Urdu Newspaper, Epaper, published from Ranchi Jharkhand, Jadeed Bharat

جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand


  • بلی کو واشنگ مشین میں ڈال کر ہلاک کرنے پر دو سال قید

    بلی کو واشنگ مشین میں ڈال کر ہلاک کرنے پر دو سال قید

    بلی کی ہلاکت کا واقعہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید تنقید اور برہمی کے اظہار کا باعث بنا رہا۔

  • فیس بک نے روس سے منسلک سینکڑوں جعلی اکاؤنٹ بند کر دیے

    فیس بک نے روس سے منسلک سینکڑوں جعلی اکاؤنٹ بند کر دیے

    فیس بک نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اس نے روس میں کھولے جانے والے سینکڑوں فیس بک پیج اور گروپ اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں جن کے متعلق شبہ ہے کہ وہ جعلی تھے۔ فیس بک کی سائبر سیکورٹی پالیسی کے سربراہ نیتھانیئل گلیچر نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ انہوں نے دو الگ الگ کارروائیوں میں روس سے چلائے جانے والے ان اکاؤنٹس کا کھوج لگایا۔ ان میں کچھ مشرقی یورپ کے ملکوں میں سرگرم تھے اور کچھ کا ہدف یوکرین تھا۔ خبررساں ادارے روئیٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ فیس بک کمپنی نے تقریباً 364 فیس بک پیج اور اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں جو ایک روسی نیٹ ورک کے ذریعے چلائے جا رہے تھے اور انہیں بالٹک سمندر کے ملکوں، وسطی ایشیا، وسطی اور مشرقی یورپ میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق روس کے ایک خبررساں ادارے سپوٹنک سے تھا۔ فیس بک کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کے نفاذ قانون کے اہل کاروں کے ایک دورے کی بنیاد پر اس نے الگ سے فیس بک کے 107 پیج، گروپ اور اکاؤنٹس اور 41 انسٹا گرام اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں جنہیں ابتدائی طور پر روس اور یوکرین سے چلایا جا رہا تھا۔ فیس بک کو پچھلے دو سال کے دوران انتہاپسندی اور پراپیگنڈے پر مبنی مواد کو روکنے کا نظام تیار کرنے میں سستی پر نکتہ چینی کا سامنا رہا ہے۔

  • امریکہ اور برطانیہ کو بیک وقت نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں کا سامنا

    امریکہ اور برطانیہ کو بیک وقت نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں کا سامنا

    امریکہ اور برطانیہ دنوں ایسے سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہیں جو ختم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ امریکی ایوان نمائیندگان کے نئے منتخب ہونے والے ارکان نے بدھ کے روز سنیٹ پر زور دیا کہ وہ شٹ ڈاؤن یعنی حکومت کی بندش کے بارے اخراجاتی بلوں پر ووٹنگ کروایں جبکہ برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے پارلیمان میں بریکسٹ کے سمجھوتے کی شکست کے بعدکل بدھ کے روز عدم اعتماد کی  ووٹنگ میں بال بال بچیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئے ارکان کانگریس نے کل بدھ کے روز سنیٹ  پر زور دیا کہ وہ  اس مالی بل پر رائے شماری کا اہتمام کرے جس سے شٹ ڈاؤن ختم کیا جا سکے۔  ایوان نمائیندگان میں ڈیموکریٹک  پارٹی کی  نو منتخب رکن اِلہان عمر کا کہنا ہے ’’ہم نے سنیٹ میں اکثریتی فریق کو وہی بل بھجوائے ہیں جن کے حق میں وہ پہلےووٹ دے چکے ہیں۔ اب ہم اُنہیں یہ بل منظور کرنے کیلئے اپنی انتظامیہ کی طرف سے اجازت کا انتظار کئے بغیر لیڈرشپ دکھانے کا ایک موقع فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کر دئے ہیں جس کے ذریعے فرلو پر جانے والے یا پھر بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے لگ بھگ 800,000 سرکاری ملازمین کو معاوضے کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ۔میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلئے فنڈنگ کی منظوری نہیں دی جاتی، وہ شٹ ڈاؤن  ختم نہیں کریں گے۔ اُدھر برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے کی بریکسٹ سمجھوتے سے متعلق اپنی پارلیمان کے ساتھ محاذ آرائی جاری ہے۔ یہ سمجھوتا اُنہوں نے یورپین یونین کے ساتھ کیا تھا۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائینا میں سیاسیات کے ماہر کلاس لیرس کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا کی دونوں کلیدی جمہوریتوں کے بحران عوامی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بریکسٹ پر ریفرنڈم 2016 کے وسط میں ہوا تھا۔ ٹرمپ اس کے چند ماہ بعد صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان دونوں میں ایک واضح تعلق موجود ہے کیونکہ 2016 عوامیت کی تحریک کا نقطہ آغاز تھا اور ان دونوں ملکوں نے اس سلسلے میں ایک دوسرے سے تعاون کیا۔۔ لیرس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور بریکسٹ کے لیڈر نائجل فیراج نے کھلے عام ایک دوسرےکی حمیت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے دیوار کی تعمیر پر اصرار اور برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی ایسے معاملات ہیں جن سے عالمی معیشت اور امیگریشن کیلئےشدید خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، ’’اقتصادی انحطاط کا خوف، غیر ملکیوں سے متعلق خوف، پناہ گزینوں کا خوف اور قومی شناخت کھو جانے کا خوف،   میرے خیال میں لوگوں کی اکثریت اس سے گزر رہی ہے اور ان میں برطانیہ اور امریکہ کے عوام کا بڑا طبقہ شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل مدت تک جاری رہنے والے ان سیاسی بحرانوں سے دنیا بھر میں امریکہ اور برطانیہ کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہو رہی ہے اور  روسی صدر ولادی میر پوٹن اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کلاس لیرس کا کہنا ہے کہ  اُن کے خیال میں  اس کا براہ راست فائدہ پوٹن کو نہیں  پہنچ رہا ہے۔  تاہم چاہے امریکہ ہو یا برطانیہ، کوئی بھی ایسا  معاملہ جو  مغرب کے مضبوط جمہوری ملکوں کو نقصان پہنچاتا  ہے وہ امریکہ اور برطانیہ کے دوست ممالک کیلئے اچھا نہیں ہے۔ لیرس کا کہنا ہے کہ امریکہ میں شٹ ڈاؤن اُس وقت ختم ہو گا جب یہ امریکی معیشت کو متاثر کرنے لگے گا۔ برطانیہ کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ بحران کے نتیجے میں ایک اور ریفرنڈم منعقد ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا  ریفرنڈم ہو گا جس میں ووٹ دینے والے لوگ یورپین یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے اثرات کا پہلے کی نسبت بہتر طور پر با خبرہوں گے۔

  • شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار کا دورۂ امریکہ متوقع

    شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار کا دورۂ امریکہ متوقع

    اطلاعات گردش میں ہیں کہ کم یونگ چول شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اور مجوزہ ملاقات کے سلسلے میں بات چیت کے لیے امریکہ آ رہے ہیں۔

