جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

مسلسل بجلی سپلائی سے روزگار اور صنعت کے مواقع پیداہوں گے

23 May 2018



جدید بھارت نیوز سروسسمڈیگا، 23؍مئی: وزیر اعلی رگھور داس نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ لوگوں کے پلائن پر خصوصی توجہ دینا ہے، کیونکہ دیہی لوگ ہی ترقی کے شعبے میں خصوصی مدد دیتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ذریعہ  کئے گئے کاموں کے بارے میں، گرام تنظیموں کے بارے میں جانکاری گرام وکاس کمیٹی کے ذریعہ دی جانی ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں بلارکاوٹ بجلی سپلائی میں اس سے کافی مدد ملے گی۔ باقاعدہ بجلی سپلائی سے یہاں روزگار اور صنعت کی تخلیق کے امکانات بڑھ جائیں گئے۔ تمام دیہی علاقے جس میں بیچولیوں کا اثر بڑھتا جا رہا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسی پنچایت کے مکھیا کے ذریعہ کسی بھی شعبہ میں منصوبہ آیا ہے اسے گرام پنچایت کے ذریعے سے کبھی بھی کسی بھی دیہاتیوں کے درمیان صحیح سے نہیں بتایا گیا۔ وزیر اعلیٰ اس  بات پر جم کر برسے ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقے کی ترقی کے لئے مستفید کمیٹی کے ذریعے گاؤں کی مناسب ترقی ہوتی ہے اور یہ مکھیا کی ذمہ داری ہے اس کے لئے مکھیا کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہے۔انہوں نے کہا کہ  نابارڈ میں ₹ 1500 کروڑ لے کر جھارکھنڈ کی ترقی کی جائے گی۔دسمبر تک ہر گھر میں بجلی پہنچائی جائے گی۔ ہر گھر اسٹریٹ لائٹ، گرام صنعت اورگرام صنعت کمیٹی کے ذریعہ کرایا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم  رہائش منصوبہ میں اگر کسی قسم کی گڑبڑی کرتے ہوئے مکھیا پایا گیا تو براہ راست مکھیا پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب سے تمام کام گرام وکاس کمیٹی پروگرام سے ہوگا یہ مکھیا مقرر نہیں کریںگے۔سمڈیگا ضلع کی رانی مستریوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان خواتین نے جس طرح کام کیا ہے اسے مرکزی حکومت تک تعریف کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ  اپنی تقریر کے دوران قبائلیوں کے نام پر سیاست کرنے والوں پر بھی جم کر برسے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ قبائلیوں کو استعمال ووٹ بینک کے لئے کیا جاتا رہاہے۔پچھلے 70 سال سے قبائلیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک کبھی بھی قبائلیوں کی ترقی کیلئے نہیں سوچا گیا۔ لیکن ہماری بی جے پی حکومت قبائلیوں کی فلاح و بہبود اور تعاون کے لئے آدیواسی گرام وکاس کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقے کے لوگ ایک قدم چلیں، میں اور میری حکومت ان کے لئے چار قدم چلے گی۔ کانگریس پر جم کر برستے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 سال تک کانگریس نے ہمیشہ راج کیا۔ لیکن غریب کا کبھی بھلا نہیںہوا اور نہ ہی کبھی ان کے مفاد کے بارے میں سوچا گیا۔ لیکن ہماری بی جے پی حکومت نے نریندر مودی کی قیادت میں ہمیشہ لوگوں کا بھلا کیا ۔انہوں کہا کہ وزیر اعظم اجولا منصوبہ کے تحت جھارکھنڈ واحد ایسی ریاست ہے جہاں چولہامفت میں دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آدیواسی وکاس سنگٹھن کو سیاست سے دور رکھنا ہے، کیونکہ سیاست سے گاؤں کی ترقی نہیں ہوگی۔گاؤں تک بجلی ملے گی تو گاؤں میں صنعت ہوگی اور لوگوں کا یہاں سے پلائن نہیں ہوگا۔انہوں نے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ بجلی چوری نہیں کرنی ہے۔ حکومت بجلی دے رہی ہے اور سبسڈی 1000  کروڑ روپیہ کا فائدہ دے گی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ بجلی کا استعمال کرتے ہیں تو ایمانداری سے بجلی کے بل بھی دیناہے۔انہوں بجلی کے بل نہ دینے والے لوگوں سے کہا کہ ابھی تک جو 15 لاکھ لوگ بجلی کا بل نہیں دیئے ہیں اس پر حکومت آگے کارروجدید بھارت نیوز سروسسمڈیگا، 23؍مئی: وزیر اعلی رگھور داس نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ لوگوں کے پلائن پر خصوصی توجہ دینا ہے، کیونکہ دیہی لوگ ہی ترقی کے شعبے میں خصوصی مدد دیتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ذریعہ  کئے گئے کاموں کے بارے میں، گرام تنظیموں کے بارے میں جانکاری گرام وکاس کمیٹی کے ذریعہ دی جانی ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں بلارکاوٹ بجلی سپلائی میں اس سے کافی مدد ملے گی۔ باقاعدہ بجلی سپلائی سے یہاں روزگار اور صنعت کی تخلیق کے امکانات بڑھ جائیں گئے۔ تمام دیہی علاقے جس میں بیچولیوں کا اثر بڑھتا جا رہا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسی پنچایت کے مکھیا کے ذریعہ کسی بھی شعبہ میں منصوبہ آیا ہے اسے گرام پنچایت کے ذریعے سے کبھی بھی کسی بھی دیہاتیوں کے درمیان صحیح سے نہیں بتایا گیا۔ وزیر اعلیٰ اس  بات پر جم کر برسے ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقے کی ترقی کے لئے مستفید کمیٹی کے ذریعے گاؤں کی مناسب ترقی ہوتی ہے اور یہ مکھیا کی ذمہ داری ہے اس کے لئے مکھیا کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہے۔انہوں نے کہا کہ  نابارڈ میں ₹ 1500 کروڑ لے کر جھارکھنڈ کی ترقی کی جائے گی۔دسمبر تک ہر گھر میں بجلی پہنچائی جائے گی۔ ہر گھر اسٹریٹ لائٹ، گرام صنعت اورگرام صنعت کمیٹی کے ذریعہ کرایا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم  رہائش منصوبہ میں اگر کسی قسم کی گڑبڑی کرتے ہوئے مکھیا پایا گیا تو براہ راست مکھیا پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب سے تمام کام گرام وکاس کمیٹی پروگرام سے ہوگا یہ مکھیا مقرر نہیں کریںگے۔سمڈیگا ضلع کی رانی مستریوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان خواتین نے جس طرح کام کیا ہے اسے مرکزی حکومت تک تعریف کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ  اپنی تقریر کے دوران قبائلیوں کے نام پر سیاست کرنے والوں پر بھی جم کر برسے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ قبائلیوں کو استعمال ووٹ بینک کے لئے کیا جاتا رہاہے۔پچھلے 70 سال سے قبائلیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک کبھی بھی قبائلیوں کی ترقی کیلئے نہیں سوچا گیا۔ لیکن ہماری بی جے پی حکومت قبائلیوں کی فلاح و بہبود اور تعاون کے لئے آدیواسی گرام وکاس کمیٹی کی تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقے کے لوگ ایک قدم چلیں، میں اور میری حکومت ان کے لئے چار قدم چلے گی۔ کانگریس پر جم کر برستے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 سال تک کانگریس نے ہمیشہ راج کیا۔ لیکن غریب کا کبھی بھلا نہیںہوا اور نہ ہی کبھی ان کے مفاد کے بارے میں سوچا گیا۔ لیکن ہماری بی جے پی حکومت نے نریندر مودی کی قیادت میں ہمیشہ لوگوں کا بھلا کیا ۔انہوں کہا کہ وزیر اعظم اجولا منصوبہ کے تحت جھارکھنڈ واحد ایسی ریاست ہے جہاں چولہامفت میں دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آدیواسی وکاس سنگٹھن کو سیاست سے دور رکھنا ہے، کیونکہ سیاست سے گاؤں کی ترقی نہیں ہوگی۔گاؤں تک بجلی ملے گی تو گاؤں میں صنعت ہوگی اور لوگوں کا یہاں سے پلائن نہیں ہوگا۔انہوں نے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ بجلی چوری نہیں کرنی ہے۔ حکومت بجلی دے رہی ہے اور سبسڈی 1000  کروڑ روپیہ کا فائدہ دے گی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ بجلی کا استعمال کرتے ہیں تو ایمانداری سے بجلی کے بل بھی دیناہے۔انہوں بجلی کے بل نہ دینے والے لوگوں سے کہا کہ ابھی تک جو 15 لاکھ لوگ بجلی کا بل نہیں دیئے ہیں اس پر حکومت آگے کارروائی کرے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سمڈیگا ضلع میں مکمل طور پر پاور گرڈ بن جائے گا تو ان کے لئے الگ سے فیڈر بنایا جائے گا، جیسے کسان فیڈر، تاجر فیڈر، بزنس صنعت فیڈر بنایا جائے گا۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ یہ صرف سمڈیگا ضلع میں ہی نہیں بلکہ پوری ریاست میں بنایا جائے گا۔ائی کرے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سمڈیگا ضلع میں مکمل طور پر پاور گرڈ بن جائے گا تو ان کے لئے الگ سے فیڈر بنایا جائے گا، جیسے کسان فیڈر، تاجر فیڈر، بزنس صنعت فیڈر بنایا جائے گا۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ یہ صرف سمڈیگا ضلع میں ہی نہیں بلکہ پوری ریاست میں بنایا جائے گا۔