جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper


سب سیا ست کی فتنہ گری ہے

27 Feb 2017

اکھل بھا رتیہ ودیا ر تھی پر یشد(اے بی وی پی )کے خلاف حال ہی میں سوشل میڈیا پر مہم چلانے والی کارگل شہید کی بیٹی گرمهر کور نے اب ٹوئٹر پر ویڈیو پوسٹ کیا ہے. اس ویڈیو میں گرمهر ایک تختی کے ساتھ نظر آئیں. اس پر لکھا تھا، "میرے والد کو پاکستان نے نہیں، جنگ نے مارا تھا." اس پر وریندر سہواگ اور کرن ریجیجو نے الگ الگ ٹویٹ کر اعتراض کیا. ادھر، گرمهر نے یہ الزام بھی لگایا کہ انہیں اے بی وی پی کی جانب سے ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں. اس معاملے میں انہوں نے وومن کمیشن میں شکایت درج کرائی ہے. گرمهر لیڈی شری رام کالج کی اسٹوڈنٹ ہیں. انہوں نے کہا ہے، میں ڈروںگي نہیں. والد نے ملک کے لئے گولی کھائی. میں بھی ملک کے لئے گولی کھانے کے لئے تیار ہوں. "دھمکی بھرے میسج مل رہے ... ایک نیوز ایجنسی نے گرمهر کے این ڈی ٹی وی کو دیئے انٹرویو کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسے دھمکی بھرے میسج مل رہے ہیں. کور کا کہنا ہے، "سوشل میڈیا پر مجھے کافی دھمکی مل رہی ہے. مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت غلط ہے، جب لوگ آپ کو تشدد یا ریپ کی دھمکی دیتے ہیں. انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کے نام پر ریپ کی دھمکی دینا درست نہیں ہے. "- "میری مہم سے ناراض لوگ میری فرینڈس کو بھی ریپ کے دھمكياں دے رہے ہیں. مجھے اینٹی نیشنل کہا جا رہا ہے اور میرا مذاق اڑایا جا رہا ہے." انڈین ایکسپریس کے مطابق، ریپ کی دھمکیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر گرمهر نے کہا، "میں نہ تو ڈروںگي اور نہ ہی جھكوںگي، میرے والد نے ملک کے لئے گولی کھائی اور میں بھی ملک کے لئے گولی کھانے کے لئے تیار ہوں. " "پتھر عمر خالد پر نہیں پھینکے گئے تھے، وہ وہاں موجود ہی نہیں تھا، پتھر اسٹوڈنٹس پر برسائے گئے تھے جو وہاں موجود تھے." "میں اپنے ملک اور اپنے ساتھیوں کو پیار کرتی ہوں اور میں ان کے بولنے کی آزادی کا سپورٹ کرتی ہوں."- "اے بی وی پی یا کوئی بھی طالب علم تنظیم ہو، کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ قانون کا نظام اپنے ہاتھ میں لے." اسی دوران سواتی ماليوال، صدر، دہلی وومن کمیشن نے کہا ہے کہ "گرمهر کور کو ریپ کی دھمکی دینے والوں کے خلاف پولیس کو کارروائی کرنی چاہئے اور مثال پیش کرنی چاہئے." کارگل جنگ میںاپنے والد کی شہادت پر گرمهر نے اپنے نئے ویڈیو میں تختی پر لکھا تھا- میرے باپ کو پاکستان نے نہیں، جنگ نے مارا تھا.اس کے جواب میں کر کیٹر وریندر سہواگ نے بھی ٹویٹر پر تختی کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ ڈالی. اس پر لکھا ہے، "دو ٹرپل سنچري میں نے نہیں ماری تھی، یہ میرے بیٹ نے لگائی تھی."مر کزی وزیر مملکت برائے دا خلہ کرن ریجیجو  بھی اس بحث میں اُلجھ پڑے ہیں۔انہوں نے کہا، "اس اسٹوڈنٹ کا دماغ کس نے خراب کیا؟ نیشنلزم کو ڈیفا ئن نہیں کیا جا سکتا. لیکن جو دہشت گردوں کو سپورٹ کریں گے، انہیں تو اینٹی نیشنل ہی کہا جائے گا."