جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

دنیا


اپنی گاڑیوں کی طرح گھٹنوں میں بھی شاک اَبزرور لگوائیں

Thu, 17 Jan 2019

اپنی گاڑیوں کی طرح گھٹنوں میں بھی شاک اَبزرور لگوائیں

جوڑوں کے درد کا عارضہ یا اَرتھرایٹس ایک ایسی بیماری جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ ترقی یافتہ ملک ہوں یا ترقی پزیر ملک، ہر جگہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں مناسب طبّی سہولتیں میسر نہیں وہاں لوگوں کی زندگیاں اسی معذوری کے ساتھ گذر جاتی ہے۔ اس تکلیف سے نجات حاصل کرنے کا اس وقت جو طریقہ مروج ہے، وہ ہے گھٹنوں کی تبدیلی، مگر یہ خاصا مہنگا علاج ہے۔ امریکہ میں بھی جوڑوں کے درد کا عارضہ بڑھتا جا رہا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق سن دو ہزار تیس تک گھٹنوں کی تبدیلی کی سرجری کروانے والوں کی تعداد میں چھ سو گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اس مرض میں ہوتا یہ ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنے کی ہڈیوں کے درمیان لچک دار مادّہ خستہ اور کمزور ہو جاتا ہے۔ عام بول چال میں اس لچک دار مادّے کو کرکری ہڈّی کہا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ہڈّی بالکل ناکارہ ہو جاتی ہے۔ شدید تکلیف کے علاوہ مریض چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔ امریکہ کی ریاست اوہایئو کے ویکزنر میڈیکل سینٹر کے تحقیق کاروں نے اب ایک متبادل طریقہ دریافت کیا ہے۔ انہوں نے ایسا آلہ یجاد کیا ہے جو گھٹنے پر پڑنے والے دباو کو گھٹنے  کے اندرونی  حصے پر پڑنے سے بچاتا ہے۔ اس میڈیکل سینٹر کے محقق ڈاکٹر ڈیوڈ فلےنی گان کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے شاک اَبزرور ہے، تقریباً ویسا ہی جیسا کہ گاڑیوں میں نصب ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے آپ کو جھٹکے  محسوس نہیں ہوتے۔ یہ آلہ گھٹنے کے جوڑ کے اند پڑنے والے بوجھ کو اٹھا کر گھٹنے کے بیرونی حصے کو منتقل کر دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف درد میں کمی آتی ہے بلکہ ارتھائٹس کے بڑھنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ فلےنی گان کا کہنا ہے اگر اس میں مزید کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر گھٹنے تبدیل کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آجائے گی، جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس جدید طریقے کو کلیپسو نی سسٹم (Calypso knee system) کا نام دیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ میں ہر سال تقریباً چھ لاکھ گھٹنوں کی تبدیلی کے اَپریشن کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں دس سے پندرہ فی صد افراد کسی نہ کسی عمر میں آرتھرائٹس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس نئے طریقے کو تجرباتی مراحل سے نکل کر اَزمودہ ہونے میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔


چاند پر کپاس اگنے لگی

Tue, 15 Jan 2019

چاند پر کپاس اگنے لگی

چاند گاڑی ’چانگی فور‘ سے زمینی مرکز پر موصول ہونے والی تازہ تصویروں میں کپاس کے بیچ سے کونپلیں پھوٹتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک آلو اور سرسوں کے بیجوں سے کوئی کونپل نہیں نکلی۔