  • برطانوی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام

    برطانوی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام

    عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اب مے پھر سے اس جانب توجہ مبذول کرسکتی ہیں  آیا پارلیمان سے ’بریگزٹ‘ کس طرح منظور کرایا جائے برطانوی پارلیمان میں بدھ کے روز وزیر اعظم تھریسا مے کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ناکام رہا، جس سے ایک ہی روز قبل قانون سازوں نے کثرت رائے سے یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کا اُن کا تجویز کردہ منصوبا مسترد کر دیا تھا۔ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اب مے پھر سے اس جانب توجہ مبذول کرسکتی ہیں  آیا پارلیمان سے ’بریگزٹ‘ کس طرح منظور کرایا جائے۔ مے پیر کے دِن تک ایوان زیریں میں کوئی نئی تجویز پیش کرسکتی ہیں۔ لیکن یہ بات ابھی واضح نہیں آیا وہ کیا تجویز پیش کریں گی۔ عدم اعتماد کے خلاف 325 جب کہ حق میں 306 ووٹ پڑے، جس کے نتیجے میں مے اپنے عہدے پر قائم رہیں گی۔ اُنھوں نے بدھ کی رات بریگزٹ پر بات چیت کے لیے پارٹی کے قائدین کو مدعو کیا۔ رائے شماری سے قبل، مے نے کہا کہ برطانیہ 29 مارچ کے ہدف کے مطابق، یورپی یونین سے الگ ہوگا، اور اگر علیحدہ ہونے کا منصوبہ حقیقت پر مبنی ہے تو بلاک مذاکرات کے عمل کو محض طویل کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیروں نے کہا ہے کہ وہ چاہیں گی کہ زیادہ وقت میسر ہو تاکہ برسلز جا کر یورپی یونین کے راہنماؤں کو پھر سے مذاکرات کی میز پر بلائیں۔ تاہم، یورپی یونین نے پھر سے مذاکرات کے امکان کو بارہا مسترد کیا ہے، جب سے نومبر میں یہ ڈیل طے کیا گیا۔ لیکن، منگل کے روز ڈیل کی شکست کے بعد جس پر پانچ روز تک مباحثہ جاری رہا، برطانوی اہلکاروں کو یہ توقع ہے کہ یورپی یونین کا دفتر اب کافی رعایتیں دے گا، تاکہ ترمیم شدہ تجویز کی منظوری کے لیے پارلیمانی حمایت حاصل کی جاسکے۔ اپوزیشن کی اہم لیبر پارٹی کے قائد، جیرمی کوربن نے منگل کے روز کے نتائج سامنے آنے کے فوری بعد حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی۔ اگر اعتماد کے ووٹ میں مے ہار جاتیں تو برطانیہ عام انتخابات کی طرف جاتا۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب نہیں ہوگا۔ اور، ناردرن آئرلینڈ کی اقلیتی پارٹی، جس پر مے کا دارومدار تھا، کہا تھا کہ وہ اُن کی حکومت کو جاری رکھنے میں مدد دیں گی۔  

  • نیروبی: الشباب کے حملے میں 14 ہلاک، آپریشن مکمل

    نیروبی: الشباب کے حملے میں 14 ہلاک، آپریشن مکمل

    کینیا کے صدر کا کہنا ہے کہ دارالحکومت نیروبی کے ہوٹل اور دفاتر کے کمپلکس پر دہشت گردوں کا محاصرہ ختم کر کے آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ بدھ کو سرکاری ٹیلی وژن سے خطاب میں صدر اہورو کینیاٹا نے کہا کہ اس  مہلک حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے سات سو افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا لیکن اُس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے جب کہ ایک برطانوی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔ منگل کو ہونے والے اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کی تھی۔ دہشت گردوں نے منگل کو دوپہر میں بینک کے باہر حملہ کیا جس کے بعد ہوٹل کی لابی میں بھی خودکش حملہ ہوا۔ سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں چار مسلح افراد کو اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں مسلح افراد کے آنے کے بعد دفتر اور ہوٹل کے ملازم اور مہمان بھاگ رہے ہیں۔ پولیس جب ہوٹل میں داخل ہوئی تو بہت دل سوز مناظر دیکھنے کو ملے جہاں ریستوران میں ہر جانب ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں بکھری ہوئیں تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ اُن کے بعض ساتھی اُس وقت کمپلکس میں داخل ہوئے جب وہاں حملہ ہوا تھا۔ نیروبی کے ویسٹ لینڈرز نامی علاقے میں جہاں یہ کمپلکس واقع  ہے  وہاں  پرتعیش ہوٹل اور دکانیں و  ہیں۔ یہ علاقے امریکی، یورپی اور بھارتی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔ اس سے پہلے بھی شدت پسند تنظیم الشباب نے کینیا میں کئی مرتبہ مہلک حملے کیے ہیں اور ستمبر 2013ء میں نیروبی کے ویسٹ گیٹ مال میں ہونے والے ایک حملے میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 

  • برطانوی پارلیمان میں ’بریگزٹ ڈیل‘ مسترد

    برطانوی پارلیمان میں ’بریگزٹ ڈیل‘ مسترد

    حزب مخالف کی لیبر پارٹی کے قائد، جیری کوربن نے کہا ہے کہ مے کی کنزرویٹو پارٹی کی حکمرانی کو ملنے والی یہ ایک ’’تباہ کُن شکست ہے‘‘، اور مطالبہ کیا کہ بدھ کے روز اعتماد کا ووٹ لیا جائے، جس کو اُنھوں نے ’’اُن (مے) کی حکومت کی کھلی نالائقی‘‘ قرار دیا

  • جوہری ہتھیاروں کے معاہدے پر روس امریکہ مذاکرات بے نتیجہ

    جوہری ہتھیاروں کے معاہدے پر روس امریکہ مذاکرات بے نتیجہ

    تین عشرے پرانے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری اسلحے کے سمجھوتے کے تحت زمین پر نصب ’کروز‘ اور ’بیلسٹک‘ میزائلوں کی تیاری، تجربے اور تعیناتی پر بندش عائد ہے، جو 500 سے 5500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں

  • ٹرمپ ایردوان ٹیلی فون رابطہ، شام کے ساتھ ’سیف زون‘ کے قیام پر گفتگو

    ٹرمپ ایردوان ٹیلی فون رابطہ، شام کے ساتھ ’سیف زون‘ کے قیام پر گفتگو

    ترکی نے وعدہ کیا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد شام میں داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے گی۔ تاہم، کرد ’وائی پی جی‘ ملیشیا کے حوالے سے امریکہ اور ترکی کے درمیان شدید اختلاف رائے ہے، جس کے باعث نیٹو کے دونوں ساتھیوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔



Promo Image
  • آوارہ ’مقدس‘ گائیں، بھارتی کسانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

    آوارہ ’مقدس‘ گائیں، بھارتی کسانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

    ان دنوں جبکہ متعدد دوسری ریاستوں کے ساتھ ساتھ اتر پردیش میں کسان خریف کی فصلوں کی کٹائی کے بعد گندم بونے کی تیاری کر رہے ہیں، اُنہیں تشویش ہے کہ یہ آوارہ گائیں اُن کے کھیتوں میں آ کر پکی پکائی فصلوں کو چٹ کر جائیں گی بھارت میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور متعدد بھارتی ریاستوں میں قوم پرست حکومتوں نے اس کے تحفظ کیلئے سخت قانون پاس کر رکھے ہیں۔ تاہم، گائیوں کے حوالے سے ایک نئے بحران نے جنم لیا ہے اور مختلف دیہات میں 50 لاکھ کے لگ بھگ بوڑھی گائیں آوارہ پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بوڑھی آوارہ گائیں ملک کی دیہی معیشت کیلئے سخت نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔ ان دنوں جبکہ متعدد دوسری ریاستوں کے ساتھ ساتھ اتر پردیش میں کسان خریف کی فصلوں کی کٹائی کے بعد گندم بونے کی تیاری کر رہے ہیں، اُنہیں تشویش ہے کہ یہ آوارہ گائیں اُن کے کھیتوں میں آ کر پکی پکائی فصلوں کو چٹ کر جائیں گی؛ اور یوں اُنہیں بھاری نقصان اُٹھانا  پڑے گا۔ ابوپور گاؤں کے ایک کسان ستابھ ملک کا کہنا ہے کہ وہ جو کوئی بھی فصل اُگاتا ہے، گائیں سب کی سب چٹ کر جاتی ہیں اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ اُس کا کہنا ہے کہ چونکہ اُس کے کھیت سڑک کے قریب ہیں، اسے سب سے زیادہ نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس گاؤں کے قریب واقع ایک اور گاؤں ڈیڈولی میں یہ مسئلہ اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے جہاں ہندو قوم پرست ریاستی حکومت کے  وجود میں آنے کے بعد سے  آوارہ گائیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا گیا ہے، کیونکہ اس حکومت نے گائیوں کے تحفظ کیلئے سخت قوانین پاس کر رکھے ہیں۔ گائے کو ذبح کرنے پر سخت سزاؤں کے باعث  گائیوں کی خرید و فروخت رک گئی ہے اور کسان بوڑھی ہو جانے والی گائیوں سے پیچھا چھڑانے کیلئے اُنہیں کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان قوانین سے پہلے انہیں گوشت اور کھال کیلئے فروخت کیا جاتا تھا  جو اب ممکن نہیں رہا۔ کچھ کسان ان گائیوں کو دور رکھنے کی غرض سے اپنے کھیتوں کے گرد خار دار تار کی باڑ لگا رہے ہیں۔ تاہم بیشتر کسان اس کے خرچ کے متحمل نہیں ہو پا رہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ آوارہ گائیں اُن کی فصلوں کو موسمی شدتوں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایک متمول کسان ارون کمار کا کہنا ہے کہ اُس کے پاس 16 گائیں موجود ہیں اور وہ بوڑھی ہو جانے والی گائیوں کو بھی اپنے پاس رکھتا ہے۔ تاہم، چھوٹے کسان بوڑھی ہو کر ناکارہ ہو جانے والی گائیوں کی دیکھ بھال کی سکت نہیں رکھتے۔ اس مسئلے کا بظاہر کوئی فوری حل موجود نہیں ہے۔ ہندو خیراتی اداروں اور ریاستی حکومتوں نے بوڑھی گائیوں کیلئے شیلٹر ہوم قائم کئے ہیں۔ تاہم، ایسی گائیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کیلئے شیلٹر ہوم کی سہولتیں انتہائی ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ بھارتی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ گائیوں کے تحفظ کے سلسلے میں کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔ تاہم، جوں جوں انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے، یہ ناراض کسان ووٹ دینے سے پہلے اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ اُن کی  فصلوں اور آمدنی کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔  