فریڈم آف ایکسپریشن (بولنے کی آزادی) کی آڑ میں کچھ سٹوڈنٹس ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں."پتہ نہیں کچھ لو گوں کے چھو ٹی سی با ت کہنے پر بھی ہمارے کئی ’’بڑوں‘‘ کو ملک کی وحدت اور سالمیت خطرے میں کیوں نظر آنے لگتی ہے۔کیا وا قعی چند بو لیوں سے ملک کے ٹو ٹنے کا خطرہ پیدا ہو جاتاہے؟یہ معا ملہ در اصل ہے کیا ،جس کو لے کر کھلاڑی سے لے کر وزیر تک اُبل پڑے ہیں۔گزشتہ دنوں دہلی کے رامجس کالج میں بدھ کو AISA اور ABVP کے سپورٹرس کے درمیان متشددانہ جھڑپ ہوئی تھی. یہ جھگڑا دہلی سے پونے بھی جا پہو نچا- اس تشدد کے خلاف گرمهر نے 22 فروری کو اپنا فیس بک پروفائل تصویر تبدیل کیا۔ نئے پروفائل کی تصویر میں وہ ایک تختی پکڑے ہوئے نظر آئیں. اس پر #Students Against ABVP hashtag کے ساتھ لكھا- "میں دہلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں. ABVP سے نہیں ڈرتی. میں اکیلی نہیں ہوں. ہندوستان کا ہر اسٹوڈنٹ میرے ساتھ ہے."- گرمهر نے پوسٹ میں لكھا- "ABVP کابے گناہ اسٹوڈنٹس پر کیا گیا حملہ پریشان کرنے والا ہے اور اسے روکا جانا چاہئے. یہ حملہ احتجاج کر رہے لوگوں پر نہیں تھا، بلکہ یہ ڈیموکریسی کے ہر اس خیال پر حملہ تھا، جو ہر ہندوستانی کے دل کے قریب ہے. اس کے آدرشوں، آزادی اور ملک کے ہر شخص کے حق پر حملہ تھا. "جو پتھر آپ پھینکتے ہو، وہ ہمارے جسم کو چوٹ پہنچاتے ہیں، لیکن یہ ہمارے نظریات کو چوٹ نہیں پہنچا سکتے. اس پروفائل کی تصویر خوف اور ناانصافی کے خلاف احتجاج ظاہر کرنے کا میرا اپنا طریقہ ہے." گرمهر نے 22 فروری کو فیس بک پوسٹ شئر کیا. ان کے ساتھ پڑھنے والے سٹوڈنٹس اور دوستوں نے بھی اسے اشتراک کیا. پوسٹ وائرل ہونے پر ملک بھر کی کئی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس نے ایسی ہی تختی والی پروفائل تصویر اکاؤنٹ پر لگائی ہے. دہلی کے رامجس کالج میں بدھ کو AISA اور ABVP کے سپورٹرس کے درمیان ہو ئی جھڑپ کی وجہ کالج میں ہونے جا رہا ایک سیمینارتھا. اس میں جے این یو کے اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد اور شہلا راشد کو بلایا گیا تھا.- ABVP کو جے این یو اسٹوڈنٹ کو مد عو کرنےپر اعترا ض تھا. اس کے بعد کالج ایڈمنسٹریشن کو سیمینار کینسل کرنا پڑا.کالج کے باہر ہوئی پرتشدد جھڑپوں کے دوران پولیس کے رویہ پر سوال اٹھے، جس کے بعد 3 پولیس والوں کو غیر پیشہ ورانہ رویے کے لئے معطل بھی کیا گیا.یہ معمولی سی بات شاید زور نہ پکڑتی اگر اسمبلیوں کے انتخاب نہ ہو رہے ہو تے۔سب سیا ست کی فتنہ گری ہے۔پونے میں بھی ABVP دوسرے گروپ سے بھڑي- جمعہ رات پونے میں بھی اے بی وی پی اور طالب علم فیڈریشن آف انڈیا کے مےبرس میں جم کر مار پیٹ ہوئی.- تنازعہ یونیورسٹی میں پوسٹر لگانے کو لے کر شروع ہوا. پولیس نے 8 سٹوڈنٹس کو گرفتار کیا.- بے شک، گزشتہ دنوں بی جے پی ایم ایل سی پیسیفک پرچارك نے فوجیوں کی بیویوں کو لے کر قابل اعتراض بیان دیا تھا.- اس کے خلاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا نے 27 فروری کو ایک پروگرام منعقد کیا ہے. اس پوسٹر بھی یونیورسٹی میں لگائے گئے تھے.- SFI کا الزام ہے کہ پوسٹر لگاتے وقت اے بی وی پی کے قریب دو درجن اسٹوڈنٹس نے بغیر کچھ پوچھے حملہ بول دیا.