سرطان کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ

Sun, 13 Jan 2019

سرطان کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ

سرطان کے بارے میں نئے اعدادو شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سرطان پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے کا اندازہ ہے کہ اس سال سرطان کے 18 ملین (ایک کروڑ 80  لاکھ ) نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد 96  لاکھ ہے۔ اس سلسلے میں جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں 185  ملکوں میں سرطان کی چھتیس اقسام کے بارے میں اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر پانچ مروں میں سے ایک اور ہر چھ عورتوں میں سے ایک کو اپنی زندگی میں سرطان کے مرض کا سامنا ہوتا ہے اور اس مرض میں مبتلا مردوں کی موت کی شرح عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرطان کے نئے کیسز میں نصف سے زیادہ  اموات  ایشیا میں ہوئیں اور اس کی جزوی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا تقریبا 60 فیصد اس خطے میں آباد ہے۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر نئے کیسز میں پھیپھڑے اور چھاتی کا سرطان سر فہرست رہا اور اس کے بعد آنتوں، پروسٹیٹ اور پیٹ کے سرطان کے کیسز ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق پھیپھڑے کا سرطان موت کے کلیدی اسباب میں شامل رہا جس کی وجہ سے 2018  میں 18  لاکھ اموات ہوئیں ۔ سرطان کی تحقیق کے بین الاقوامی ادارے میں نگران شعبے کے سربراہ فریڈی برے کا کہنا ہے کہ خیال یہی ہے کہ 2040 تک سرطان کے نئے کیسز  کی تعداد  2  کروڑ 39 لاکھ تک پہنچ جائے گی جبکہ اموات کی تعداد ایک کروڑ 63 لاکھ ہو جائے گی۔ فریڈی برے کا کہنا ہے کہ سرطان کے کیسز کی تعداد میں 2040 تک سب سے زیادہ اضافہ ان ملکوں میں ہو گا جہاں سماجی اقتصادی ترقی کی شرح کم ترین سطح پر ہے۔ ان میں سے کچھ  نیم سہارہ افریقہ، کچھ جنوبی امریکہ اور کچھ جنوبی ایشا میں ہونگے۔ سرطان کے کیسز میں اضافے کا سامنا کرنے والے ملکوں میں اس وقت بھی اس سے نمٹنے کے لئے مناسب وسائل اور ذرائع بھی نہیں ہیں عالمی ادارہ صحت کے غیر متعدی امراض کے شعبے کے ڈائریکٹر ایتین کروگ کہتے ہیں کہ لوگوں کی موت کا باعث بننے والے سرطان کے کلیدی خطرات میں سے بیشتر کو روکا جا سکتا ہے اور یہ تمباکو  اور  شراب نوشی کے استعمال میں کمی ۔ ورزش میں اضافے اور خوراک کو بہتر  بنانے کے ذریعے ممکن ہے۔ کروگ کا کہنا ہے کہ ہم مختلف نوعیت کے سرطان کی روک تھام کے لئے اپنے مدافعتی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں جیسے سروائکل کینسر اور جگر کا کینسر۔ لیکن جن لوگوں کو سرطان ہو چکا ہے ان کے لئے بھی اب اس کی نوعیت سزائے موت جیسی نہیں ہونا چاہیے۔ کروگ کا کہنا ہے کہ سرطان میں مبتلا ہونے والے افراد کی شرح زندگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے صحت کی سہولتوں میں بہتری،  جلد تشخیص اور مناب علاج معالجے تک رسائی ممکن بنانا  ضروری ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ قریب المرگ  بیماروں کی تکلیف میں کمی کے لئے  انتہائی نگہداشت ضروری ہے


بھارت 2021ء میں اپنا پہلا انسان بردار راکٹ خلا میں بھیجے گا

Fri, 11 Jan 2019

بھارت 2021ء میں اپنا پہلا انسان بردار راکٹ خلا میں بھیجے گا

خلا میں انسان لے جانے والے بھارتی راکٹ گگیان کا انسانی عملہ تین افراد پر مشتمل ہو گا اور وہ 7 دن تک خلا میں رہیں گے۔ اس خلائی مشن پر لاگت کا اندازہ دس ارب بھارتی روپے لگایا گیا ہے۔


دنیا بھر میں سائبر حملوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے: سروے

Wed, 09 Jan 2019

دنیا بھر میں سائبر حملوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے: سروے