  • امن کے لیے طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات کرنا ہوں گے، زلمے خلیل زاد

    امن کے لیے طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات کرنا ہوں گے، زلمے خلیل زاد

    کابل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ علاقائی ملک بھی طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حق میں ہیں اور پائیدار امن کے لیے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنا ہو گا۔

  • ایران: مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کی کوشش ناکام

    ایران: مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کی کوشش ناکام

    ایرانی عہدے داروں نے کہا ہے کہ زمین کے مدار میں ایک سیٹلائٹ پہنچانے کی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ سیٹلائٹ لے جانے والا راکٹ وہ رفتار حاصل نہ کر سکا جو سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچانے کے لیے درکار تھی۔

  • کابل میں بارودی ٹرک کے حملے میں ایک امریکی اور ایک بھارتی شہری ہلاک

    کابل میں بارودی ٹرک کے حملے میں ایک امریکی اور ایک بھارتی شہری ہلاک

    پیر کے روز افغانستان کے دارالحکومت کابل ہونے والے ٹرک خودکش دھماکے میں دو غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سے ایک امریکی اور ایک بھارتی شہری تھا۔

  • ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ میں بھارتی سیکیورٹی فورس کا عہدے دار ہلاک

    ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ میں بھارتی سیکیورٹی فورس کا عہدے دار ہلاک

    کشمیر میں دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد کے کئی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے جس سے دونوں جانب  کشیدگی بتدریج بڑھ رہی ہے۔

  • پاکستان میں طالبان رہنما کی گرفتاری، زلمے خلیل زاد کی کابل آمد

    پاکستان میں طالبان رہنما کی گرفتاری، زلمے خلیل زاد کی کابل آمد

    خلیل زاد ایک ایسے وقت کابل پہنچے ہیں جب افغان امن بات چیت تعطل کا شکار ہے اور طالبان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے افغان امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے افغانستان کے ایک اعلیٰ طالبان رہنما کو گرفتار کر لیا ہے۔

  • بھارت میں دنیا کے سب بڑے مذہبی اجتماع کمبھ میلے کا آغاز

    بھارت میں دنیا کے سب بڑے مذہبی اجتماع کمبھ میلے کا آغاز

    اترپردیش کے پریاگ راج (الہ آباد) میں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت کمبھ میلے کا ”شاہی اشنان“ کے ساتھ منگل کے روز آغاز ہو گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ہندومت میلہ دنیا کا سب سے بڑا  مذہبی اجتماع ہے جو آئندہ 45 دنوں تک جاری رہے گا۔ اس میلے میں پندرہ کروڑ سے زائد لوگ اشنان یعنی ”پاک غسل“ کریں گے۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق گنگا اور جمنا دریاؤں کے سنگم پر واقع اس مقام پر اشنان کرنے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں اور سورگ یعنی جنت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ منگل کی صبح ساڑھے پانچ بجے شاہی اشنان کا آغاز ہوا جو کہ شام کے ساڑھے چار بجے تک جاری رہا اور اس کے ساتھ ہی عقیدت مندوں کے مطابق جنت کا دروازہ کھل گیا ہے۔  شردھالوؤں کے لیے دریائے گنگا کے ساحل پر 2300 ایکڑ رقبے میں ایک چھوٹا سا شہر بسایا گیا ہے۔ یہاں ایک خیمے یا ٹینٹ کا کرایہ 2100 روپے سے لے کر 20000 روپے فی شب ہے۔ کمبھ کے ضلعی کلکٹر کے مطابق اس مرتبہ میلے کی سرگرمیاں 45 مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں جبکہ ماضی میں یہ علاقہ 20 مربع کلومیٹر تک ہوتا تھا۔ ان کے مطابق اس پھیلاؤ کا فائدہ یہ ہے کہ سنگم کے مقام پر ہجوم کا دباؤ زیادہ نہیں ہو گا اور اس کی وجہ سے زیادہ اشنان گھاٹ بھی بنائے جا سکے ہیں۔ شہر بھر میں سڑکوں کو کشادہ کیا گیا ہے اور نئے فلائی اوورز بنائے گئے ہیں۔ میلے میں 300 کلومیٹر سڑک بنائی گئی ہے۔ شہر کے چاروں طرف وسیع پیمانے پر کار پارکنگ بنائی گئی ہے تاکہ تقریباً پانچ لاکھ گاڑیوں کو پارک کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پینٹون پل بھی بنایا گیا ہے تاکہ شردھالو اشنان گھاٹوں تک جا سکیں۔ اس کے علاوہ یہاں بڑی تعداد میں پہنچنے والے شردھالوؤں، اکھاڑوں اور سادھو سنتوں کے لیے ڈارمیٹری اور ٹینٹ اسٹال نصب کیے گئے ہیں۔  پہلی بار خواجہ سراؤں کا ایک آشرم اس میں شرکت کر رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کے ایک کارکن لکشمی نرائن ترپاٹھی ممبئی میں چلاتے ہیں۔ پیر کے روز دو گیس سلنڈروں میں دھماکے کی وجہ سے دو خیموں میں آگ لگ گئی تھی۔ مگر اس سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔  اترپردیش کے مذہبی امور کے وزیر لکشمی نرائن چودھری کے دعوے کے مطابق آزادی کے بعد پہلی بار سادھوؤں، آشرموں اور اکھاڑوں کے لیے باضابطہ طور پر دودھ، گھی، پھل، کمبل اور جلانے والی لکڑیوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق ساڑھے تین سو سال قبل اس مقام کا نام پریاگ راج تھا جسے بعد میں بدل کر الہ آباد کر دیا گیا تھا۔ لیکن گزشتہ سال ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس کا نام پھر سے پریاگ راج کر دیا۔ وزیر کا کہنا تھا  کہ 350 سال کے بعد اس مقام پر کمبھ میلے کی شکل میں دنیا کا سب سے بڑا روحانی اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔  انتظامیہ کے مطابق یہاں زبردست بھیڑ کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کمبھ میلے کے ڈی آئی جی کے پی سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پہلی بار میلے میں تین خاتون یونٹ تعینات کیے گئے ہیں جو خاتون شردھالوؤں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ہیلپ لائن بھی 24 گھنٹے کام کر رہی ہے۔ وزارت خارجہ کا ایک یونٹ بھی پہنچا ہوا ہے جو غیر ملکی عقیدت مندوں کی مدد کر رہا ہے۔  نقل و حمل کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار ٹریفک جوان تعینات کیے گئے ہیں۔  نہانے والے گھاٹوں پر کپڑے تبدیل کرنے اور ٹوائلٹ کا بڑی تعداد میں انتظام کیا گیا ہے۔ کمبھ انتظامیہ کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار بیت الخلا بنائے گئے ہیں۔ گزشتہ کمبھ میلے میں ان کی تعداد 34 ہزار تھی۔ یہ کمبھ میلہ نصف کمبھ میلہ ہے جو کہ ہر چھ سال پر آتا ہے۔ لیکن حکومت نے اس بار اس کا نام بدل کر کمبھ میلہ کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر ہرش وردھن نے پیر کے روز موسم کی معلومات کے لیے ایک موبائل ایپ ”کمبھ میلہ ویدر سروس“ لانچ کیا ہے جس کی مدد سے موسم کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ منگل کے روز مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے دریائے گنگا میں ڈبکی لگائی۔ میلے میں بہت سی چیزیں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں جن میں ناگا سادھو بھی ہیں۔ یہ برہنہ ہوتے ہیں اور اپنے جسموں پر راکھ ملے ہوتے ہیں۔ ان کے اشنان کو ہی شاہی اشنان کہا جاتا ہے۔  یہ لوگ تارکِ دنیا ہوتے ہیں اور ان کی پوری زندگی اکھاڑوں میں گزرتی ہے۔ لیکن جب کمبھ میلہ لگتا ہے تو وہ اس میں جاتے ہیں اور تب لوگوں کو ان کے درشن ہوتے ہیں۔  یہاں شائقین کی دلچسپی کے اور بھی سامان ہیں۔ سنگم تک لے جانے کے لیے بنائے گئے عارضی پینٹون پل کے پاس ایک ایسا سادھو جو بڑے فخر کے ساتھ شائقین کو اپنی تقریباً تین میٹر لمبی مونچھیں دکھاتا رہتا ہے۔  درجنوں لوگ اس کے خیمے میں جاتے ہیں، اس سے گفتگو کرتے ہیں اور اس کے ساتھ سیلفی لیتے ہیں۔ اس سے چند قدم کی مسافت پر ایک بابا ہے جسے ”سیلفی بابا“ کہتے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون سے منسلک ایک سیلفی اسٹک ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو یہ کہہ کر بلاتا ہے کہ آؤ اور یادگار کے طور پر ایک سیلفی لے لو۔ ایک برہنہ سادھو کو ”لیپ ٹاپ بابا“ کہا جاتا ہے۔ جس کے پاس لیپ ٹاپ کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔  میلے کے آغاز پر ضلع پریاگ راج کے تمام سکول اور کالج تین دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ شہر کو آنے والی تمام سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں اور گاڑیوں کو شہر سے باہر روک دیا جاتا ہے جہاں سے لوگوں کو بسوں اور رکشوں کے ذریعے میلے کے مقام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ اردھ کمبھ یعنی نصف کمبھ ہے مگر اسے مکمل کمبھ کا نام دیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا تین ماہ کے بعد ہونے والے پارلیمانی الیکشن کے پیش نظر کیا گیا ہے۔  کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ نہ تو مرکزی حکومت کے پاس دکھانے کے لیے کوئی کارگزاری ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت کے پاس، لہٰذا اس میلے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ اس کے نام پر ہندوؤں کے ایک طبقے کو خوش کیا جا سکے۔ 

