جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

دنیا


چین نے ’شرلاک ہومز‘ کا کلون تیار کر لیا

Thu, 21 Mar 2019

چین نے ’شرلاک ہومز‘ کا کلون تیار کر لیا

چائنا ڈیلی کے مطابق کلون کتے کی عمر ابھی تین ماہ ہے اور اسے منشیات سونگھنے، ہجوم کو کنٹرول کرنے اور ثبوت ڈھونڈنے کی سخت تربیت دی جائے گی۔


موسمی تبدیلی کے خلاف دنیا بھر کے طلبہ سرگرم

Tue, 19 Mar 2019

موسمی تبدیلی کے خلاف دنیا بھر کے طلبہ سرگرم

پچھلے سال سے شروع ہونے والے احتجاج سب سے نئے ہیں جن میں طالب علم ہر جمعے کو اپنی کلاسیں چھوڑ کر احتجاج کرتے ہیں تاکہ دنیا کے لیڈر موسمیاتی تبدیلی کا عمل روکنے کے لیے فیصلے کر سکیں۔


کیا انڈے دل کے لئے خطرناک ہیں؟

Tue, 19 Mar 2019

کیا انڈے دل کے لئے خطرناک ہیں؟

انڈوں کے بارے میں یہ بحث بہت پرانی ہے کہ کیا یہ صحت کے لئے اچھے ہیں یا نقصان دہ۔ اگرچہ کہ ان میں پروٹین ہوتا ہے مگر ان میں مضر صحت کولیسٹرول بھی ہوتا ہے۔


عالمی ادارہ صحت کی فلو سے بچاؤ کی حکمت عملی

Sun, 17 Mar 2019

عالمی ادارہ صحت کی فلو سے بچاؤ کی حکمت عملی

عالمی ادارہ صحت انفلوئینزہ کے بارے میں عالمی سطح پر حکمت عملی کا آغاز کر رہا ہے جس کا مقصد ملکوں کو انفلوئینزہ کی آئندہ ممکنہ وبا سے محفوظ رکھنا ہے کیونکہ اس سے لاکھوں افراد کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا عالمی سطح پر انفلوئینزہ کی وبا پھوٹنے والی ہے بلکہ کب یہ مہلک مرض حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ادارہ اسے عوامی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے جو اس وقت دنیا کو لاحق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اور ھفتوں یا مہینوں میں دنیا کے ہر کونے تک پہنچ سکتا ہے۔  عالمی ادارہ صحت کی حکمت عملی کا مقصد اس وبا پر کنٹرول کرنا ہے اور اس کے تحت ملکوں کی مدد کرنا مقصود ہے کہ وہ ایسے امراض پر نظر رکھنے کے نظام کو بہتر بنائیں اور انفلوئینزہ کی وبا کی روک تھام اور اس پر کنٹرول کے لئے عالمی سطح پر بہتر طریق کار متعارف کرائے جائیں۔ عالمی ادارہ صحت میں انفلوئینزہ کی روک تھام کی تیاری اور ردعمل کے لئے نگران سربراہ این موعین کا کہنا ہے کہ اس کے لئے ویکسین کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے جو لمبے عرصے تک موثر ثابت ہو سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ مرض کا مقابلہ کرنے کے لئے بہتر دوائیں اور بہتر علاج بھی درکار ہے این موعین کا کہنا ہے کہ تمام ممالک معمول کے پروگراموں کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ آپ اس بات کا انتظار تو نہیں کر سکتے کہ کسی نوعیت کی ہنگامی صورتحال پیدا ہو اور پھر اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی جائے۔ ہم واقعتاً یہ چاہتے ہیں کہ ہم ان ملکوں کی مدد کریں کہ وہ انفلوئینزہ کے لئے اپنے معمول کے پروگراموں کو تقویت دیں تاکہ نہ صرف فلو بلکہ دوسرے امراض کا مقابلہ کرنے کو بھی تیار ہوں اور اس طرح وہ کسی ممکنہ وبائی خطرے سے نمٹنے کے لئے اپنی تیاری کو بہتر کر سکتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے ایک اندازے کے مطابق ہر سال ایک ارب افراد فلو میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے دو لاکھ نوے ہزار سے لیکر چھ لاکھ پچاس ہزار کے درمیان اموات ہوتی ہیں۔ کسی وبائی مرض کے بر عکس انفلوئینزہ کے کیسز  مخصوص علاقوں اور ملکوں میں ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس مرض سے بچنے کے لئے ویکسین سب سے موثر ثابت ہوتی ہے۔ 2011 میں مختلف ممالک اکٹھے ہوئے اور انہوں نے انفلوئینزہ کی وبا سے نمٹنے کی تیاریوں کا لائحہ عمل تیار کیا۔ اس وقت ان ملکوں میں تقسیم کے لئے ویکسین کی 400 ملیئن خوراکیں دستیاب ہیں جو کسی وبا کی صورت میں کسی بھی جگہ استعمال ہو سکتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے یہ تمام افراد کی مدد کے لئے کافی نہیں ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ ویکسین کی تیاری سے پہلے ممکنہ وبا کے جرثومے کا علم ہونا ضروری ہے۔ لیکن اسے معلوم کرنے میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس طریق کار کو بہتر بنانے کے لئے تحقیق جاری ہے۔ اس بارے میں مزید جاننے کیلئے اس فائل پر کلک کریں:  


پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کے شاختی کارڈ بلاک کرنے کی تجویز

Fri, 15 Mar 2019

پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کے شاختی کارڈ بلاک کرنے کی تجویز

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے کا مقصد صرف والدین کو مجبور کرنا ہے تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔


پولیو سے بچاؤ، پاکستان پر عائد سفری پابندیوں میں توسیع

Tue, 12 Mar 2019

پولیو سے بچاؤ، پاکستان پر عائد سفری پابندیوں میں توسیع

اس وقت دنیا کے صرف تین ملکوں میں پولیو وائرس موجود ہے جن میں پاکستان اور افغانستان اور کیمرون شامل ہیں۔


سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے ایچ آئی وی کا مریض صحت یاب

Tue, 05 Mar 2019

سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے ایچ آئی وی کا مریض صحت یاب

اس مریض کو 2003 میں ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا پایا گیا تھا اور پھر 2012 سے اسے اس وائرس کو دبانے کیلئے ویکسین دینا شروع کی گئی تھی


مریخ پر زیر زمین جھیلوں کی موجودگی کے شواہد

Mon, 04 Mar 2019

مریخ پر زیر زمین جھیلوں کی موجودگی کے شواہد

سیارہ مریخ پر سائنسی تحقیق میں مصروف امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا اور یورپی ادارے ای ایس اے کے  جمع کردہ اعداد و شمار نے پہلی بارمریخ پر زیر زمین پانی کے نظام کی جیولوجیکل شہادتیں فراہم کی ہیں۔ جیو فزیکل ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی اٹلی اور نیدرلینڈکے محققین کے مطالعے کے حوالے سے تحقیق میں شامل ایک سائنسدان فرانسسکو سالیس نے اپنی ایک ای میل میں لکھا ہے کہ تحقیقی نتائج سے پرانے ماڈل اور اسی طرح کے دیگر مطالعوں کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ بھی کہ زیر زمین جھیلیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ مریخ پر پانی کی موجودگی کی تصدیق سائسندانوں کا دیرینہ خواب رہا ہے کیونکہ اس کے بغیر اس سیارے پر کبھی ایسا ماحول پیدا نہیں ہو سکتا جیسا زمین پر   موجود ہے جس کی وجہ سے یہاں زندگی کا آغاز ہوا۔ پہلے مریخ پر برف کے ٹکرے   نظر آئے جس نے ماضی میں یہاں پانی کی نشاندہی کی۔ محقیقن کا کہنا ہے کہ مریخ میں بہتے ہوئے چینل، پول کی شکل کی وادی اور  پنکھوں کی شکل کے تلچھٹ کے ذخائر درجنوں کلومیٹر گہرے آتش فشانی دہانے میں دیکھے گئے جو پانی بنانے کے لئے ضروری جز ہیں۔ تحقیق کے شریک مصنف گیان گبرائیل کہتے ہیں کہ چند سائنسدان تو سمندر کا تصور پیش کررہے ہیں۔ مریخ پر تیس چالیس لاکھ برس پہلے ہو سکتا ہے زیر زمین جھیلیں باہم ملی ہوئی اور سمندر کی طرح رہی ہوں۔  تحقیق کاروں نے مریخ پر چکنی مٹی جیسی معدنیات کے شواہد بھی دیکھے جو طویل عرصہ بعد پانی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ جرمن اسپیس سنٹر کے ایک فلکیاتی سائنسدان راف جمان کہتے ہیں کہ اس طرح کے مقامات مستقبل میں مریخ پر ماضی کی زندگی کی تلاش کے لئے جانے والوں کے لئے بہترین نقطہ آغاز ہے جبکہ براؤن یونیورسٹی میں پروفیسر جیک مسٹرڈ نے سوال کیا کہ انھوں نے حاصل کردہ اعداد و شمار میں زیر زمین پانی کے شواہد نہیں دیکھے لیکن ممکن ہے یہ صرف ان کا شک ہو۔