اسرائیل اور روس کے لوگ سب سے زیادہ پُراعتماد قوموں میں سب سے آگے ہیں، جن کے سروے میں شامل دو تہائی سے زیادہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُن کی حکومتیں بڑے سائبر واقع سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہیں


میزائل اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی قدیم ہندو ایجادیں ہیں: بھارتی سائنس دان

Tue, 08 Jan 2019

میزائل اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی قدیم ہندو ایجادیں ہیں: بھارتی سائنس دان

آندھرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے سائنٹفک کانگریس کانفرنس میں کہا کہ قدیم کورو عہد میں ایک ماں نے 100 بچے پیدا کیے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ’سٹمپ سیل اور ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی استعمال کرتے تھے۔ جس کے بغیر ایک عورت کا اتنے بچے پیدا کرنا ممکن نہیں ہے۔


ایم آر آئی، مرض کی تشخیص کا ایک حیرت انگیز ذریعہ

Sun, 06 Jan 2019

ایم آر آئی، مرض کی تشخیص کا ایک حیرت انگیز ذریعہ

ایم آر آئی یعنی میگنیٹک ریزو نینس امیج   کا طریق کار مختلف امراض کا پتہ چلانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں مریض کو ایک ایسی مشین کے اندر لیٹنا ہوتا ہے جہاں سر کے لئے جگہ بہت کم ہوتی ہے۔ یہ طریق کار خاص طور پر ان لوگوں کے لئے دشوار ہے جنہیں تنگ جگہوں پر دشواری ہوتی ہے اور وہ خوف محسوس کرتے ہیں ۔ یونیورسٹی آف مزوری میں تحقیق کار کوشش کر رہے ہیں کہ اس تجربے کو مریضوں اور ڈاکٹروں کے لئے بہتر بنایا جائے۔ وائس آف امریکہ کی کیرل پیرسن کی رپورٹ کے مطابق  ایم آر آئی طریق کار سے ڈاکٹروں کو ریڈی ایشن استعمال کئے بغیر کسی بھی زخم یا مرض کو تشخیص کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ایم آر آئی ٹیکنالوجی میں طاقتور مقناطیس, ریڈیائی لہروں اور کمپیوٹر کی مدد سے جسم کی اندرونی تصاویر تفصیلی انداز میں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ طریق کار خاص طور پر دل کے مریضوں کے لئے اہم ہے۔ ایم آر آئی کی مدد سے ڈاکٹر یہ جانچ کر سکتے ہیں کہ خون کی نالیوں میں کہیں رکاوٹ تو نہیں۔ پھر دل کے دورے کے بعد اس کی مدد سے دل کو پہنچنے والے نقصان کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس طریق کار کا منفی پہلو یہ ہے کہ مریضوں کو دیر تک ایک لمبی سے ٹیوب میں بے حس و حرکت لیٹنا ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جنہیں تنگ جگہوں سے وحشت ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف مزوری کے سکول آف میڈیسن میں تحقیق کار ڈاکٹر تالیسا اہلتز کا کہنا ہے کہ یہ طریق کار بعض مریضوں کے لئے بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ بہت تھکا سکتا ہے اور اکثر اس کا دورانیہ بھی کافی زیادہ ہوتا ہے۔ ہم اس کے لئے ۹۰ منٹ کا وقت مقرر کرتے ہیں اور اگر کبھی  آپ نے ایم آر آئی کرایا ہو تو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک طویل وقت ہے۔  پھر واضح تصاویر حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ  بار بار سانس روکیں۔ یونیورسٹی آف مزوری کے سکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے رابرٹ تومن بتاتے ہیں کہ عام طور پر ایم آر آئی میں ایک تصویر حاصل کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور اگر تصویر لینے کے دوران آپ کے جسم میں حرکت ہو تو پھر تصویر دھندلا جاتی ہے۔ تومن اور آلتز ’ھارٹ سپیڈ‘  نامی ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کی مدد سے معلومات کا تجزیہ کرنے والا سوفٹ ویئر ایم آر آئی تصاویر سے حرکت کی معلومات کو  خارج کر دیتا ہے ۔ان کے ساتھی سٹیو وان دورن کہتے ہیں کہ ہارٹ سپیڈ کی مدد سے ریڈیو لو جسٹس دل کو  اس وقت بھی واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں جب مریض معمول کے مطابق سانس لے رہا ہو۔ وان ڈورن کا کہنا ہے کہ  اس سوفٹ ویئر کی مدد سے ہم سانس کی حرکت کو دل کی حرکت سے الگ کر سکتے ہیں اور ہم نے غور کیا کہ ہمیں اس کا  اطلاق  مریض کی معلومات پر کرنا چاہئے ۔  اس کا مقصد یہ ہے کہ مریضوں کے لئے اس طریق کار کو آسان کر دیا جائے اور آرام دہ بھی کہ وہ سانس لیتے رہیں اور ایم آر آئی بھی جاری رہےاور سانس روکے بغیر کام کرنے سے اس کا دورانیہ بھی کم ہو جائے گااور 90 منٹ کی بجائے محض 15 سے 30 منٹ ہو سکے گا۔  التز کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو فائدہ ہو گا کیونکہ ان کی جانچ کا عمل اسان ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی امید ہے کہ ریڈیالوجسٹ اور ماہر امراض قلب کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ تصاویر واضح اور اچھی ہونگی۔  تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ ’ھارٹ سپیڈ ‘ ٹیکنالوجی آئندہ 5 برسوں میں استعمال کے لئے دستیاب ہو سکے گی۔


