جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

ایک شکست سے سیریز ختم نہیں ہو جاتی ٹیم انڈیا زوردار واپسی کرے گی: سچن تندولکر کوامید

26 Feb 2017



نئی دہلی، 26 فروری (یو این آئی) آسٹریلیا کے خلاف پنے میں پہلے ٹیسٹ میں 333 رنز کی شرمناک شکست سے تنقید کی زد میں آئے وراٹ کوہلی اور ان کے کھلاڑیوں کے دفاع میں سامنے آتے ہوئے کرکٹ کے بادشاہ سچن تندولکر نے کہا ہے کہ ایک شکست سے سیریز ختم نہیں ہو جاتی اور انہیں پورا یقین ہے کہ ٹیم انڈیا زوردار واپسی کرے گی۔سچن نے اتوار کو یہاں جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں نئی دہلی میراتھن کو روانہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے کہاکہ ایک ہار کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سیریز کا فیصلہ ہو گیا ہے۔یہ ہمارے لئے ایک مشکل ٹیسٹ تھا لیکن یہ سب کچھ کھیل کا ہی ایک لازمی حصہ ہے۔پنے میں شکست کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سیریز گنوا چکے ہیں۔سیریز اب بھی کھلی ہوئی ہے اور ہندستانی کھلاڑی زوردار واپسی کریں گے۔ ماسٹر بلاسٹر نے کہاکہ جہاں تک میں ہندستا نی ٹیم کی جدوجہد و صلاحیت کو جانتا ہوں مجھے یقین ہے کہ وہ زبردست واپسی کریں گے۔آسٹریلوی ٹیم بھی اس بات کو جانتی ہے کیونکہ جب ہم انہیںہراتے تھے تو ہم جانتے تھے کہ وہ ہم پر زور دار حملہ کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ ہندستانی ٹیم پنے کی شکست کو پیچھے چھوڑ کر برابری کیلئے اگلے ٹیسٹ میں اٹیک کرے گی۔ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ چار مارچ سے بنگلور میں ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔کرکٹ میں تقریبا تمام ریکارڈ اپنے نام رکھنے والے سچن کے یہ الفاظ وراٹ سینا کے لیے آب حیات کا کام کر سکتے ہیں۔پنے میں ہندستانی ٹیم پہلی اننگز میں 105 اور دوسری اننگز میں 107 رنز پر سمٹ گئی اور اسے 333 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔آسٹریلیا نے 2004 کے بعد ہندستانی سرزمین پر اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی اور چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں 1۔0 کی برتری بنائی۔سچن نے کہاکہ یہ ٹیم کے لیے یقینی طور پر مشکل لمحات ہیں لیکن یہی وہ موقع ہوتا ہے جب آپ کااصل امتحان ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ کس طرح اٹھتے ہیں، خود کو کس طرح تیار کرتے ہیں اور کس طرح واپسی کرتے ہیں یہ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہی بات کھیل  کودلچسپ بناتی ہے اور اسی احساس کے لئے کھلاڑی کھیلتے ہیں۔ کپتان وراٹ نے بھی میچ کے بعد کہا تھاکہ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ انہوں نے ہمیں کھیل کے ہر شعبہ میں شکست دی۔یہ ہماری گزشتہ دو سالوں میں بدترین بیٹنگ کارکردگی تھی ۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے کہاں غلطیاں کیں۔سچن نے جہاں ہندستانی  ٹیم کیلئے حوصلہ بلند کرنے والے الفاظ کہے ہیں وہیں سابق کپتان سنیل گواسکر نے ٹیم کی شکست کے بعد اس کی کارکردگی پرسخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کہاکہ محض تیسرے دن ہی چائے کے وقفہ کے بعد ٹیم انڈیا کا آؤٹ ہونا واقعی مایوس کن ہے۔ ہندستانی کھلاڑیوں نے غیر ذمہ دارانہ کارکر دگی کا مظاہرہ کیا۔ہندستانی  بلے بازوں کو وکٹ پر ٹک کر صبر کے ساتھ کھیلنے کی ضرورت تھی ۔سابق سرکردہ اوپنر نے کہاکہ محض تیسر ے دن ہی میچ ہار جانا واقعی شرمناک ہے اور یہ دیکھنا واقعی حیران کن تھا کہ اسپنروں کو کھیلنے میں مہارت رکھنے والے ہندستانی  بلے بازوں نے آسٹریلوی او پنروں کے سامنے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔میں ٹیم کی میچ کو بچانے کی کوشش نہ کرنے سے بھی مایوس ہوں۔دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 75 اوور کھیلنا ہی تشویش کا موضوع ہے۔یہ ٹیم انڈیا کی سب سے بری شکست میں سے ایک تھی۔