آرمی بحالی میں گھپلہ

26 Feb 2017

کرائم برانچ نے پونے، ناگپور، ناسک اور گوا سے سنیچر کی رات کو 350 اسٹوڈنٹس اور 18 ملزمان کو آرمی بحالی امتحان کے پر چہ لیک کے شک میں حراست میں لیا ہے. گر فتاری کے بعد یہ معلومات پولیس نے آرمی کو دی.آرمی ریکروٹمنٹ  کے ایکزام کا پر چہ لیک ہونے کے بعد پورے پونے سرکل کے سینٹروں پر مختلف عہدوں کے لئے منعقدہو نے والےامتحانات کو منسوخ کر دیا گیا ہے. آرمی ریکروٹمنٹ بورڈ کے امتحان ہونے سے ایک دن پہلے پرچی لیک ہونے کی اطلاع ملی تھی. کرائم برانچ نے اس معاملے میں اتوار کو 18 افراد کو گرفتار کیا ہے.پر چہ لیک ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد تھانے کرائم برانچ نے مہاراشٹر اور گوا میں چھاپہ ماری کی اور پونے، ناگپور، ناسک اور گوا میںسنیچر کی رات کو 350 اسٹوڈنٹس کو حراست میں لیا گیا تھا. جن مرا کز پر امتحان منسوخ کئے گئے ہیں ان میں- ناگپور، احمدنگر، احمد آباد، گوا، كركے، كمپٹي شامل  ہیں۔تھانے کرائم برانچ کے سینئرپولیس انسپکٹر نتن ٹھاکرےکے حوالے سے میڈیا میں آئی خبروں میں بتا یا گیا ہے کہ طالب علموں کو مبینہ طور پر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلانے والوںکے  ذر یعہ سوال کا پر چہ دیا تھا. گرفت میں آئے امیدواروں کو ایک لاج میں لیک پرچے کی انسر شیٹ بھرتے ہوئے پایا گیا. پولیس کو شک ہے کہ اس جرم میں فوج کے کچھ لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں. پولیس کے مطابق امیدواروں نے ملزمان کو لیک ہوئے پر چے کے عوض 2 لاکھ روپے دئیےتھے.اس معاملے میں تحقیقات جاری ہے.پر چہ لیک ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد آرمی کو اس سلسلے میں معلومات دی گئی. وہیں، آرمی ریکروٹمنٹ بورڈ نے پر چہ لیک ہونے کے بعد پونے سرکل کے مراکز پر منعقد امتحان کو منسوخ کر دیا. مبینہ طور پر آرمی نے اس معاملے میں اندرونی تحقیقات کا حکم بھی دیا اور آگے کی کارروائی ، تحقیقات کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد کی جائے گی. اتوار کو ملک بھر کے 52 سینٹرز پر لوؤر لیول جن میں سولجر کلرک،ا سٹرانگ مین، ٹریڈس مین کے عہدوں پر بھرتی کے لئے امتحان کا انعقاد کیا گیا.رپورٹس کے مطابق چھاپہ ماری کے دوران حیران کرنے والی بات سامنے آئی ہے. معلومات کے مطابق جن 18 لوگوں کو تھانے پولیس نے حراست لیا تھا. ا ن میں 2 لوگ آرمی بیک گراؤنڈ کے ہیں. تھانے پولیس کا کہنا کہ بغیر آرمی کے افسران کی ملی بھگت کے یہ ممکن نہیں ہے.یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ آرمی کا سب سے بڑا بیس مہاراشٹر میں ناگپور اور پونے میں ہے اور گوا کا جو آرمی بیس ہے وہ گوا میں ہے. اس لئے پولیس نے ان 3 جگہوں پر چھاپہ ماری کی ہے. چھاپہ ماری کے لیے تقریبا 10-15 ٹیمیں کرائم برانچ نے بنائی تھی.فوج کی بحالی میں اتنی بڑی گھس پیٹھ شائد اس سے قبل نہیں ہو ئی ہے۔مدھیہ پر دیش کے ویاپم گھو ٹالے کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں یہ اب تک کا سب سے بڑا بحالی گھو ٹالہ ہے،مگر بڑے پیمانے پرہو رہی چھان بین کے با وجود اب تک اصل قصورواروں کا چہرہ اُجا گر نہیں ہو سکا ہے۔پونےفوج بحالی گھو ٹالے میں بھی اصل سچ سا منے آسکے گا یا نہیںکہنا مشکل ہےلیکن بیشک پونے پولس کی کرائم برانچ نے عین وقت پر کا روائی کرکےجس طرح فوجی بحالی گھو ٹالہ میں ملو ث لو گوں کو گر فتار کیاہے،وہ انتہا ئی قابل تعریف ہے۔ چو نکہ معاملہ فوج کا ہو نے کی وجہ سے انتہا ئی سنگین اور حساس ہے اس لئے یہ امید تو نہیں رکھی جا سکتی کہ آرمی نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات کا جو حکم جا ری کیا ہے اس کے نتیجے بھی عوام کے سا منے آسکیں گے۔آرمی بحالی کا کام انتہائی منظم طریقے سے فو جی نگرانی میں ہو تاہے،اس لئےپولس کا یہ مانناغلط نہیں ہو سکتا کہ بغیر آرمی کے افسران کی ملی بھگت کے یہ ممکن نہیں ہے.فوج کی نوکری عام نو کریوں جیسی نہیں ہے کہ بس نوجوان اپنی بے روزگاری دورکرنے کے لئے فوج کی نو کری حا صل کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اس سے کچھ بڑی سوچ کے ساتھ لوگ فوج کی  نو کری حا صل کرنا چا ہتےہیں،مگر اب فو جی بحالی میں ایسا گھو ٹالہ اُجا گر ہو نے کے بعد کیا کہا جاسکتا ہے!اس گھو ٹالہ کے اصل قصورواروں کی شنا خت کر کے اسے سخت سزا دینا ضروری ہے تاکہ ہماری فوج کی نیک نامی،متا ثر ہو نے سے بچی رہے۔


