ کيفے نے اپنی تیاری اچھی کی تھی اور وہ اس استعمال کرنے کے لئے بھی تیار تھے۔ کيفے نے نیٹ پر اپنی طرف سے کچھ الگ کیا تھا جس کا انہیں فائدہ ملا۔کمبلے کے مقابلے دیکھا جائے تو رام کوئی شین وارن یا مرلی دھرن نہیں ہیں۔ ان کے کھاتے میں بھاری بھرکم وکٹوں کی تعداد نہیں ہے۔ہندوستان کے لیے چار سال میں شری رام نے صرف آٹھ ون ڈے کھیلے تھے جس میں انہوں نے 81 رنز بنائے تھے اور نو وکٹ لئے تھے۔ دوسری طرف کمبلے کو دیکھیں تو کمبلے کا پروفائل 619 ٹیسٹ وکٹوں اور 337 ون ڈے وکٹوں کی وجہ سے کافی بڑا نظر آتا ہے۔ لیکن پونے کے مقابلے میں کمبلے رام سے پیچھے نظرآئے۔میچ میں دوسرے دن کيفے نے سات اوور کئے تھے اور 23 رن دیے تھے جسے دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی خطرہ پیدا کر پائیں گے لیکن بریک کے بیچ رام کيفے کے پاس گئے تو کيفے نے ان سے کہا میں آغاز میں کچھ نروس محسوس کر رہا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا کہ اس وکٹ پر کیا کرنا چاہتے ہو۔ کيفے کا جواب تھا میں تھوڑا سا تیز گیندڈالنا چاہتا ہوں اور میں نے انہیں ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ رام کے مشورہ پر ایسا اثر ہوا کہ کيفے نے اپنے اگلے 21.1 اوور میں 12 وکٹ لے کر  ہندوستان  کی اننگز کو سمیٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ تاہم  ہندوستان کے تین دن میں ہارنے کے بعد پونے کی پچ کو لے کر زیادہ باتیں ہو رہی ہیں اور اسے آئی سی سی میچ ریفری نے خراب بھی قرار دیا ہے۔ لیکن کمبلے، اشون اور جڈیجہ  اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائے یہ سب سے بڑا موضوع ہے۔دوسرا ٹیسٹ چار مارچ سے بنگلور میں شروع ہونا ہے جس سے یہ طے ہو جائے گا کہ بارڈر-گواسکر ٹرافی کس طرف جانے والی ہے۔ کیا ہندوستان واپسی کرے گا یا آسٹریلیادو۔صفر کی برتری حاصل کرلے گا۔ یہ بھی دلچسپ هے کہ شری رام بارڈر-گواسکر اسکالر شپ حاصل کرنے والے پہلے شخص ہیں اور وہ آسٹریلیا کو اس ٹرافی کو حاصل کرنے میں مکمل کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہلا ٹیسٹ تین دن میں ہارنے کے بعد کمبلے پر مزید ذمہ داری آ گئی ہے کہ وہ رام کا توڑ ڈھونڈے اور ہندوستان کو سیریز میں واپسی دلائیں۔ بنگلور کے ایم چنا سوامی اسٹیڈیم کی پچ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ یہ اسپورٹنگ پچ ہے جو بلے اور گیند میں برابر کا توازن رکھے گی۔ کمبلے کی ساکھ کافی عرصہ بعد داؤ پر لگی ہے اور انہیں بنگلور میں اپنے اسپن حملے کا صحیح استعمال کرانا ہوگا۔