  • کابل: سیکورٹی زون میں کار بم دھماکے میں 4 ہلاک، 90 زخمی

    کابل: سیکورٹی زون میں کار بم دھماکے میں 4 ہلاک، 90 زخمی

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے کہا ہے کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے زیادہ تر افراد عام شہری تھے۔  انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 23 بچے بھی شامل ہیں۔

  • امریکہ کے ساتھ مذاکرات رک گئے ہیں، طالبان

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات رک گئے ہیں، طالبان

    یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مذاكرات میں حالیہ تعطل کی بنیادی وجہ امریکہ کا یہ اصرار ہے کہ طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کریں، جس سے طالبان انکار کرتے آئے ہیں۔


  • ’شاداب کے لیے تالیاں، مگر گونج کب تک سنائی دے گی؟‘

    ’شاداب کے لیے تالیاں، مگر گونج کب تک سنائی دے گی؟‘

    سیریز تو خدا خدا کر کے ختم ہو ہی چکی، سوال صرف یہ ہے کہ اب جبکہ اگلے سات ماہ تک پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی کوئی اسائنمنٹ نہیں ہے، تب تک یہ شرمناک شکست اور اس کے بیچ سیکھے معمولی معمولی سبق کس کو یاد رہیں گے؟

  • جنوبی افریقہ کا کلین سویپ، تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 107 رنز سے شکست

    جنوبی افریقہ کا کلین سویپ، تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 107 رنز سے شکست

    جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 107 رنز سے شکست دے کر سیریز تین صفر سے جیت لی ہے۔

  • پاکستان کے 153 رنز پر تین کھلاڑی آوٹ، تیسرے دن کے کھیل کا اختتام

    پاکستان کے 153 رنز پر تین کھلاڑی آوٹ، تیسرے دن کے کھیل کا اختتام

    جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن جنوبی افریقہ نے پاکستان کو جیت کے لیے 381 رن کا ہدف دیا ہے۔ اکستان کو کلین سوئیپ سے بچنے کے لیے مزید 228 رنز درکار ہیں۔

  • عورتوں کے متعلق

    عورتوں کے متعلق 'نازیبا' باتیں کرنے پر دو انڈین کھلاڑی معطل

    انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے انڈین ٹیم میں شامل کرکٹ کھلاڑی ہاردک پانڈیا اور کے ایل راہل کو ایک ٹی وی شو میں خواتین کے بارے میں ’نازیبا‘ باتیں کرنے پر ٹیم سے معطل کر دیا ہے۔

  • پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: ’یہ پاکستانی بیٹنگ ہے یا ایرانی سینیما؟‘

    پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: ’یہ پاکستانی بیٹنگ ہے یا ایرانی سینیما؟‘

    دورۂ جنوبی افریقہ کے دوران ڈریسنگ روم کے ماحول سے لے کر پچز کی خرابی اور بولرز کی سست رفتاری تک سبھی کچھ زیرِ بحث آ چکا مگر پھر بھی سمجھ نہیں آئی کہ پے در پے ناقص کارکردگی کی اصل وجہ کیا ہے۔

  • جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ کی 212 رنز کی برتری اور 5 کھلاڑی آؤٹ

    جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ کی 212 رنز کی برتری اور 5 کھلاڑی آؤٹ

    جنوبی افریقہ نے اپنی دوسری اننگز میں پاکستان پر 212 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے جبکہ اس کے پانچ کھلاڑی آوٹ ہو چکے ہیں۔

  • مائیکل جانسن: کیسے فالج نے ایک ’سپرمین‘ کی زندگی تبدیل کر دی

    مائیکل جانسن: کیسے فالج نے ایک ’سپرمین‘ کی زندگی تبدیل کر دی

    سابق ایتھلیٹ مائیکل جانسن نے بی بی سی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فالج کے دورے کے بعد سے ان کی زندگی ڈر اور بےیقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

  • اینڈی مرے نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، آسٹریلین اوپن شاید آخری مقابلہ ہو

    اینڈی مرے نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، آسٹریلین اوپن شاید آخری مقابلہ ہو

    برطانوی ٹینس کھلاڑی اینڈی مرے کا اس سال کے وِمبلڈن کے بعد ریٹائر ہونے کا ارادہ ہے، لیکن ان کے خیال میں شاید اگلے ہفتے ہونے والا آسٹریلین اوپن اُن کے کیریر کا آخری مقابلہ ہو۔