فرقہ پرستی کے خلاف

24 Feb 2017

 پچھلے سال مغربی بنگال کے انتخاب کے موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح ریاست میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی تھی اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حالانکہ اسمبلی انتخاب میں مغربی بنگال کی عوام نے فرقہ واریت کو پوری طرح ٹھکراتے ہوئے ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی کو بھاری اکثریت سے اسی طرح کامیاب بنادیا جس طرح 2011میں ٹی ایم سی کو کامیاب بنایاتھا۔ اس وقت حالات دوسرے تھے۔ 35برسوں سے ریاست پر کمیونسٹ جماعتوں کی حکمرانی چل رہی تھی۔ نندی گرام جیسے واقعات نے عوام کو کمیونسٹ حکومتوں سے ناراض کر رکھا تھا ۔ ممتا بنرجی نے اس ناراضگی کا جم کر فائدہ اٹھایااور ریاست کے کونے کونے میں پہنچ کر عوام کی ہمدردی حاصل کی ۔ جس کے نتیجے میں 35سالہ کمیونسٹ راج کا مغربی بنگال سے خاتمہ ہوگیا۔ ممتا نے پانچ سال بڑی شان و شوکت اور کامیابی کے ساتھ حکومت چلائی۔ 2016میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ممتا کو شکست دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور ایک کردیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ 2014کے لوک سبھا انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں بے حد طاقتور سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی اور نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت قائم ہو ئی تھی۔ بھاجپائیوں کو لگ رہا تھا کہ جس طرح ملک بھر میں بھاجپا نے کامیابی پائی ہے، اسی طرح مغربی بنگال اسمبلی کے انتخاب میں بھی وہ ممتا کو اکھاڑ پھینکیںگے۔ لیکن ممتا وہ چٹان ثابت ہوئیں، جس سے ٹکرا کر بھاجپا کو اپنا ہی سر پھوڑنا پڑا۔ 2016 میں ممتا کی دوسری با ر حکومت قائم ہو نےکے باوجود بھا جپا نے ریاست میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کا کام جاری رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی بار کلکتہ کے آس پاس کے علاقوں میں فرقہ وارانہ فساد کی نوبت آئی ۔ لیکن مقامی باشندوں کی سمجھداری اور ریاست کی پولس و انتظامیہ کی بروقت کارروائی نے چنگاری کو شعلہ بننے سے روکا۔ پچھلے دنوں جب جدید بھارت نے ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد سے ٹیلیفونک انٹر ویو کے دوران مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ حالات کے تعلق سے سوال کیا تھا تو انہوںنے بھی یہی کہا تھا کہ سازشیں تو بہت ہورہی ہیں، لیکن اب تک کوئی ایسا فساد نہیں ہوا ہے، جس میں پولس کو گولی چلانی پڑی ہو۔ یہ ماننے میں کسی کو دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ مغربی بنگال کی ممتا حکومت فرقہ واریت کو لیکر کافی چوکس ہے۔ اور اچھی بات یہ بھی ہے کہ جمعیت علما جیسی تاریخی تنظیم کے یہاں کے عہدیداروںنے بھی فرقہ واریت سے نمٹنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ مغربی بنگال میں فرقہ واریت پھیلانے کی مہم کا مقابلہ کرنے کے لئے مغربی بنگال جمعیت علما نے ریاست بھر میں تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے ائمہ مساجد اور مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران سے مساجد و مدارس کے دروازے برادران وطن کے لئے کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے سماجی تعلقات بڑھایاجانا چاہئے۔ اس کے لئے سماجی ، ثقافتی اور طبی پروگراموں کا انعقاد کرکے انہیں اپنے یہاں مدعو کریں ۔ تا کہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے ۔ پچھلے روز شہر کلکتہ کے مہاجتی سدن میں منعقد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کانفرنس میں مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر بیمان بنرجی نے ملک بھر میں مذہبی رواداری اور اظہار خیال کی آزادی کو ختم کرنے کی کوششوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آئین ہند کے آرٹیکل 25اور28میں ملک کے تمام شہریوں کو اپنے مذاہب ،تہذ یب و ثقافت پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اس آزادی کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے صاف اعلان کیا کہ ایک ذمہ دارشہری کی حیثیت سے ملک کے تمام شہریوں پرآئین اور اس کی روح کا تحفظ کرنا فرض ہے۔ اور اس کے لئے کوشش کرنا چاہئے ۔ بیمان بنرجی نے بلا تامل اعتراف کیا کہ سیاسی مفادات کے لئے نوجوانوں میں فرقہ واریت کا زہر گھولاجارہا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف ملک کے تمام سیکولر ، وطن پرست اور دانشوروں کو مل کر جدو جہد کرنی ہو گی۔ بیمان بنرجی نے قرآن کریم کی ایک آیت کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر حاضرین مجلس کو بتایا کہ قرآن کا پیغام انسانیت کا پیغام ہے۔ قرآن نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے دنیا کے سامنے بہترین لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام مذاہب میں اخوت، بھائی چارگی، رواداری اور ہم آہنگی کا سبق دیاگیا ہے۔ جمعیت العلمامغربی بنگال کے صدر اور ممتا بنرجی کابینہ میں لائبریری و ماسک ایجوکیشن محکمہ کے وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) مولانا صدیق اللہ چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے۔ مگر کچھ انسانیت دشمن طاقتیں اسلام کی شبہات بگاڑ کر ملکی و عالمی سطح پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں بھی فرقہ پرست قوتیں ملک کو تباہ کرنے کے لئے نفرت پھیلارہی ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ مغربی بنگال میں حکمرانوں اور دانشوروں کے حالات کی سنگینی کا اچھی طرح احساس ہے۔ اور یہ ماننے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ جب تک حکومتیں اور دانشور طبقہ چوکس و ہوشیار رہے گا، فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اس کے لئے ہم حکومت مغربی بنگال اور وہاں کی جمعیت العلما دونوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔


معاملہ ٹیکس ادائیگی کا

22 Feb 2017

ریاستی حکومت نے منگل 21؍ فروری کو کابینہ میٹنگ میں جھارکھنڈ نگر پالیکا ٹیکس ادائیگی ضابطہ 2017 کو منظوری دیدی ۔ اس کے تحت اب ٹیکس وصولی کے لئے مقامی بلدیا ت کو غیر منقولہ املاک نیلام کرکے ٹیکس کی رقم وصول کرنے کااختیار حاصل ہو گیا ہے۔ نوٹس ملنے کے باوجود اگر بقایہ اداروں نے ایک ہفتہ کے اندر ٹیکس جمع نہیں کیا تو انہیں بقایہ رقم کاایک فیصد جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ دو ہفتہ تک دو فیصد اور اگر پورے ماہ تک نہیں دیا تو تین فیصد اور دو ماہ سے بھی زائد کی مدت گزر گئی تو جرمانے کی رقم پانچ فیصد ہو جائے گی۔ دو ماہ کی مدت ختم ہونے پر ہر ایک ماہ کے لئے دو فیصد اضافہ جرمانے کی رقم وصول کی جائے گی۔ بقائے کی رقم کی وصولی کے لئے بقایہ داروں کی منقولہ املاک مثلاً کار ، موٹرسائیکل، بس ، ٹرک وغیرہ ضبط کرکے نیلامی کرنے کااختیار مقامی بلدیہ کو حاصل ہو گیا ہے۔ اس نیلامی سے ملنے والی رقم میں سے ٹیکس کی وصولی کرکے باقی رقم بینک میں جمع کرادی جائے گی۔ نگر پالیکا ایکٹ 2011میں عمارتوں کی خالی زمین پر بھی ٹیکس لگانے کا اہتمام ہے۔ اس کے علاوہ اشتہارات پر اور تفریحات پر سیس لگانے کااہتمام بھی ہے۔مقامی بلدیات کا کہناہے کہ ٹیکس اور سیس کی وصولی مناسب طریقے سے نہیں ہونے کی وجہ سے ان کی مالی پوزیشن خستہ رہتی ہے۔ اسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بلدیات کو اضافی قوت دینے کے لئے ٹیکس ادائیگی ضابطہ 2017 کو حکومت کی منظوری ملی ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ املاک پر لگایا جانے والاٹیکس اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں عائد کیا جانے والاجرمانہ وصول کرنے میں مقامی بلدیات کتنی سرعت دکھاتے ہیں۔ کیونکہ عموماً ہوتا یہ رہا ہے کہ املاک ٹیکس کی وصولی کے لئے بلدیات کے عملے مطلوبہ لوگوں تک پہنچتے ہی نہیں ہیں ۔رانچی جیسے شہر میں املاک ٹیکس کی وصولی کے لئے پچھلے چند برسوں میں آئوٹ سورسنگ پر انتظام کئے گئے ہیں۔ جن لوگوں کو اس کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، وہ اپنے کار ندوں کو گھر گھر بھیج کر ہائوس ٹیکس کی وصولی کرواتے ہیں۔ بدلے میں انہیں میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ طے شدہ مخصوص رقم ادا کی جاتی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ نظام بھی کامیاب ثابت نہیں ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں جب پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ کیاگیا اور ادائیگی کی آخری تاریخ کا اعلان کیا گیا تو ہزاروں لوگ بقایہ ادا کرنے کے لئے کارپوریشن دفتر میں اکٹھے ہوگئے۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ کوئی بھی پراپرٹی مالک ٹیکس ادائیگی کا منکر نہیں ہے۔ لیکن جب وہ ٹیکس ادا کرنے کے لئے کارپوریشن کے دفتر پہنچتا ہے تو اسے وہاں پر پیسے وصول کرنے والاکوئی کارندہ ملتا ہی نہیں ہے، ملتا بھی ہے تو بعد میں آنے کو کہہ دیا جاتا ہے۔ آخر کوئی پیسہ جمع کرانے کے لئے کتنی بار کارپوریشن دفتر کی دوڑ لگا سکتا ہے ۔ کئی بار یہ شکایت سننے میں بھی آئی ہے کہ کارپوریشن دفتر میں ٹیکس وصول کرنے والے عملے حقیقی ٹیکس سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیںاور چونکہ معاملہ پراپرٹی سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لئے لوگ اپنی بلڈنگ ،مکان، زمین جیسے قیمتی اثاثے کو بچائے رکھنے کے لئے منھ مانگی ناجائز رقم ادا کرکے بھی رسید کٹواتے ہیں۔ حکومت نے جو جھارکھنڈ نگر پالیکا ٹیکس ادائیگی ضابطہ 2017منظور کیا ہے ، اس سے صرف اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عام مکان ، بلڈنگ ، زمین ،مالک ٹیکس اداہی نہیں کرنا چاہتے۔ حالانکہ یہ مکمل سچائی نہیں ہے۔ ٹیکس وصولی کا سسٹم ہی درست نہیں ہے۔ اس لئے کئی کئی بر س ٹیکس کی رقم جمع نہیں ہوپاتی ہے۔ ٹیکس میں اضافے یا ادائیگی میں تاخیر پر جرمانہ کااہتمام کر دینے سے اس معاملے میں کتنا فرق پڑے گا ، یہ تو آنے والاوقت بتا ئے گا۔ آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ حکومت خود بھی زیادہ تر محکموں میں آن لائن ورک پر زور دے رہی ہے۔ اور کیش لیس سسٹم کے قیام کے لئے آن لائن ادائیگی کے بندو بست کو بھی رواج دینے کی بھر پور کوشش کررہی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ لوگوں کو ٹیکس ادائیگی کے لئے ان کے موبائل فون پر نوٹس جاری کرنے کا اہتمام کیاجائےاور انہیں یہ سہولت مہیا کرائی جائے کہ وہ گھر بیٹھے ہی اپنے کریڈٹ کارڈ سے یا موبائل فون کے دیگر ایپ سے ٹیکس ادا کرسکیں۔ اس سے ایک جانب جہاں لوگوں کو ٹیکس ادا کرنے کے لئے میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے چکر لگانے سے نجات ملے گی ، وہیں وہ ناجائز ادائیگی سے بھی بچ سکیںگے ۔