چاند کے تاریک حصے پر چین کے خلائی جہاز کی لینڈنگ

Thu, 03 Jan 2019

چاند کے تاریک حصے پر چین کے خلائی جہاز کی لینڈنگ

چاند کی سطح پر اتارے جانے والے چانگا فور میں ایک چاند گاڑی بھی ہے جس پر چاند کی سطح کی تحقیق اور معدنیات کی موجودگی کا کھوج لگانے والے آلات نصب ہیں۔


خفیہ جوہری تجربات کے کھوج لگانے والی لیبارٹری

Wed, 02 Jan 2019

خفیہ جوہری تجربات کے کھوج لگانے والی لیبارٹری

یہ آلات اس قدر حساس ہیں کہ وہ انسان کی طرف سے تیار کردہ آئی سو ٹوپس  کا پتا جوہری سرگرمی ختم ہونے سے پہلے ہی  لگا سکتے ہیں۔ یہ ان سرگرمیوں کا بھی کھوج بھی لگا سکتے ہیں جنہیں عمداً خفیہ رکھا جاتا ہے۔


ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری آرام گاہ پاکستان کی پہلی 'اسمارٹ قبر'

Wed, 02 Jan 2019

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آخری آرام گاہ پاکستان کی پہلی

کوئی بھی ایسا شخص جو ڈاکٹر رتھ فاؤ کی زندگی اور ان کی خدمات یا دیگر معلومات جاننے کا خواہش مند ہو، وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے قبر پر بنے 'کیو آر' کوڈ کو اسکین کرکے یہ معلومات حاصل کرسکتا ہے۔


لاکھوں صارفین کے ڈیٹا کی چوری پر فیس بک کو بھاری جرمانے کا سامنا

Thu, 20 Dec 2018

لاکھوں صارفین کے ڈیٹا کی چوری پر فیس بک کو بھاری جرمانے کا سامنا

ہیکرز کو فیس بک کے لاکھوں صارفین کی تصویروں تک 12 دن کے لیے رسائی حاصل رہی۔ فیس بک کو ڈیٹا چوری کا علم ستمبر میں ہی ہو گیا تھا لیکن اس نے دو مہینوں کے بعد نومبر میں یورپی ریگولیٹر کو اس کی اطلاع دی، جو یورپی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