  • جب اینڈی مرے آبدیدہ ہو گئے

    جب اینڈی مرے آبدیدہ ہو گئے

    برطانوی ٹینس سٹار اینڈی مرے نے اگلے وِمبلڈن کے بعد ریٹائیرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

Promo Image

Health Section
  • اپنی گاڑیوں کی طرح گھٹنوں میں بھی شاک اَبزرور لگوائیں

    اپنی گاڑیوں کی طرح گھٹنوں میں بھی شاک اَبزرور لگوائیں

    جوڑوں کے درد کا عارضہ یا اَرتھرایٹس ایک ایسی بیماری جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ ترقی یافتہ ملک ہوں یا ترقی پزیر ملک، ہر جگہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں مناسب طبّی سہولتیں میسر نہیں وہاں لوگوں کی زندگیاں اسی معذوری کے ساتھ گذر جاتی ہے۔ اس تکلیف سے نجات حاصل کرنے کا اس وقت جو طریقہ مروج ہے، وہ ہے گھٹنوں کی تبدیلی، مگر یہ خاصا مہنگا علاج ہے۔ امریکہ میں بھی جوڑوں کے درد کا عارضہ بڑھتا جا رہا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق سن دو ہزار تیس تک گھٹنوں کی تبدیلی کی سرجری کروانے والوں کی تعداد میں چھ سو گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اس مرض میں ہوتا یہ ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنے کی ہڈیوں کے درمیان لچک دار مادّہ خستہ اور کمزور ہو جاتا ہے۔ عام بول چال میں اس لچک دار مادّے کو کرکری ہڈّی کہا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ہڈّی بالکل ناکارہ ہو جاتی ہے۔ شدید تکلیف کے علاوہ مریض چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔ امریکہ کی ریاست اوہایئو کے ویکزنر میڈیکل سینٹر کے تحقیق کاروں نے اب ایک متبادل طریقہ دریافت کیا ہے۔ انہوں نے ایسا آلہ یجاد کیا ہے جو گھٹنے پر پڑنے والے دباو کو گھٹنے  کے اندرونی  حصے پر پڑنے سے بچاتا ہے۔ اس میڈیکل سینٹر کے محقق ڈاکٹر ڈیوڈ فلےنی گان کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے شاک اَبزرور ہے، تقریباً ویسا ہی جیسا کہ گاڑیوں میں نصب ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے آپ کو جھٹکے  محسوس نہیں ہوتے۔ یہ آلہ گھٹنے کے جوڑ کے اند پڑنے والے بوجھ کو اٹھا کر گھٹنے کے بیرونی حصے کو منتقل کر دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف درد میں کمی آتی ہے بلکہ ارتھائٹس کے بڑھنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ فلےنی گان کا کہنا ہے اگر اس میں مزید کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر گھٹنے تبدیل کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آجائے گی، جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس جدید طریقے کو کلیپسو نی سسٹم (Calypso knee system) کا نام دیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ میں ہر سال تقریباً چھ لاکھ گھٹنوں کی تبدیلی کے اَپریشن کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں دس سے پندرہ فی صد افراد کسی نہ کسی عمر میں آرتھرائٹس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس نئے طریقے کو تجرباتی مراحل سے نکل کر اَزمودہ ہونے میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔

  • چاند پر کپاس اگنے لگی

    چاند پر کپاس اگنے لگی

    چاند گاڑی ’چانگی فور‘ سے زمینی مرکز پر موصول ہونے والی تازہ تصویروں میں کپاس کے بیچ سے کونپلیں پھوٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک آلو اور سرسوں کے بیجوں سے کوئی کونپل نہیں نکلی۔

  • سرطان کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ

    سرطان کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ

    سرطان کے بارے میں نئے اعدادو شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سرطان پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے کا اندازہ ہے کہ اس سال سرطان کے 18 ملین (ایک کروڑ 80  لاکھ ) نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد 96  لاکھ ہے۔ اس سلسلے میں جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں 185  ملکوں میں سرطان کی چھتیس اقسام کے بارے میں اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر پانچ مروں میں سے ایک اور ہر چھ عورتوں میں سے ایک کو اپنی زندگی میں سرطان کے مرض کا سامنا ہوتا ہے اور اس مرض میں مبتلا مردوں کی موت کی شرح عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرطان کے نئے کیسز میں نصف سے زیادہ  اموات  ایشیا میں ہوئیں اور اس کی جزوی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا تقریبا 60 فیصد اس خطے میں آباد ہے۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر نئے کیسز میں پھیپھڑے اور چھاتی کا سرطان سر فہرست رہا اور اس کے بعد آنتوں، پروسٹیٹ اور پیٹ کے سرطان کے کیسز ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق پھیپھڑے کا سرطان موت کے کلیدی اسباب میں شامل رہا جس کی وجہ سے 2018  میں 18  لاکھ اموات ہوئیں ۔ سرطان کی تحقیق کے بین الاقوامی ادارے میں نگران شعبے کے سربراہ فریڈی برے کا کہنا ہے کہ خیال یہی ہے کہ 2040 تک سرطان کے نئے کیسز  کی تعداد  2  کروڑ 39 لاکھ تک پہنچ جائے گی جبکہ اموات کی تعداد ایک کروڑ 63 لاکھ ہو جائے گی۔ فریڈی برے کا کہنا ہے کہ سرطان کے کیسز کی تعداد میں 2040 تک سب سے زیادہ اضافہ ان ملکوں میں ہو گا جہاں سماجی اقتصادی ترقی کی شرح کم ترین سطح پر ہے۔ ان میں سے کچھ  نیم سہارہ افریقہ، کچھ جنوبی امریکہ اور کچھ جنوبی ایشا میں ہونگے۔ سرطان کے کیسز میں اضافے کا سامنا کرنے والے ملکوں میں اس وقت بھی اس سے نمٹنے کے لئے مناسب وسائل اور ذرائع بھی نہیں ہیں عالمی ادارہ صحت کے غیر متعدی امراض کے شعبے کے ڈائریکٹر ایتین کروگ کہتے ہیں کہ لوگوں کی موت کا باعث بننے والے سرطان کے کلیدی خطرات میں سے بیشتر کو روکا جا سکتا ہے اور یہ تمباکو  اور  شراب نوشی کے استعمال میں کمی ۔ ورزش میں اضافے اور خوراک کو بہتر  بنانے کے ذریعے ممکن ہے۔ کروگ کا کہنا ہے کہ ہم مختلف نوعیت کے سرطان کی روک تھام کے لئے اپنے مدافعتی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں جیسے سروائکل کینسر اور جگر کا کینسر۔ لیکن جن لوگوں کو سرطان ہو چکا ہے ان کے لئے بھی اب اس کی نوعیت سزائے موت جیسی نہیں ہونا چاہیے۔ کروگ کا کہنا ہے کہ سرطان میں مبتلا ہونے والے افراد کی شرح زندگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے صحت کی سہولتوں میں بہتری،  جلد تشخیص اور مناب علاج معالجے تک رسائی ممکن بنانا  ضروری ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ قریب المرگ  بیماروں کی تکلیف میں کمی کے لئے  انتہائی نگہداشت ضروری ہے

  • بھارت 2021ء میں اپنا پہلا انسان بردار راکٹ خلا میں بھیجے گا

    بھارت 2021ء میں اپنا پہلا انسان بردار راکٹ خلا میں بھیجے گا

    خلا میں انسان لے جانے والے بھارتی راکٹ گگیان کا انسانی عملہ تین افراد پر مشتمل ہو گا اور وہ 7 دن تک خلا میں رہیں گے۔ اس خلائی مشن پر لاگت کا اندازہ دس ارب بھارتی روپے لگایا گیا ہے۔

  • دنیا بھر میں سائبر حملوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے: سروے

    دنیا بھر میں سائبر حملوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے: سروے

    اسرائیل اور روس کے لوگ سب سے زیادہ پُراعتماد قوموں میں سب سے آگے ہیں، جن کے سروے میں شامل دو تہائی سے زیادہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُن کی حکومتیں بڑے سائبر واقع سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہیں

  • میزائل اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی قدیم ہندو ایجادیں ہیں: بھارتی سائنس دان

    میزائل اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی قدیم ہندو ایجادیں ہیں: بھارتی سائنس دان

    آندھرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے سائنٹفک کانگریس کانفرنس میں کہا کہ قدیم کورو عہد میں ایک ماں نے 100 بچے پیدا کیے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ’سٹمپ سیل اور ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی استعمال کرتے تھے۔ جس کے بغیر ایک عورت کا اتنے بچے پیدا کرنا ممکن نہیں ہے۔

  • ایم آر آئی، مرض کی تشخیص کا ایک حیرت انگیز ذریعہ

    ایم آر آئی، مرض کی تشخیص کا ایک حیرت انگیز ذریعہ

    ایم آر آئی یعنی میگنیٹک ریزو نینس امیج   کا طریق کار مختلف امراض کا پتہ چلانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں مریض کو ایک ایسی مشین کے اندر لیٹنا ہوتا ہے جہاں سر کے لئے جگہ بہت کم ہوتی ہے۔ یہ طریق کار خاص طور پر ان لوگوں کے لئے دشوار ہے جنہیں تنگ جگہوں پر دشواری ہوتی ہے اور وہ خوف محسوس کرتے ہیں ۔ یونیورسٹی آف مزوری میں تحقیق کار کوشش کر رہے ہیں کہ اس تجربے کو مریضوں اور ڈاکٹروں کے لئے بہتر بنایا جائے۔ وائس آف امریکہ کی کیرل پیرسن کی رپورٹ کے مطابق  ایم آر آئی طریق کار سے ڈاکٹروں کو ریڈی ایشن استعمال کئے بغیر کسی بھی زخم یا مرض کو تشخیص کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ایم آر آئی ٹیکنالوجی میں طاقتور مقناطیس, ریڈیائی لہروں اور کمپیوٹر کی مدد سے جسم کی اندرونی تصاویر تفصیلی انداز میں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ طریق کار خاص طور پر دل کے مریضوں کے لئے اہم ہے۔ ایم آر آئی کی مدد سے ڈاکٹر یہ جانچ کر سکتے ہیں کہ خون کی نالیوں میں کہیں رکاوٹ تو نہیں۔ پھر دل کے دورے کے بعد اس کی مدد سے دل کو پہنچنے والے نقصان کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس طریق کار کا منفی پہلو یہ ہے کہ مریضوں کو دیر تک ایک لمبی سے ٹیوب میں بے حس و حرکت لیٹنا ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جنہیں تنگ جگہوں سے وحشت ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف مزوری کے سکول آف میڈیسن میں تحقیق کار ڈاکٹر تالیسا اہلتز کا کہنا ہے کہ یہ طریق کار بعض مریضوں کے لئے بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ بہت تھکا سکتا ہے اور اکثر اس کا دورانیہ بھی کافی زیادہ ہوتا ہے۔ ہم اس کے لئے ۹۰ منٹ کا وقت مقرر کرتے ہیں اور اگر کبھی  آپ نے ایم آر آئی کرایا ہو تو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک طویل وقت ہے۔  پھر واضح تصاویر حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ  بار بار سانس روکیں۔ یونیورسٹی آف مزوری کے سکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے رابرٹ تومن بتاتے ہیں کہ عام طور پر ایم آر آئی میں ایک تصویر حاصل کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور اگر تصویر لینے کے دوران آپ کے جسم میں حرکت ہو تو پھر تصویر دھندلا جاتی ہے۔ تومن اور آلتز ’ھارٹ سپیڈ‘  نامی ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کی مدد سے معلومات کا تجزیہ کرنے والا سوفٹ ویئر ایم آر آئی تصاویر سے حرکت کی معلومات کو  خارج کر دیتا ہے ۔ان کے ساتھی سٹیو وان دورن کہتے ہیں کہ ہارٹ سپیڈ کی مدد سے ریڈیو لو جسٹس دل کو  اس وقت بھی واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں جب مریض معمول کے مطابق سانس لے رہا ہو۔ وان ڈورن کا کہنا ہے کہ  اس سوفٹ ویئر کی مدد سے ہم سانس کی حرکت کو دل کی حرکت سے الگ کر سکتے ہیں اور ہم نے غور کیا کہ ہمیں اس کا  اطلاق  مریض کی معلومات پر کرنا چاہئے ۔  اس کا مقصد یہ ہے کہ مریضوں کے لئے اس طریق کار کو آسان کر دیا جائے اور آرام دہ بھی کہ وہ سانس لیتے رہیں اور ایم آر آئی بھی جاری رہےاور سانس روکے بغیر کام کرنے سے اس کا دورانیہ بھی کم ہو جائے گااور 90 منٹ کی بجائے محض 15 سے 30 منٹ ہو سکے گا۔  التز کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو فائدہ ہو گا کیونکہ ان کی جانچ کا عمل اسان ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی امید ہے کہ ریڈیالوجسٹ اور ماہر امراض قلب کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ تصاویر واضح اور اچھی ہونگی۔  تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ ’ھارٹ سپیڈ ‘ ٹیکنالوجی آئندہ 5 برسوں میں استعمال کے لئے دستیاب ہو سکے گی۔

  • چاند کے تاریک حصے پر چین کے خلائی جہاز کی لینڈنگ

    چاند کے تاریک حصے پر چین کے خلائی جہاز کی لینڈنگ

    چاند کی سطح پر اتارے جانے والے چانگا فور میں ایک چاند گاڑی بھی ہے جس پر چاند کی سطح کی تحقیق اور معدنیات کی موجودگی کا کھوج لگانے والے آلات نصب ہیں۔

  • خفیہ جوہری تجربات کے کھوج لگانے والی لیبارٹری

    خفیہ جوہری تجربات کے کھوج لگانے والی لیبارٹری

    یہ آلات اس قدر حساس ہیں کہ وہ انسان کی طرف سے تیار کردہ آئی سو ٹوپس  کا پتا جوہری سرگرمی ختم ہونے سے پہلے ہی  لگا سکتے ہیں۔ یہ ان سرگرمیوں کا بھی کھوج بھی لگا سکتے ہیں جنہیں عمداً خفیہ رکھا جاتا ہے۔


  • چین میں

    چین میں 'آئس' نامی منشیات کے گاڈ فادر کو پھانسی

    چین میں کیمونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے منشیات فروش کائے ڈانگجیا کو پھانسی دے دی گئی ہے ان کے گاؤں کے 20 فیصد گھروں میں آئس تیار کی جاتی تھی۔

  • افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور مفادات

    افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور مفادات

    طالبان ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اُن کے ایک رہنما حافظ محب اللہ کو گذشتہ جمعہ کو پشاور سے گرفتار کیا تھا اور پیر کو ڈرامائی انداز میں واپس رہا کر دیا۔ پاکستان اس اقدام سے کس کو اور کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

  • گجرات: مودی کے دور حکومت میں ’فرضی انکاؤنٹر‘

    گجرات: مودی کے دور حکومت میں ’فرضی انکاؤنٹر‘

    بھارتی ریاست گجرات میں 2002 سے 2006 کے درمیان ہونے والے سترہ پولیس مقابلے یا انکاؤنٹرز کی تحقیقات رپورٹ میں کسی بڑے افسر یا سیاسی رہنما کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے

  • بنگلہ دیش میں سیلاب کا علاج، تیرتے کھیت

    بنگلہ دیش میں سیلاب کا علاج، تیرتے کھیت

    کیا آپ نے کبھی تیرتے کھیت دیکھے ہیں؟ سیلاب زدہ بنگلہ دیش میں کسان ایسے کھیت بنا کر اپنی فصلیں بچانا سیکھ رہے ہیں۔ یہ کھیت ایک قدیم تکنیک کی مدد سے بنائے جاتے ہیں اور یہ پانی کی سطح کے ساتھ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ دیکھیے ڈیجیٹل ویڈیو۔