خوشحال ریاست کا سپنا پورا ہوگا

17 Feb 2017

جب ارادہ پختہ اور نیت صاف ہو ،تو کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے یہ ثابت کرکے دکھادیا ہے ۔دو سال قبل ریاست کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی وہ لگاتار ریاست سے غربت کے خاتمہ کی بات کرتے رہے ہیں ، وہ کہتے رہے ہیں کہ یہاں سے مزدوروں کی منتقلی پر لگام لگائیںگے ۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کریںگے تا کہ ریاست کے ذہین طلبا و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ریاستوں کی خاک نہ چھاننی پڑے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ پڑھے لکھے بے روزگاروں کی بے روزگاری کے سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ کم پڑھے لکھے لوگوں یا ناخواندہ نوجوانوں کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ۔ لیکن رگھوور داس نے اس بارے میں سوچا۔ صرف سوچا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر ان کے لئے ہنر مندی کا راستہ کھولا۔ شکتی یونیورسٹی کا قیام اس کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں محض میٹرک پاس لڑکے لڑکیوں کو سکیورٹی کی ٹریننگ دی جارہی ہے۔ تا کہ کسی بھی پرائیوٹ یا نیم سرکاری اداروں میں انہیں سکیورٹی ملازم کے طور پر تعینات کیاجاسکے ۔ اسی طرح ناخواندہ نوجوانوں، لڑکیوں کو ہنر مند بنانے کے لئے ریشم کے کیڑے پالنے کی تربیت فراہم کرنے کاکام شروع کیاگیا۔ ساتھ ہی بنکری کے پیشے میں لگے لوگوں کو بھی بہتر کار کردگی کے لئے تربیت دینے کاکام شروع ہوا۔ یقیناً ان کی وجہ سے بے ہنر مند ، غیر تعلیم یافتہ لڑکے ، لڑکیوں کو نہ صرف روزگار کے مواقع حاصل ہورہے ہیں بلکہ انہیں اچھی آمدنی بھی ہورہی ہے۔ 16-17فروری کو ریاست کی راجدھانی رانچی میںہورہا مومینٹم جھارکھنڈ ، گلوبل سمٹ اس کی اگلی کڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی خواہش ہے کہ ریاست میں بڑے کل کارخانے ،اعلیٰ معیاری اسپتال اور معیاری تعلیم فراہم کرنے والی یونیورسٹیاں قائم ہوں۔ گلوبل سمٹ میں ملک و بیرون ملک کے ڈھائی سو سے زائد بڑے صنعت کار ، کاروباری اور تاجر شریک ہورہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر جھارکھنڈ میں کارخانے قائم کرنے ، تعلیم گاہ بنانے اور کاروبار کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ ابتدائی خبروں کے مطابق ریاست میں تین لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی راہ اس گلوبل سمٹ کے ذریعہ ہموار ہو گی۔ ڈیڑھ لاکھ کروڑ سے زائد کے ایم او یو پہلے بھی صنعت کاروں ،کاروباریوں اور حکومت جھارکھنڈ کے مابین ہو چکے ہیں۔ دنیا کے اسٹیل کنگ کہے جانے والے متل نے بھی جھارکھنڈ میں اسپات کارخانہ لگانے میں کافی دلچسپی دکھائی تھی۔ لیکن اس کے لئے جو زمین متل اسٹیل کو چاہئے تھی، وہ انہیں نہیں فراہم کی جاسکی۔ بعد میں متل نے اسپات کارخانہ قائم کرنے کی اپنی تجویز جھارکھنڈ سے ہٹا کر اوڈیشہ میں رکھی۔ لیکن وہاں بھی کچھ نکسلی تنظیموں نے اس کی بھر پور مخالفت کی۔ جس کی وجہ سے متل اسٹیل یہاں بھی قائم نہ ہو سکا۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رگھوور داس نے ان تمام باتوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔ اس لئے صنعت کاروں کو ضروری زمین فراہم کرنے کے لئے ایک جانب جہاں لینڈ بینک کا قیام عمل میں لایا ہے ، وہیں دوسری جانب حصول اراضی کے قوانین میں لچک پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے زمین مالکوں کو بازار کی قیمت سے چار گنا زیادہ قیمت ادا کئے جانے اور مقررہ وقت میں ادائیگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہ التزام بھی رکھا ہے کہ اگر پانچ برسوں تک مطلوبہ زمین پر مطلوبہ کام نہ شروع ہوا تو زمین مالکوں کو ان کی زمین واپس کر دی جائے گی اور ان سے وہ رقم بھی واپس نہیں مانگی جائے گی۔ جو انہیں ان کی زمین کے عوض ادا کی گئی ہو گی۔ اسے عملی قدم کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سچ مچ نہ صرف ریاست کی ترقی کے خواہاں ہیں، بلکہ وہ ریاست کے غریب باشندوں کو غربت سے نجات دلانے کا بھی پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ گلوبل سمٹ کو لیکر آج راجدھانی رانچی جیسی نظر آرہی ہے، ویسی پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔ یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہی راجدھانی ہے، جو چار دن قبل تک ٹریفک جام سے کراہتی رہتی تھی۔ سڑکیں جگمگا رہی ہیں، ٹریفک نظام ڈسپلن کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہر چوک ، چوراہے کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مستعد پولس جوان الرٹ کھڑے ہیں۔ ٹریفک پولس کے ایک سو جوان نئی نئی موٹرسائیکلوں پر سائرن بجاتے سڑکوں پر ٹریفک درست رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ شہر کے بیشتر حصے میں عام دنوں میں بڑی چھوٹی دکانوں کے باہر لگنے والی بے ترتیب بھیڑ اور سامانوں کا انبار نظر نہیں آرہا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ عوام کی مدد سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔ خود وزیر اعلیٰ رگھوور داس ریاست خصوصاً رانچی کے باشندوں کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کر چکے ہیں کہ وہ گلوبل سمٹ کے موقع پر ایک مہذب شہری کا رول ادا کررہے ہیں اور انتظامات میں انتظامیہ و پولس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ حالانکہ فی الوقت سڑکوں پر ٹریفک کافی کم نظر آرہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ای -رکشہ کے چلنے پر فوری روک لگا دی گئی ہے۔ ٹیمپوئوں کا چلنا بھی برائے نام رہ گیا ہے۔ اتنے سے ہی سڑک اور ٹریفک کی حالت میں بے انتہا خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ای -رکشہ اور ٹیمپوئوں پر ہمیشہ کے لئے پابندی نہیں لگا ئی جاسکتی۔ کیونکہ ایک جانب اس سے ہزاروں لوگوں کی بے روزگاری کا سوال اٹھ کھڑا ہوگا اور دوسری جانب شہر میں آمدو رفت کے ذرائع بھی محدود ہو جائیںگے ، جس سے عام شہریوں کو بھاری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امید رکھنی چاہئے کہ گلوبل سمٹ کے بعد بھی پولس کی چوکسی سے ٹریفک نظام چست درست رہے گا۔ گلوبل سمٹ کو لیکر راجدھانی میں تہوار کا سا سماں ہے ۔ تمام سڑکوں پر روشنیوں کے خصوصی انتظام کئے گئے ہیں۔ بڑے بڑے کٹ آئوٹ لگا ئے گئے ہیں، جس پر وزیر اعلیٰ کی تصویر تو آویزاں ہے ہی ، ریاست میں موجود وسائل کی جانکاری بھی درج ہے۔ جگہ جگہ سڑکوں کے کنارے خاص گاڑیوں پر ایل ای ڈی کے بڑے اسکرین پر ریاست میں موجود وسائل کی جانکاریاں دکھائی اور سنائی جارہی ہے۔ یہ بھی بتایاجارہا ہے کہ پچھلے دو برسوں میں کس طرح ریاستی حکومت نے جھارکھنڈ کی ترقی کے لئے کتنے قدم اٹھا ئے ہیں۔اچھا ہے ریاست کے سواتین کروڑ سے زائد کی آبادی کو یہ معلوم ہونا ہی چاہئے کہ ہماری حکومت ہماری ریاست کی ترقی کے لئے کس قدر سنجیدہ ہے اور ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ گلوبل سمٹ کے بعد ریاست میں تین نئی یونیورسٹیاں جلد ہی کھل جانے کا امکان ہے۔ اسے ریاستی حکومت کی کابینہ پہلے ہی اپنی منظوری فراہم کر چکی ہے۔ گلوبل سمٹ میں جو ایم او یو ہورہے ہیں، یقیناً اس سے ریاست کی تقدیر اور تصویر دونوں بدل جائے گی۔ بڑے کل کارخانوں کے قیام سے روزگار کے نئے وسائل پیدا ہوںگے ۔ نئے بجلی گھروں کی تعمیر سے نہ صرف بجلی کی کمی پر قابو پایاجاسکے گا، بلکہ جھارکھنڈ دیگر ریاستوں کو بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں بھی آجائے گا۔ ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ آنےو الےوقت میں خوشحال جھارکھنڈ کا وزیر اعلیٰ رگھوور داس کا سپنا یقیناً عملی شکل اختیار کرے گا اور ریاست کے باشندوں کی غربت کا خاتمہ ہوگا۔