ورون اور شکلا نے جھارکھنڈ کو دلچسپ جیت دلائی

01 Mar 2017

کولکتہ، تیز گیند بازوں ورون آرون اور راہل شکلا نے چار چار وکٹیں لے کر جھارکھنڈ کو سوراشٹر کے خلاف  وجے  ہزارے ٹرافی گروپ ڈی میچ میں بدھ کو چھوٹے اسکور والے مقابلے میں 42 رنز سے جیت دلاکر اس کا کوارٹر فائنل کیلئے دعویٰ مضبوط کر دیا۔جھارکھنڈ کی ٹیم 27.3 اوور میں محض 125 رن پر آوٹ ہوگئی لیکن کپتان مہندر سنگھ دھونی نے اپنی بہترین  سوجھ بوجھ سے  سوراشٹر کو 25.1 اوور میں 83 رنز پر سمٹ دیا ۔ ہندوستان  میں سب سے تیز گیند پھینکنے کا ریکارڈ اپنے نام رکھنے والے ورون آرون نے 10 اوور میں محض 20 رنز دے کر چار وکٹ حاصل کئے  جبکہ شکلا نے 8.1 اوور میں 32 رن پر چار وکٹ لیا۔جسکر ن سنگھ نے 29 رن پر دو وکٹ لئے۔جھارکھنڈ کو اس جیت سے چار پوائنٹس ملے۔ جھارکھنڈ کی گروپ ڈی میں چار میچوں میں یہ تیسری جیت ہے جبکہ سوراشٹر کو مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سوراشٹر کی ٹیم اس شکست کے بعد ناک  آوٹ کوارٹر فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ جھارکھنڈ نے 12 پوائنٹس کے ساتھ کوارٹر فائنل کیلئے اپنا دعوی مضبوط کر لیا۔ جھارکھنڈ کی اننگز میں سلامی بلے باز  اشان کشن نے 40 گیندوں میں پانچ چوکے اور چار چھکے اڑاتے ہوئے 53 رن بنائے۔ کپتان دھونی نے 22 گیندوں میں ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 22 رن بنائے۔ شوریہ سانديا نے 47 رن پر پانچ وکٹ اور کشانگ پٹیل نے 39 رن پر چار وکٹ لئے۔سوراشٹر کی اننگز میں شیلڈن جیکسن نے 20 اور سنیل پٹیل نے 15 رنز بنائے۔ سوراشٹر کی آدھی ٹیم 50 رنز تک پویلین لوٹ گئی تھی اور پوری ٹیم 83 رنز پر سمٹ گئی۔ کپتان دھونی نے وکٹ کے پیچھے چار کیچ لے کر ٹیم کو جیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔


وجے ہزارے ٹرافی میں دھونی کی طوفانی سنچری شہباز ندیم کی آل راؤنڈر کارکردگی کی بدولت جھارکھنڈ فاتح