  • کمبھ میلے کا آغاز، لاکھوں افراد مقدس غسل کے لیے جمع

    کمبھ میلے کا آغاز، لاکھوں افراد مقدس غسل کے لیے جمع

    انڈیا کے شمالی شہر پریاگ راج (الہ آباد) میں دنیا میں ہندوؤں کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جانے والا کمبھ میلہ سج گیا ہے اور منگل کو مقدس غسل سے میلے کا باقاعدہ آغاز بھی ہو گیا ہے۔

  • کمبھ میلہ: دنیا کے سب سے بڑے اجتماع کی تیاری کیسے ہوتی ہے؟

    کمبھ میلہ: دنیا کے سب سے بڑے اجتماع کی تیاری کیسے ہوتی ہے؟

    انڈیا کے شہر الہ آباد میں منعقد ہونے والے مذہبی تہوار کمبھ میلے کو دنیا کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جاتا ہے جس میں اس برس تقریباً 12 کروڑ افراد کی شرکت کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

  • انڈیا کے ماڈرن کباڑیے: جو کچرے سے پیسے کمانے کا ہنر جانتے ہیں

    انڈیا کے ماڈرن کباڑیے: جو کچرے سے پیسے کمانے کا ہنر جانتے ہیں

    'شیو سکریپ ڈیلرز' کے مالک گووند اور ان کے بھائی جوگیندر اپنے کام میں ماہر ہیں۔ دس سال سے زائد عرصے سے وہ اور ان کے بھائی کچرے میں سے ہر اس چیز کو نکال لیتے ہیں جسے لوگ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔

  • کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامی

    کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامی

    انڈین فوج کے ایک سابق اعلی ترین کمانڈر نے کہا ہے کہ سنہ 1999 میں پاکستان فوج کی طرف سے کارگل کے علاقے میں در اندازی ملٹری انٹیلی جنس اور دوسرے خفیہ اداروں کی ایک بہت بڑی ناکامی تھی۔

  • مرے ہوئے انسانوں کا گوشت کھانے والے سادھوؤں سے کراہیت بھی آتی ہے اور خوف بھی

    مرے ہوئے انسانوں کا گوشت کھانے والے سادھوؤں سے کراہیت بھی آتی ہے اور خوف بھی

    ہندو سادھوؤں کا گروہ اگھوری مذہبی روایت کے طور پر شمشان گھاٹوں میں جنسی فعل کرتا ہے، مردہ انسانوں کا گوشت کھاتا ہے اور عام ہندوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی عقیدت مند ہے۔

South Asia News in Urdu

American News in Urdu
  • دیوار کی تعمیر کے معاملے پر ٹرمپ اور پلوسی کی ایک دوسرے پر تنقید

    دیوار کی تعمیر کے معاملے پر ٹرمپ اور پلوسی کی ایک دوسرے پر تنقید

    پلوسی نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ 29 جنوری کو ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ کا خطاب مؤخر کریں، جب تک سرکاری رقوم جاری ہونے کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا اور شٹ ڈاؤن ختم نہیں کیا جاتا

  • کیلی فورنیا: شدید بارش اور برف باری، ٹریفک حادثات میں کئی افراد ہلاک

    کیلی فورنیا: شدید بارش اور برف باری، ٹریفک حادثات میں کئی افراد ہلاک

    اطلاعات کے مطابق، ایک ہفتے سے جاری شدید طوفانی موسم کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں

  • ثاقب نثار متنازعہ اور ناکام چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے: علی احمد کرد

    ثاقب نثار متنازعہ اور ناکام چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے: علی احمد کرد

    سابق جج جسٹس ناصرہ جاوید نے کہا ہے کہ ’’ججوں کو اپنا کام اپنے فیصلوں کے ذریعے کرنا چاہیئے اور براہ راست مقننہ اور انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے‘‘

  • امریکہ: ہائپر سونک میزائل حملوں کا خلا سے دفاع کرنے کا منصوبہ

    امریکہ: ہائپر سونک میزائل حملوں کا خلا سے دفاع کرنے کا منصوبہ

    میزائل حملوں سے دفاع کا امریکی ادارہ ایم ڈی اے، آواز سے کئی گنا تیز رفتار میزائلوں کا راستہ روکنے کے لیے خلا میں ایسے مراکز قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے جہاں سے راکٹ داغ کر میزائل کو راستے میں ہی تباہ کر دیا جائے۔

  • امریکہ اور برطانیہ کو بیک وقت نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں کا سامنا

    امریکہ اور برطانیہ کو بیک وقت نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں کا سامنا

    امریکہ اور برطانیہ دنوں ایسے سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہیں جو ختم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ امریکی ایوان نمائیندگان کے نئے منتخب ہونے والے ارکان نے بدھ کے روز سنیٹ پر زور دیا کہ وہ شٹ ڈاؤن یعنی حکومت کی بندش کے بارے اخراجاتی بلوں پر ووٹنگ کروایں جبکہ برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے پارلیمان میں بریکسٹ کے سمجھوتے کی شکست کے بعدکل بدھ کے روز عدم اعتماد کی  ووٹنگ میں بال بال بچیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئے ارکان کانگریس نے کل بدھ کے روز سنیٹ  پر زور دیا کہ وہ  اس مالی بل پر رائے شماری کا اہتمام کرے جس سے شٹ ڈاؤن ختم کیا جا سکے۔  ایوان نمائیندگان میں ڈیموکریٹک  پارٹی کی  نو منتخب رکن اِلہان عمر کا کہنا ہے ’’ہم نے سنیٹ میں اکثریتی فریق کو وہی بل بھجوائے ہیں جن کے حق میں وہ پہلےووٹ دے چکے ہیں۔ اب ہم اُنہیں یہ بل منظور کرنے کیلئے اپنی انتظامیہ کی طرف سے اجازت کا انتظار کئے بغیر لیڈرشپ دکھانے کا ایک موقع فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کر دئے ہیں جس کے ذریعے فرلو پر جانے والے یا پھر بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے لگ بھگ 800,000 سرکاری ملازمین کو معاوضے کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ۔میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلئے فنڈنگ کی منظوری نہیں دی جاتی، وہ شٹ ڈاؤن  ختم نہیں کریں گے۔ اُدھر برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے کی بریکسٹ سمجھوتے سے متعلق اپنی پارلیمان کے ساتھ محاذ آرائی جاری ہے۔ یہ سمجھوتا اُنہوں نے یورپین یونین کے ساتھ کیا تھا۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائینا میں سیاسیات کے ماہر کلاس لیرس کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا کی دونوں کلیدی جمہوریتوں کے بحران عوامی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بریکسٹ پر ریفرنڈم 2016 کے وسط میں ہوا تھا۔ ٹرمپ اس کے چند ماہ بعد صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان دونوں میں ایک واضح تعلق موجود ہے کیونکہ 2016 عوامیت کی تحریک کا نقطہ آغاز تھا اور ان دونوں ملکوں نے اس سلسلے میں ایک دوسرے سے تعاون کیا۔۔ لیرس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور بریکسٹ کے لیڈر نائجل فیراج نے کھلے عام ایک دوسرےکی حمیت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے دیوار کی تعمیر پر اصرار اور برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی ایسے معاملات ہیں جن سے عالمی معیشت اور امیگریشن کیلئےشدید خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، ’’اقتصادی انحطاط کا خوف، غیر ملکیوں سے متعلق خوف، پناہ گزینوں کا خوف اور قومی شناخت کھو جانے کا خوف،   میرے خیال میں لوگوں کی اکثریت اس سے گزر رہی ہے اور ان میں برطانیہ اور امریکہ کے عوام کا بڑا طبقہ شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل مدت تک جاری رہنے والے ان سیاسی بحرانوں سے دنیا بھر میں امریکہ اور برطانیہ کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہو رہی ہے اور  روسی صدر ولادی میر پوٹن اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کلاس لیرس کا کہنا ہے کہ  اُن کے خیال میں  اس کا براہ راست فائدہ پوٹن کو نہیں  پہنچ رہا ہے۔  تاہم چاہے امریکہ ہو یا برطانیہ، کوئی بھی ایسا  معاملہ جو  مغرب کے مضبوط جمہوری ملکوں کو نقصان پہنچاتا  ہے وہ امریکہ اور برطانیہ کے دوست ممالک کیلئے اچھا نہیں ہے۔ لیرس کا کہنا ہے کہ امریکہ میں شٹ ڈاؤن اُس وقت ختم ہو گا جب یہ امریکی معیشت کو متاثر کرنے لگے گا۔ برطانیہ کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ بحران کے نتیجے میں ایک اور ریفرنڈم منعقد ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا  ریفرنڈم ہو گا جس میں ووٹ دینے والے لوگ یورپین یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے اثرات کا پہلے کی نسبت بہتر طور پر با خبرہوں گے۔