آگے بڑھتا جھارکھنڈ

04 Feb 2017

وزیر اعلیٰ رگھوور داس کا جھارکھنڈ کو ترقی یافتہ ریاست بنانے کا حوصلہ بے شک قابل تعریف ہے۔ اپنے دو سالہ دور اقتدار میں وزیر اعلیٰ نے اب تک ریاست جھارکھنڈ کی ترقی کے لئے جتنے قدم اٹھائے ہیں، یقیناً ا س سے پہلے نہیں اٹھا ئے گئے تھے۔ سچ پوچھا جائے تو ریاستی انتظامیہ میں زنگ لگ گیا تھا۔ حالانکہ پچھلی حکومتوں کے سربراہوں نے بھی کئی بار حکام کو ورک کلچر میں تبدیلی میں لانے کی ہدایت دی تھی۔ لیکن پتہ نہیں کیوں اعلیٰ حکام کے کان پر جوں ہی نہیں رینگتی تھی۔ رگھوور داس نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دو ٹوک لفظوں میں حکام کو وارننگ دی کہ وہ یا تو کام کریںیا ریٹائرمنٹ لے کر گھر جاکر بیٹھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پچاس سال سے زائد عمر والے ریاست کے عملوں اور حکام کی کارگزاریوں کی جانچ پڑتال بھی شروع کروادی۔ اس کے ساتھ ہی چیف سکریٹری کے عہدہ پر محترمہ راج بالاورما کی تعیناتی نے اپنی ذمہ داریوں کے تئیں لاپرواہ حکام کی چولیں اور بھی کس دیں۔ پہلے جھارکھنڈ وزارت یعنی پروجیکٹ بھون میں یہ کہاوت عام ہو گئی تھی کہ صاحب، بابوئوں سے ملاقات بارہ سے پہلے نہیں اور تین کے بعد نہیں۔ آج بے شک یہ صورت حا ل بدل چکی ہے۔ ریاستی سکریٹریٹ میں پانچ دنوں کا ہفتہ ہوتا ہے ، یعنی یہاں سنیچر اور اتوار کو ہفتے میں دو روز کی تعطیل رہتی ہے اور ڈیوٹی کے اوقات صبح 9بجے سے لیکر شام کے 6بجے تک ہوتے ہیں۔ اس پر کافی حدتک عمل ہورہا ہے۔ رگھوور داس جھارکھنڈ کو ایک ترقی یافتہ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ وہ کئی بار اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ محض عزت حاصل کرنے کے لئے یا شوبھا بڑھانے کے لئے حاصل نہیں کیا ہے۔ اس عہدہ پر بیٹھ کر وہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ ریاست کی ترقی چاہتے ہیں، غریبوں کا دکھ، درد دور کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی اسی سوچ کے ساتھ وہ لگاتار آگے بھی بڑھ رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ جھارکھنڈ کی سرزمین معدنی دولت سے بھری پڑی ہے، لیکن اس پر رہنے والے لوگ غربت کا شکار ہیں۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لئے معدنیات کا جائز استعمال ضروری ہے۔ اس مقصد سے وزیر اعلیٰ نے امریکہ اور کئی دیگر غیر ملکوں کا دورہ بھی کیا۔ تا کہ سرمایہ کاروں کو جھارکھنڈ میں سرمایہ کاری کے لئے مدعو کیاجاسکے۔ اپنی اس کوشش میں انہیں کامیابی بھی حاصل ہورہی ہے۔ ایک دن پہلے ہی وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سعودی عرب بھی جھارکھنڈ میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جھارکھنڈ میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے نہ صرف ریاست کی ترقی ہو گی بلکہ یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہو ںگے ۔ وزیر اعلیٰ رگھوور داس ہوا ہوائی باتوں میں یقین نہیں رکھتے۔ وہ بہت نچلی سطح سے اٹھ کر سیاست کے اس اعلیٰ مقام تک پہنچے ہیں۔ اس لئے انہیں پتہ ہے کہ حقیقی ترقی کے بغیر محض نعرہ بازی سے کسی کا کوئی بھلا ہونے والانہیں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ ریاست کے نوجوان لڑکے، لڑکیوں کو ہنر مند بنانے کی کوشش میں ہی مصروف ہیں۔ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جب ریاست میں صنعتیں قائم ہوںگی ، تو اس میں کام کرنے کے لئے ہنر مندوں کی ضرورت بھی پڑے گی اور تب ایسا نہ ہو کہ ہماری ریاست کے نوجوان بے ہنر ہونے کے سبب محروم رہ جائیں۔ کئی نئے آئی ٹی آئی کا قیام بھی عمل میں آیا ہے۔ نجی کالج بھی قائم ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے آنے والےدنو ں میں اس کا فائدہ واضح طور پر نظر آئے گا۔ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیش کئے گئے اقتصادی سروے سے بھی یہ ثابت ہو اہے کہ پچھلے دو برسوں میں ریاست کی شرح ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔ بھلے ہی قومی اوسط کے لحاظ سے جھارکھنڈ میں فی کس آمدنی آج بھی کم ہے۔ لیکن پچھلے برسوں کے مقابلے میں حالیہ دو برسوں میں اس میں کافی بہتری ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ رگھوور داس خود تسلیم کرتے ہیں کہ ریاست کی ترقی تبھی ممکن ہے، جب امن و امان کا ماحول ہو۔ جھارکھنڈ ہمیشہ سے نکسلی تشدد کے لئے بدنام رہا ہے۔ ریاست کے تمام 24میں سے 18اضلاع نکسل متاثرہ رہے ہیں۔ نکسلیوں کے ذریعہ ٹھیکہ داروں ، کارخانہ داروں ، کاروباریوںاور کئی دیگر پیشہ وروں سے لیوی کے نام پر کروڑوں روپئے ہر سال وصولے جاتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خونریزی کا دور بھی جار ی رہا ہے۔ لیکن رگھوور داس کی حکومت میں ڈی جی پی کے عہدہ پر کام کررہے ڈی کے پانڈے نے نکسلیوں کے خلاف کامیاب مہم چلائی ہے۔ جس کے نتیجے میں پچھلے سال کے مقابلے امسال نکسلی وارداتوں میں 45فیصد تک کمی درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی بڑے نکسلی لیڈروںنے پولس کے سامنے ہتھیار بھی ڈالے ہیں۔ ڈی کے پانڈے دو ٹوک اعلان کر چکے ہیں کہ نکسلی تشدد چھوڑ کر پولس کے سامنے ہتھیار ڈالیں یا پھر پولس کی گولی کا شکار ہونے کے لئے تیار رہیں اور یہ محض خالی خولی دھمکی ہی نہیں ہے بلکہ کئی بڑے نکسلی لیڈر پولس کی گولیوں کا شکار ہو بھی چکے ہیں۔ پولس کارروائی نے نکسلیوں کے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔     ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس کی خواہش کے مطابق جھارکھنڈ کی ترقی جلد ہی نظر آنے لگے گی۔ کیونکہ اس کام میں انہیں محترمہ راج بالاورما جیسی چیف سکریٹری ، امت کھرے جیسے فنانس کمشنر اور ڈی کے پانڈے جیسے ڈی جی پی اور دیگر ایماندار حکام کی مدد بھی پوری طرح مل رہی ہے۔