26 Feb 2017

کولکتہ، 26 فروری (یو این آئی)شہباز ندیم کی آل راؤنڈ کارکردگی (53 رن اور 36 رن پر 3 وکٹ )اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی 129 رنز کی طوفانی اننگز نے  جھارکھنڈ کو چھتیس گڑھ کے خلاف وجے ہزارے ٹرافی گروپ ڈی میچ میں اتوار کو ایڈن گارڈن میں 78 رنز سے جیت دلادی۔دھونی نے محض 107 گیندوں میں 10 چوکے اور چھ چھکے اڑاتے ہوئے 129 رنز بنائے۔ دھونی کی اس اننگز کی بدولت جھارکھنڈ نے 50 اوور میں نو وکٹ پر 243 رن کا اسکور بنایا جس کے جواب میں چھتیس گڑھ کی ٹیم 38.4 اوور میں 165 رن پر سمٹ گئی۔سابق ہندستانی کپتان دھونی کو حال میں آئی پی ایل ٹیم پنے کی کپتانی سے بھی ہٹا دیا گیا تھا جس کے بعد وہ اس ٹورنامنٹ میں جھارکھنڈ کی کپتانی سنبھالنے اترے۔35 سالہ دھونی نے گزشتہ میچ میں 43 رنز بنائے تھے اور اس بار انہوں نے طوفانی سنچری بنائی۔دھونی کی لسٹ اے میں یہ 17 ویں سنچری تھی ۔دھونی کے دبدبے کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک وقت جھارکھنڈ کے چھ وکٹ محض 57 رن پر گر چکے تھے لیکن دھونی نے اسپنر شہباز ندیم (53) کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے 151 رنز کی زبردست شراکت قائم کی۔دھونی نے 10 شاندار چوکے اور چھ چھکے لگائے۔ انہوں نے 76 رنز تو باؤنڈری سے ہی بنا دیے۔جھارکھنڈ کے اسکور میں نصف سے زائد کی شراکت دھونی کی رہی۔ چھتیس گڑھ کی ٹیم 38.4 اوور میں 165 رن پر سمٹ گئی۔کپتان محمد کیف نے 23 اور کانت سنگھ نے 24 رنز بنائے۔ ورون آرون نے 26 رن پر تین وکٹ اور ندیم نے 36 رن پر تین وکٹ لئے۔جھارکھنڈ کو دو میچوں میں پہلی جیت مل گئی۔گل کی سنچری، یوراج کا صفر، ہارا پنجابنئی دہلی، بھم گل (121) نے شاندار سنچری بنائی جبکہ اسٹار بلے باز یوراج سنگھ کھاتہ کھولے بغیر لڑھک گئے اور پنجاب کو آسام کے ہاتھوں وجے ہزارے ٹرافی گروپ اے میچ میں اتوار کو تین وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔پنجاب نے یہاں فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں 49.4 اوور میں 243 رنز بنائے۔آسام نے 48.4 اوور میں سات وکٹ پر 247 رنز بنا کر میچ جیت لیا۔پنجاب کو دو میچوں میں پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پنجاب کے لیے شبھم گل نے 129 گیندوں پر 11 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 121 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔17 سال کے گل کا یہ دوسرا لسٹ اے میچ تھا۔گل نے گزشتہ میچ میں 11 رنز بنائے تھے اور اس بار انہوں نے سنچری بنائی ۔ گل نے اس سے پہلے انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف ممبئی میں ناٹ آؤٹ 138 اور 160 رنز کی اننگز کھیلی تھیں۔یوراج کھاتہ نہیں کھول پائے جبکہ گرپيرت سنگھ نے 58 اور کپتان ہربھجن سنگھ نے 20 رنز بنائے۔پریتم داس اور اروپ داس نے تین تین وکٹ لئے۔آسام نے کپتان ارون کارتک (63) اور امت ورما (65) کی نصف سنچریوں سے 48.4 اوور میں سات وکٹ پر 247 رنز بنا کر میچ جیت لیا۔سندیپ شرما نے 52 رن پر تین وکٹ اور ہربھجن نے 42 رن پر دو وکٹ لئے۔تمل ناڈو نے یوپی کو دی سات وکٹ سے شکستکٹک، گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کے بعد دنیش کارتک (ناٹ آؤٹ 56) اور کپتان وجے شنکر (ناٹ آؤٹ 58) کی بہترین نصف سنچریوں سے تمل ناڈو نے اتر پردیش کو وجے ہزارے ٹرافی گروپ بی میچ میں اتوار کو یک طرفہ طور پر  133 گیند باقی رہتے سات وکٹ سے ہرا دیا۔اتر پردیش کی ٹیم 36 اوور میں 159 رن پر سمٹ گئی جبکہ تمل ناڈو نے 27.5 اوور میں تین وکٹ پر 160 رنز بنا کر اپنی مسلسل دوسری جیت درج کر لی۔تمل ناڈو کے اب آٹھ پوائنٹس ہو گئے ہیں۔اترپردیش کے لیے اوپنر سمرتھ سنگھ نے 28 گیندوں میں تین چوکوں کی مدد سے 22 رن، سرفراز خان نے 47 گیندوں میں 31 رن اور رنکو سنگھ نے 41 گیندوں میں تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 37 رنز بنائے۔اشون کرسٹ، ایم محمد اور راہل شاہ نے دو دو وکٹ لئے ۔گزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے کارتک نے اس بار 63 گیندوں میں آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ناٹ آوٹ 56 اور وجے شنکر نے 48 گیندوں میں سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ناٹ آوٹ 58 رن بنا کرتمل ناڈو کو آسان جیت دلادی۔دہلی 154 پر ڈھیر ہماچل جیتابھونیشور،  سلامی بلے باز پرشانت چوپڑا کی 159 رنز کی طوفانی اننگز اور دھیرج کمار (24 رن پر پانچ وکٹ) کی شاندار گیند بازی سے  ہماچل پردیش نے دہلی کو وجے ہزارے ٹرافی گروپ بی کے میچ میں اتوار کو 185 رنز کے بڑے فرق سے ہرادیا۔ہماچل نے 50 اوور میں آٹھ وکٹ پر 339 رن کا بڑا اسکور بنایا جس کے دباؤ میں دہلی کی ٹیم 37 اوور میں 154 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔دہلی کو دو دن میں مسلسل دوسری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دہلی کو کل تمل ناڈو نے 42 رنز سے شکست دی تھی۔ہماچل کو دو میچوں میں اپنی پہلی جیت سے چار پوائنٹس حاصل ہوئے۔اس میچ میں اسٹار اوپنر شکھر دھون اور تیز گیند باز آشیش نہرا کھیلنے نہیں اترے۔اوپنر اور سابق کپتان گوتم گمبھیر کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہو گئے۔ٹیم کے 19 سال کے کپتان رشبھ پنت کے نوجوان کندھوں پر کپتانی کا دباؤ صاف نظر آیا اور وہ صرف دو رن ہی بنا سکے۔پنت مسلسل دوسرے میچ میں فلاپ رہے۔