  • ٹرمپ کو

    ٹرمپ کو 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب مؤخر کرنے کا مشورہ

    امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے پیشِ نظر کانگریس سے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب مؤخر کردیں۔ صدر ٹرمپ کو کانگریس کے دونوں ایوانوں سے 29 جنوری کو اپنا سالانہ خطاب کرنا ہے جس کی تیاریاں جاری ہیں۔ لیکن ہاؤس اسپیکر پیلوسی نے بدھ کو صدر کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے باعث اس انتہائی اہم سالانہ تقریب کی سکیورٹی کے انتظامات متاثر ہوسکتے ہیں۔ نینسی پیلوسی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ 26 روز سے جاری شٹ ڈاؤن کے باعث امریکی صدر کی سکیورٹی کے ذمے دار ادارے 'سیکرٹ سروس' اور محکمہ داخلی سلامتی کو بھی فنڈز نہیں مل سکے ہیں جس سے ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ جاری شٹ ڈاؤن کے باعث صدر ٹرمپ اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت پر مامور 'سیکرٹ سروس' کے اہلکار بغیر تنخواہوں کے کام کر رہے ہیں۔ اپنے خط میں نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ ان حالات میں 'اسٹیٹ آف دی یونین' کی تیاریاں اور سکیورٹی متاثر ہوسکتی ہے جس کے پیشِ نظر اسے شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک مؤخر کرنا بہتر ہے۔ خط میں پیلوسی نے صدر کو پیش کش کی ہے کہ شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے بعد وہ دونوں باہم مشاورت سے 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کے لیے کوئی اور مناسب تاریخ طے کرلیں گے یا ان کے بقول اگر صدر 29 تاریخ کو ہی خطاب کرنا چاہتے ہیں تو وہ تحریری طور پر ارکان سے مخاطب ہوں اور اپنی تقریر کا مسودہ ارکانِ کانگریس کو ارسال کردیں۔ امریکہ کے آئین کے تحت صدر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ "وقتاً فوقتاً کانگریس کو یونین کی صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔" لگ بھگ ایک صدی قبل تک صدر اپنا یہ خطاب تحریری صورت میں ہی ارکانِ کانگریس کو بھیجا کرتے تھے۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز سے ری پبلکن اور ڈیموکریٹس صدور بذاتِ خود ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سےیہ خطاب کرتے آ رہے ہیں جو ٹی وی اور ریڈیو پر براہِ راست نشر کیا جاتا ہے۔ عموماً اس خطاب میں امریکی صدر قانون سازی سے متعلق ترجیحات اور ملک کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہیں جسے عموماً ان کی جماعت کے ارکانِ کانگریس خوب سراہتے ہیں جب کہ مخالف جماعت کے ارکان خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ گو کہ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ہاؤس اسپیکر کے خط پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن داخلی سلامتی کے وزیر کرسجن نیلسن نے کہا ہے کہ تمام سرکاری ادارے 'اسٹیٹ آف دی یونین' کا انعقاد اور اس کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ غالب امکان ہے کہ وائٹ ہاؤس نینسی پیلوسی کی خطاب ملتوی کرنے کی تجویز مسترد کردے گا کیوں کہ یہ خطاب صدر ٹرمپ کے لیے شٹ ڈاؤن سے متعلق اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کرنے اور سرحدی دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے ڈیموکریٹس پر دباؤ بڑھانے کا ایک شاندار موقع ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ کانگریس بجٹ میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر کی  ابتدائی رقم مختص  کرے جسے ڈیموکریٹس ارکانِ کانگریس مسترد کرچکے ہیں۔ بجٹ پر یہی تنازع 22 دسمبر کو امریکی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کا سبب بنا تھا جو تاحال جاری ہے۔ شٹ ڈاؤن سے امریکہ کی وفاقی حکومت کے آٹھ لاکھ سے زائد ملازمین متاثر ہوئے ہیں جن میں سے نصف بغیر تنخواہ کے جبری رخصت پر ہیں جب کہ باقی بغیر تنخواہوں کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

  • محکمہٴ خارجہ جولائی میں آزادی مذہب پر سہ روزہ اجلاس منعقد کرے گا

    محکمہٴ خارجہ جولائی میں آزادی مذہب پر سہ روزہ اجلاس منعقد کرے گا

    آزادی مذہب کے قومی دن کے موقعے پر بدھ کو ایک اخباری بیان میں مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ’’دنیا کے ہر ایک شہری کو آزادی ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جس عقیدے کو درست سمجھے اختیار کرے اور اُس پر عمل پیرا ہو‘‘

  • امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن: کام کریں، تنخواہ نہ مانگیں

    امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن: کام کریں، تنخواہ نہ مانگیں

    امریکی تاریخ کے اس طویل ترین شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سرحد پر دیوار کی تعمیر سے متعلق تنازعے میں  کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

  • شٹ ڈاؤن کے دوران وائٹ ہاؤس میں فاسٹ فوڈ ڈنر

    شٹ ڈاؤن کے دوران وائٹ ہاؤس میں فاسٹ فوڈ ڈنر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز امریکی کالج فٹ بال چیمپین شپ کی فاتح ٹیم کلیمسن ٹائگرز کے اعزاز میں فاسٹ فوڈ ڈنر کا اہتمام  کیا۔ اس موقع پر میکڈونلڈ کے کوارٹرز پاؤنڈرز اور وینڈی کے ’ریڈ اینڈ وائٹ‘ برگر کھانے کا اہم حصہ تھے۔ وائٹ ہاؤس میں عام طور پر کھانے کا اہتمام وائٹ ہاؤس کے شیف کرتے ہیں۔ تاہم اس بار شیف سمیت وائٹ ہاؤس کا متعلقہ عملہ شٹ ڈاؤن کے باعث فرلو پر ہے۔ لہذا صدر ٹرمپ نے ضیافت میں فاسٹ فوڈ آرڈر کروایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکی کھانا ہے۔ اس لئے یہ شاندار ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’ہمارے پاس یہاں بہت سے پیزا، 300 برگر اور بہت سے فرینچ فرائیز ہیں جو ہم سب کا پسندیدہ کھانا ہے۔‘‘ کلیمسن ٹایگرز کے کھلاڑی رسمی سوٹوں میں ملبوس اس ضیافت میں شریک ہوئے۔ کھانے کے بعد کھلاڑیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ضیافت کو شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک کیلئے ملتوی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لہذا اُنہوں نے اس کیلئے فاسٹ فوڈ منگوانے کا فیصلہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری سارا سینڈرز نے بتایا ہے کہ اس ضیافت کے تمام اخراجات صدر ٹرمپ نے خود برداشت کئے۔ امریکن فٹبال ملک کا مقبول ترین کھیل ہے۔ اس کھیل کی یونیورسٹی سطح پر ہونے والی سالانہ چیمپئن شپ بھی نیشنل ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کی جاتی ہے۔ اور ملکی سطح پر کھیلنے والے کھلاڑی کالج فٹبال سے ہی آگے آتے ہیں۔ کلیسن ٹائگرز نے 7 جنوری کو  کالج فٹ بال چیمپین شپ کے فائنل میں ایلاباما کرمزن ٹائیڈ کو شکست دے کر چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