مسکرانا دل کی صحت کیلئے بہترین نسخہ

Mon, 04 Mar 2019

مسکرانا دل کی صحت کیلئے بہترین نسخہ

یہ تو ہم سب جانتے ہی ہیں کہ ورزش اور خوراک صحت مند زندگی کے لئے انتہائی اہم ہیں لیکن آج آپ کو ایک ھارٹ سپیشلسٹ یعنی دلی امراض کے ماہر کی ایک دلچسپ تجویز بتاتے ہیں اور وہ یہ کہ ورزش اور اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ اگر آپ مسکراتے بھی رہیں تو کیا ہی بات ہو۔  ایک دو تین اور جناب اب ذرا گھوم جایئے!  کینڈرا مارٹن تین چھوٹی بچیوں کی تصاویر بناتی ہیں اور ساتھ ساتھ انہیں مسکرانے کی بھی ہدایت کرتی ہیں۔  ذرا کھل کر مسکراؤ۔ مارٹن  لوگوں سے کہتی ہیں کہ وہ چاہے جھوٹ مو ٹھ ہی ہنسیں لیکن ہنسیں ضرور۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں بہت عجیب محسوس ہوتا ہے لیکن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر وہ مسکرانے لگتے ہیں اور وہ بھی سچ مچ کی مسکراہٹ۔  یہ مسکراہٹ اور کھل کر ہنسنا کیمرے پر بہت بھلا لگتا ہے۔ ان بچیوں کو دل کا عارضہ تو نہیں لیکن ان کی مسکراہٹیں صحت مند دل کا باعث ضرور بنتی ہیں ۔ ڈاکٹر آنند دل کے امراض کے ماہر ہیں اور یونیورسٹی آف مزوری کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یہ بھی ان ڈاکٹروں میں سے ہیں جو اپنے مریضوں کو  مسکرانے کا مشورہ دیتے ہیں۔  ڈاکٹر آنند کہتے ہیں کہ جب ہم مسکراتے ہیں تو دما غ چوکس ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ سے جو کیمیکل وہاں  بنتے ہیں وہ مثبت اثرات رکھتے ہیں ۔ اُن کے اس مشورے کی تائید متعدد جائزوں سے ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسکراہٹ سٹریس یا دباؤ پر قابو پانے کا پہلا قدم ہے جس سے دباؤ کے مضر اثرات پر کنٹرول بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ جب ہم کسی طرح کے دباؤ میں ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں کئی طرح کے ہارمون پیدا ہوتے ہیں جن میں آڈرینلین اور کارٹیزول بھی شامل ہے۔ آڈرینیلن سے دل کی دھڑکن  اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔ کارٹیزول  سٹریس یا دباؤ کا کلیدی ہارمون ہے جس سے خون کے بہاؤ میں شکر کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ سچ مچ خطرے میں ہیں تو پھر یہ ہارمون مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم بار بار ان ہارمونز کا پیدا ہونا اچھا نہیں اور ان کی وجہ سے دل کی بیماری یا پھر سٹروک کا خطرہ ہو سکتا ہے۔  جو لوگ سٹریس اور دباؤ  کا شکار ہوتے ہیں  وہ اس پر قابو پانے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی، ضرورت سے زیادہ کھانے یا پھر شراب نوشی سے اس ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش سے آپ کے دل یا دوسرے جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔    ڈاکٹر آنند کہتے ہیں کہ جب لوگ مسکراتے ہیں تو ایک طرح سے وہ اپنا دباؤ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور خون میں شکر کی سطح بہتر ہوتی ہے۔  ڈاکٹر آنند اپنے مریضوں سے کہتے ہیں کہ وہ ایک گھنٹے کے دوران کم سے کم بیس بار مسکرائیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تعداد بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن اس میں ادویات کا دخل نہیں جو مضر یا منفی اثرات چھوڑ ے۔   ڈاکٹر آنند کہتے ہیں کہ اگر ہم مسکراتے ہیں تو ہم اس لنک کو توڑتے ہیں جو سٹریس اور ہمارے صحت کے درمیان ہوتا ہے اور اسی مسکراہٹ کو مارٹن اپنی فوٹو گرافی کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔  مارٹن کا کہنا ہے کہ صبح سویرے چہرے پر مسکراہٹ لئے بیدار ہونے سے بہت اچھا اثر پڑتا ہے اور ہر کسی کا موڈ بہتر ہو جاتا ہے اور یہی وہ رویہ ہے جو ہر کسی کے دل کی صحت کے لئے بہتر ہے۔ مزید جاننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں:  


اسپیس ایکس کا 'فالکن 9' راکٹ خلا میں روانہ

Sat, 02 Mar 2019

اسپیس ایکس کا

پرواز بھرنے کے گیارہ منٹ کے بعد کیپسول کے راکٹ سے کامیابی سے علیحدہ ہونے اور خلائی اسٹیشن کی جانب سفر شروع کرنے پر کنٹرول روم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔


پولیو کے خلاف جنگ کے گمنام سپاہی

Thu, 28 Feb 2019

پولیو کے خلاف جنگ کے گمنام سپاہی

ہم کسی ایوارڈ یا انعام یا نام کے لیے بلکہ اپنے ملک سے پولیو کو مٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس جنگ کو جیتنا ہمارا عزم ہے۔


خسرے کی وبا پھوٹ پڑنے کا حقیقی خطرہ

Sun, 24 Feb 2019

خسرے کی وبا پھوٹ پڑنے کا حقیقی خطرہ

ایک وقت تھا جب خسرے جیسے متعدی امراض کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ان پر قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن اب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا عالمی ادارہ صحت خبردار کر رہا ہے کہ عالمی سطح پر خسرے کی وبا کے پھوٹ پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ دنیا بھر میں خسرے کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے خاص طور پر متمول اور خوشحال ملکوں میں ۔ وائس آف امریکہ کی کیرل پیرسن کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد خسرے کو بھی ایک عام وائرس کی طرح سمجھتے ہیں لیکن خسرہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بینائی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور بچ جانے والے متاثرہ افراد اندھے اور  بہرے  بھی ہو سکتے ہیں یا پھر ان کے دماغ کو  نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ جنگل کی آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ امریکہ میں کلیو لینڈ کلینک چلڈرنز سے ڈاکٹر کامیل سبیلہ کا کہنا ہے کہ خسرہ انتہائی متعدی مرض ہے۔ اگر کسی کمیونٹی میں ایک بار اس کا آغاز ہو جائے تو پھر اس پر قابو پانا بے حد مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے جراثیم ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ یہ بیماری کھانسنے اور چھینکنے سے بھی پھیلتی ہے اور اس کے جراثیم ہوا یا کسی سطح  پر دو گھنٹے تک موجود رہتے ہیں اور خسرہ پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سی ڈی سی سے ڈاکٹر نینسی میزونیئر  کہتی ہیں یوں سمجھئے کہ اگر ایک کمرے میں خسرے کا مریض موجود ہے اور دس ایسے افراد بھی ہیں جنہیں خسرے کے بچاؤ کی ویکسین نہیں دی گئی تو پھر ان میں سے نو خسرے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہمیشہ یہ بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ کون اس بیماری کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔  ڈاکٹر نینسی میزونیئر کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ایک ایسے شخص سے یہ بیماری دوسرے لوگوں میں پھیل جائے جس کے جسم پر ابھی خسرے کے دانے نمودار بھی نہیں ہوئے اور ایسا خسرے کے آثار نظر آنے سے چار روز پہلے تک ممکن ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ابھی مریض کو خود بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہو چکا ہے اور وہ دوسروں میں یہ جراثیم منتقل کر سکتا ہے۔ چلڈرنز نیشنل میڈیکل سنٹر کی ڈاکٹر رابرٹا ڈیبیاسی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایسا بچہ جس میں خسرے کے جرا ثیم پیدا ہو چکے ہیں وہ کسی بھی ایسے بچے کی طرح دکھائی دے گا جسے نزلہ زکام ہے، کھانسی ہے لیکن چار روز تک اس کے جسم پر خسرے کے دانے یا نشانات نظر نہیں آئیں گے۔ خسرے کی بیماری خاص طور پر بہت چھوٹے بچوں یا نو عمر بچوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ کلیو لینڈ کلینک چلڈرنز کی ڈاکٹر کامیل سبیلہ کہتی ہیں کہ خسرے کی وبا کے دوران ان بچوں کو محفوظ رکھنا بہت دشوار ہو جاتا ہے جنہیں خسرے کے بچاؤ کی ویکسین نہیں دی گئی۔ خسرے کے دانے اور نشان نظر آنے کے ساتھ ساتھ شدید بخار بھی ہوتا ہے۔ بچوں کی حفاظت کا بہترین طریقہ ان کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین دینا ہے۔  ڈبلیو ایچ او یا عالمی ادارہ صحت کی ڈاکٹر کیتھرین او برائن کہتی ہیں کہ خسرے سے بچاؤ کے لئے ہمارے پاس بہت سود مند ویکسین موجود ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں سے ہم یہ ویکسین استعمال کر رہے ہیں۔ لاکھوں بچوں کو یہ ویکسین استعمال کرائی جا چکی ہے اور وہ خسرے سے محفوظ صحت مند زندگی گزار رہے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 2017 کے مقابلے میں 2018 میں خسرے کا شکار ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے خود اس کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی بعض والدین اپنے بچوں کو ویکسین استعمال نہیں کراتے اور غریب اور پسماندہ ملکوں میں والدین کے پاس ہمیشہ یہ سہولت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کے لئے یہ ویکسین حاصل کر سکیں۔