جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

دامودر ندی جھارکھنڈ کی ترقی کی لائف لائن ہے

25 May 2018



جدید بھارت نیوز سروسرانچی، 24؍مئی: جھارکھنڈ کی گورنر دروپدی مرمو نے یوگانتر بھارتی کے ذریعہ منعقد ’دامودر بچاؤ‘ پرگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے شعبے میںریاست میں ہمیشہ چوکنا رہنے والی تنظیم یوگانتر بھارتی کے ذریعہ منعقد ’ دامودر بچاؤ‘ پروگرام کا حصہ بننے پر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دامودر ندی جھارکھنڈ کی ترقی کی لائف لائن ہے۔ اسے ایک مقدس ندی سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ادگم استھل اسی چلہاپانی گاؤں میں ہے، جہاں دامودر بچاؤ آندولن کے ذریعہ سالانہ دامودر مہوتسو منایا جاتا ہے۔ یہاں کے مقامی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ چلہاپانی میں دیوتاؤں کا مسکن ہے۔ اسی لیے ادگم استھان سے 35 کلومیٹر دور کیکراہی گڑھا گاؤں تک اس کا نام دیوند ہے۔ دامودر کے دونوں اطراف پر صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں سامراجیہ کھڑا ہے۔ اس سامراجیہ کی بنیاد دامودر کا مقدس پانی ہے۔ قدیم زمانہ میں یہاں نصب صنعتی گروپوں سے دامودر کی شدید آلودگی شروع ہوئی اور یہ دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ ندیوں میں شمار کیا جانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ دامودر کے دونوں اطراف پر درجن بھر کوئلہ فیکٹریز کھڑی ہیں۔ تینو گھاٹ تھرمل اور چندرپورا تھرمل پاؤر پلانٹ کے ساتھ ساتھ سیل کا بوکارو اسٹیل پلانٹ بھی اس علاقے میں ہے۔ ان تمام کی آلودگی کی وجہ سے دامودر کا پانی نہانے اور دیگر انسانی استعمال کے قابل نہیں رہ گیا تھا۔اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے ریاستی وزیر سریو رائے کی قیادت میں یوگانتر بھارتی تنظیم نے دامودر بچاؤ آندولن کے بینر تلے یہ پہل شروع کی اور ماحولیات کے ماہرین لوگوں کو جمع کیا۔ اس کا قابل قدر نتائج ہوا ہے۔پولوشن کے یونٹس نے آلودگی کنٹرول کے لئے ضروری اقدامات کئے ہیں اور اپنے آلودہ بہاؤ کو دامودر میں جانے سے روکا ہے۔ اس کے لئے استعمال کئے جانے والے پانی ریسائیکل کیا ہے اور زیرو دسچارج کے قریب پہنچے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ دامودر کا پانی جگہ جگہ صاف ہونے لگا ہے۔ دامودر بچاؤ آندولن کے دوران دامودر کے سماجی، ثقافتی اور روحانی پہلوؤں سے لوگوں کو واقف کرانے کی مہم 2006 سے شروع ہوئی۔یہ مہوتسو عوامی بیداری کا ایک مؤثر ذریعے ثابت ہوا ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ دامودر بھگوان وشنو کے ناموں میں سے ایک ہے۔ دامودر مہوتسو کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ یہ وشنو کی شکل میں ایک مقدس ندی ہے۔ اس کی وجہ سے دامودر کو صاف رکھنے کے تئیں لوگوں کے ذہنوں میں رجحانات میں اضافہ ہواہے۔ ہر سال گنگا دسہرہ کے دن دامودر مہوتسو کے پروگرام میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں اور اسے آلودگی سے پاک کرنے کا عزم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ دامودر کا پانی ابھی صنعتی آلودگی سے پاک کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کی میں تعریف کرتی ہوں اور جن لوگوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا، وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ تہذیبوں کی ترقی ندیوں کے کنارے ہوئی ہے۔ ندیاں بھارت ماتا کے گلے میں ہار کی جیسی ہیں۔ آج ندیوں پر صنعتی آلودگی کےعلاوہ شہری آلودگی کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ندیوں کے کنارے صنعتی کالونیاں، چھوٹے بڑے شہروں سے نکلنےوالے پانی اور بیت الخلاء سےنکلنے والی گندگی کے مناسب انتظام کئے بغیر ندیوں کو صاف رکھنا ناممکن ہے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ یہ کہا جائے تو تعجب کی بات نہیں ہوگی کہ ندی نہیں تو ہم نہیں۔ندیوں کے مرکزی دھارے اس کی معاون ندیوں سے بنتی ہے۔ معاون ندیوں کی تعمیر بھی مختصر پانی کے ذرائع کے ذریعے ہوتی ہے۔ کسی بھی چھوٹی بڑی ندی کے زندگی معاون ندیوں اور دیگر چھوٹے پانی کے ذرائع کا تحفظ ضروری ہے۔ مختصر پانی کے ذریعہ محفوظ نہیں رہیں گے تو ندیوں اور ان کی معاون ندیوں کا وجود بھی نہیں بچے گا۔جھارکھنڈ ریاست میں سورن ریکھا، شنکھ اور جنوبی کویل ندی کو چھوڑ باقی تمام ندیوں کا پانی گنگا میں جا کر مل جاتا ہے۔ جھارکھنڈ کے قریب 70فیصدزمین کا حصہ گنگا بیسن سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا پانی گنگا میں جاتا ہے۔ اس طرح دامودر گنگا کی ایک معاون ندی ہے۔ہمارے باپ دادا کی سوچ کتنی بہتر ہے کہ جس گنگا دسہرہ کے دن ماں گنگا نازل ہوئیں اور ایک خراب اثرات اس پر پڑے اس کے اگلے دن یعنی ایکادشی کو نرجلا ایکادشی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن لوگ بغیر اناج-پانی کھائے ایکادشی کو ورت رکھتے ہیں۔ اس کے پیچھے بھی ایک ماحولیاتی پیغام ہے کہ کافی پانی رہنے کے بعد بھی پانی کی کھپت میں توازن برتا جانا چاہئے۔ اس سوچ کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس موقع پرانہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ میں آج لوگوں سے اپیل کرنا چاہتی ہوں کہ گنگا دسہرہ کے دن کو پانی کے ذرائع یوم تحفظ  کے طور پر منایا جائے اور پانی کے ذرائع کے کنارے پروگرام منعقد کئے جائیں، ندیوں کی آرتی کی جائے۔ ساتھ ہی تمام ندیوں کے حفظان صحت کی سمت میں بڑھ چڑھ کر اپنا کرداراد کریں۔