جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper


جنوبی ایشیا


حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا

Wed, 16 Aug 2017

حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا

امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ یعنی دفترِ خارجہ نے امیگریشن اور نیشنلٹی ایکٹ کے سیکشن 219 کے تحت حزب المجاہدین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔  اس عمل کے بعد حزب المجاہدین کے لیے وہ وسائل اکٹھے کرنا مشکل ہو جائے گا جن کے ذریعے وہ حملے کرتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں حزب المجاہدین کے تمام تر اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔ اور امریکہ میں مقیم افراد پر اس تنظیم کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی لین دین پر پابندی ہو گی۔ 1989 میں بننے والی حزب المجاہدین بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزادی کے لیے لڑنے والی سب سے پرانی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو  پہلے ہی غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔ حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں اپریل 2014 میں جموں اور کشمیر میں ہونے والے دھماکہ خیز مواد کے حملے شامل ہیں۔ ان حملوں میں 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔


مودی اور ٹرمپ ٹو بائی ٹو وزارتی مذاکرات پر رضامند

Wed, 16 Aug 2017

مودی اور ٹرمپ ٹو بائی ٹو وزارتی مذاکرات پر رضامند

ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کو اس سال نومبر میں بھارت میں منعقد ہونے والی عالمی انٹرپرینر شپ کانفرنس کا انتظار ہے جس میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کی بیٹی اور مشیر اوانکا ٹرمپ امریکی وفد کی قیادت کریں گی۔


بھارت: علاج کے خواہش مند تمام پاکستانیوں کو ویزہ دینے کا اعلان

Wed, 16 Aug 2017

بھارت: علاج کے خواہش مند تمام پاکستانیوں کو ویزہ دینے کا اعلان

بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سشما سوراج کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ہم ان تمام جائز ویزا درخواستوں کو منظور کرلیں گے جو ہمارے پاس موجود ہیں۔


دھمکیاں اور پابندیاں جاری رہیں تو جوہری پروگرام شروع کردیں گے، روحانی

Tue, 15 Aug 2017

دھمکیاں اور پابندیاں جاری رہیں تو جوہری پروگرام شروع کردیں گے، روحانی

ایران اور امریکہ دونوں ہی کا یہ کہنا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔


کشمیری سیاسی قیادت کا بھارتی وزیر اعظم کے بیان کا خیرمقدم

Tue, 15 Aug 2017

کشمیری سیاسی قیادت کا بھارتی وزیر اعظم کے بیان کا خیرمقدم

صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بھارتی وزیرِ اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو صرف پُر امن طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔


ستر سال بعد بھی یادیں بالکل تازہ ہیں

Tue, 15 Aug 2017

ستر سال بعد بھی یادیں بالکل تازہ ہیں

بزرگ صحافی رضوان اللہ کا آبائی وطن اعظم گڑھ ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کلکتہ میں صحافتی خدمات انجام دیتے ہوئے گزارا۔ وہ کئی سال تک دہلی میں واقع امریکن سینٹر میں اردو ایڈیٹر بھی رہے۔ اب وہ مستقل طور پر دہلی میں مقیم ہیں۔ 87 سالہ رضوان اللہ نے برِصغیر کی تقسیم کے وقت کے خوں چکاں واقعات بچشم خود دیکھے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگوں سے بھی ان کی ملاقاتیں رہی ہیں جو پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔ رضوان اللہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس پُر آشوب دور کی کچھ یادیں تازہ کیں۔ انھوں نے 15 اگست 1947 کے دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ”اس وقت میں ریلوے میں اپرینٹس ڈرائیور تھا۔ بنارس ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں میری پوسٹنگ تھی۔ 15 اگست کے موقع پر اسٹیشنوں پر سجاوٹ کے لیے جو سامان اسٹیشنوں پر پہنچانا تھا وہ اتفاق سے ہمارے انجن کے حوالے کیا گیا۔ ڈرائیور، ان کا اسٹاف اور میں، ہم تین لوگ انجن پر سامان لے کر بنارس اسٹیشن سے روانہ ہوئے۔ بنارس سے بھٹنی تک کے اسٹیشنوں پر سامان پہنچانا تھا۔ کئی کلومیٹر کا یہ فاصلہ شام تک طے ہوا۔ سامان کیا تھا؟ ڈوری میں ترنگا بندھا ہوا تھا اور گاندھی اور نہرو کے پوسٹر تھے۔ ہم صبح دس بجے بنارس اسٹیشن سے نکلے تھے۔ بھٹنی اسٹیشن پر پہنچنے اور واپس آنے میں رات ہو گئی اور پھر گھر جا کر تھک تھکا کر سو گئے۔ لہٰذا 15 اور 16 اگست کی درمیانی شب میں کی جانے والی پنڈت نہرو کی معرکہ آرا تقریر India's Tryst With Destiny ہم نہیں سن سکے۔ اگلے روز آل انڈیا ریڈیو پر وہ تقریر پھر آرہی تھی جس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ”اس وقت ہندوستان جاگ رہا ہے اور پوری دنیا سو رہی ہے“۔ مجھے اس جملے پر بڑی ہنسی آئی۔ کیونکہ جس وقت وہ تقریر کر رہے تھے اس وقت امریکہ میں دوپہر کا وقت تھا۔ یوروپ میں لوگ گرمیوں کی شام منا رہے تھے۔ مغربی ایشیا میں گرمی کم ہو گئی تھی اور لوگ عصر اور مغرب کے درمیان خوشیاں منا رہے تھے۔ مشرق بعید میں سورج طلوع ہونے والا تھا۔ ساری دنیا جاگ رہی تھی صرف ہندوستان سو رہا تھا۔ ہندوستان میں وہی ایک تہائی ہندوستانی جاگ رہے تھے جن کے پاس شام کو کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا اور جو بھوکے پیٹ تھے۔ یا تو وہ جاگ رہے تھے جو پارلیمنٹ میں موجود تھے“۔ رضوان اللہ 1946 کے واقعات کا ذکر تے ہیں اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”مسلم دانشوروں، سرمایہ داروں، سیاست دانوں کا بہت بڑا سیلاب تھا جو پاکستان کی طرف رواں دواں تھا۔ اس وقت یہاں قدم ٹکانا مشکل تھا۔ لوگ بہے چلے جا رہے تھے۔ سبھی سیاست کی وجہ سے نہیں جا رہے تھے۔ بہت سے لوگ فسادات کی وجہ سے بھی جا رہے تھے۔ یہ سوچ کر جا رہے تھے کہ اب یہاں جینا مشکل ہے۔ کچھ سیاسی اثرات کی وجہ سے جا رہے تھے اور کچھ دوسروں کے زیر اثر جا رہے تھے۔ اُس وقت محکمہ ریلوے میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ لیکن اس محکمے سے اتنے مسلمان چلے گئے کہ یہاں اسٹاف کی کمی ہو گئی۔ اُس وقت فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ان دنوں میں بنارس میں تھا بعد کلکتہ گیا۔ بنارس میں اس وقت بہت سکون تھا، وہاں کی فضا پر فسادات کا کوئی اثر نہیں تھا۔ البتہ ہوتا یہ تھا کہ پنجاب کے پناہ گزیں جہاں آگئے وہیں لوگ مشتعل ہو جاتے تھے۔ لیکن بنارس میں نہیں ہوئے۔ وہاں بھی پناہ گزیں آئے۔ لیکن لوگوں نے ان کی مدد کی اور فسادات نہیں ہونے دیے۔ وہاں کے ڈی ایم اینگلو انڈین تھے۔ میرے خالو ان کے اسٹینو تھے اور میں خالو کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم لوگ کینٹونمنٹ ایریا میں رہ رہے تھے۔ لہٰذا وہاں کا ماحول بہت پرسکون تھا۔ لیکن میرے اندر بے چینی بہت تھی۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ میری تعلیم منقطع ہو گئی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ میں اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ لوگ ہجرت کیوں کر رہے ہیں۔ اس کم عمری میں بھی میرا ذہن یہی کہتا تھا کہ ہجرت کرنا ٹھیک نہیں ہے“۔ رضوان اللہ انہی دنوں کلکتہ چلے گئے اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے قیامت صغریٰ دیکھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اس وقت فسادات میں بڑی تعداد میں لوگ مارے جا رہے تھے۔ سڑکوں پر بھی انسانی لاشیں پڑی رہتی تھی اور نالوں میں بھی لوگ پھینک دیتے تھے۔ عالم یہ تھا کہ بہت سے نالے لاشوں کی وجہ سے بند ہو گئے تھے۔ اس وقت کلکتہ میں تو بالکل ہی لاقانونیت اور نراج کی کیفیت تھی۔ 13 دنوں تک تو کوئی روکنے، ٹوکنے اور پوچھنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کے بعد فوج آئی تو مارشل لا نافذ ہو گیا۔ پھر تو یہ ہوا کہ لوگ جتنا سامان لوٹ کر لے گئے تھے گھروں سے نکال نکال کر سڑکوں پر پھینکنے لگے۔ ہم ایک نئی تہبند خرید کر لائے تھے ہم نے یہ سوچ کر اسے باہر پھینک دیا کہ کہیں ملٹری والے یہ نہ کہیں کہ تم اسے لوٹ کر لائے ہو۔ سڑکیں اشیا سے اٹی پڑی تھیں۔ ایک ماہ تک ٹرام چلنی بند تھی۔ حالانکہ ٹرام وہاں کی لائف لائن تھی۔ ایک ماہ کے بعد جو چلی ہے تو سڑکوں پر سامان کا انبار تھا۔ سوڈا واٹر کی بوتلیں تھیں جنھیں لوگ دکانوں سے نکال کر پھینک کر راہ گیروں کو مارتے تھے۔ سڑکوں اور گلیوں سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ ایک ماہ کے بعد جو پہلی ٹرام ہوڑہ سے سیالدہ تک چلی تو میں اس پر بیٹھ گیا اور سیالدہ تک گیا۔ پانچ چھے کلومیٹر کے اس فاصلے میں میں نے تباہی ہی تباہی دیکھی۔ سیالدہ میں۔۔ میں نے دیکھا کہ ایک سردار فیملی جا رہی تھی لوگوں نے اس کو اپنا ہدف بنا لیا اور مارکر ڈال دیا۔ اس وقت میں پھل منڈی میں تھا۔ میں خوف کی وجہ سے ایک بہت بڑی دکان میں جا کر چھپ گیا۔ لوگوں نے اس کا شٹر گرا دیا۔ کچھ دیر کے بعد فوج ٹینک لے کر آگئی۔ ٹینک ٹھیک اس دکان کے سامنے آکر رکا۔ ایک بندوق بردار جوان اترا اور دکان کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن ٹینک پر بیٹھے ہوئے کمانڈر نے کہا کہ نہیں اندر مت جاو، باہر جس کو دیکھو اس کو شوٹ کر دو۔ فوجی جوانوں نے گشت کرنا شروع کر دیا۔ جو بھی باہر نظر آتا اسے گولی مار دیتے۔ ٹینک کچھ دیر تک باہر کھڑا رہا۔ اتنی دیر تک ہم خوف و دہشت کے عالم میں ڈرائی فروٹ کی بوریوں کے نیچے چھپے رہے۔ ٹینک چلے جانے کے بعد جان میں جان آئی اور پھر ہم باہر نکلے“۔ رضوان اللہ بتاتے ہیں کہ میں نے کلکتہ میں 1947 کے فسادات دیکھے اور 1964 کے فسادات بھی دیکھے۔ دونوں بدترین فسادات تھے۔ مسلمانوں کے اجڑنے کی بڑی لمبی کہانی ہے۔ دہلی میں قیام پذیر بلند شہر اتر پردیش کے قمر الدین کے بہت سے عزیز اور رشتے دار پاکستان میں ہیں۔ آزادی کے بعد کچھ دنوں تک آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن اب جبکہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ قمر الدین جون 1986 میں کراچی گئے تھے۔ ان کی اہلیہ ان سے ڈھائی ماہ قبل ہی چلی گئی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ”میری اہلیہ کے ویزا میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جب میں نے ویزا کی درخواست دی تو پاکستانی ہائی کمیشن میں میرا انٹرویو ہوا۔ انٹرویو کرنے والے افسر نے بہت سے سوالات کیے اور کہا کہ تم پاکستان کیوں جانا چاہتے ہو۔ میں نے بتایا کہ میری بیوی ڈھائی ماہ سے وہاں ہیں میں ان کو لینے جا رہا ہوں۔ بڑی مشکل سے مجھے ویزا ملا تھا“۔ وہ اٹاری سے لے کر کراچی تک کے واقعات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”اٹاری میں انٹری آسانی سے ہوگئی۔ لیکن جب ہم اُس پار گئے تو انٹری کرنے والے افسر نے پچاس روپے کا مطالبہ کیا۔ ہم نے کہا کہ کس چیز کے پیسے لے رہے ہو۔ اس نے کہا کہ پاکستان میں داخل ہو رہے ہو اس کے پیسے۔ ہم نہ دینے پر اور وہ لینے پر بضد تھا۔ بہر حال اسے پچاس روپے دیے تب اس نے انٹری کی۔ ہمارے پیچھے ایک مولانا تھے۔ ان سے بھی اس نے پیسے مانگے۔ انھوں نے دینے سے منع کر دیا اور کہا کہ ہم آپ لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ افسر نے یہ کہتے ہوئے ان کا پاسپورٹ پھینک دیا کہ دعائیں مت کیجیے پیسے دیجیے۔ بہر حال ان کو بھی پیسے دینے پڑے“۔ قمر الدین کہتے ہیں کہ ”اب جو حالات ہیں ان میں آنا جانا مشکل ہے۔ تقسیم کا زخم آج بھی بہت گہرا ہے۔ اس لکیر نے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ اس کے لیے وہ سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہی لوگ اپنے رشتے داروں سے نہیں مل پاتے۔ جی تو بہت چاہتا ہے کہ وہاں سے لوگ آئیں یہاں سے لوگ جائیں۔ لیکن اب حالات بہت نازک ہو گئے ہیں۔ پاکستان جانے والے کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ اب تو ہم لوگ پاکستان میں رہنے والے اپنے عزیزوں کی خوشی میں شامل ہو پاتے ہیں نہ ہی غم میں“۔ ایک آنکھ نے بچا لیا ہمارے آبائی وطن اترپردیش سے بھی بہت سے لوگوں نے پاکستان ہجرت کی تھی۔ ہمارے دادا مرحوم نواب بخش اس وقت کے بہت سے واقعات ہم لوگوں کو بتاتے رہتے تھے۔ جب ان سے ایک بار ہم لوگوں نے پوچھا کہ آپ لوگ پاکستان کیوں نہیں گئے تو انھوں نے کہا کہ اس وقت زبردست مارکاٹ چل رہی تھی۔ لوگوں کا بہت خون بہا تھا۔ خوف کی وجہ سے ہم لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ جاتے کیسے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت لوگ پاکستان کے حق میں خوب نعرے بناتے تھے۔ تعلیم یافتہ حضرات کے نعرے الگ ہوتے تھے اور عام لوگوں کے الگ۔ انھوں نے بتایا کہ عام لوگوں میں یہ نعرہ بہت مقبول تھا ” ہاتھ میں دستی منہ میں پان، چل میرے گوئیاں پاکستان“۔ (گوئیاں مقامی زبان میں دوست کو کہتے ہیں)۔ انھوں نے بتایا کہ تقسیم کے کچھ دنوں کے بعد جب ماحول تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو پولیس ایسے لوگوں کی سرگرمی سے تلاش کرنے لگی جن کے بارے میں شبہ ہوتا کہ وہ یہاں سے پاکستان چلے گئے تھے اور پھر چوری چھپے واپس آگئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ ہمارے گاوں، لوہرسن بازار، ضلع بستی میں پیش آیا۔ ایک شخص کے گھر جن کا نام فاروق تھا، ایک رشتے دار آئے ہوئے تھے۔ وہ برآمدے میں چارپائی پر آرام فرما تھے کہ دھڑدھڑاتے ہوئے پولیس والے آگئے۔ انھوں نے ان کو جکڑ لیا۔ اس سے قبل کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، پولیس والے ان کو لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ انھوں نے شور مچایا تو محلے کے لوگ اور پھر پورے گاوں کے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ لوگوں نے پولیس والوں سے پوچھا: ”ارے انہیں کیوں لے جا رہے ہو“؟۔ ”یہ پاکستان سے بھاگ کر آیا ہے، ہم لوگ بہت دنوں سے اس کی تلاش میں تھے“۔ پولیس والوں نے جواب دیا۔ گاوں والوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ لوگ جانتے تھے کہ ان کا نام تو بخش اللہ ہے، یہ تو کبھی پاکستان گئے ہی نہیں تو بھاگ کر آنے کا کیا سوال ہے۔ لوگوں نے پولیس کے بیان کی تردید کی اور احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط کام کر رہے ہیں۔ یہ تو یہیں کے ہیں پاکستان سے کیسے آئیں گے۔ پولیس والوں نے کہا: ”ہمارے پاس ان کی تصویر ہے اور ہم نے ان کو پکڑنے سے پہلے چھپ چھپ کر تصویر سے ان کا چہرہ ملایاہے“۔ لوگوں نے کہا: ”لاو ذرا ہم لوگ بھی تصویر دیکھیں“۔ گاوں والوں نے تصویر دیکھی تو ہکا بکا رہ گئے۔ بالکل ان سے ملتی جلتی تصویر تھی۔ تصویر والا شخص بھی ایک آنکھ کا نابینا تھا اور یہ بھی ایک آنکھ کے نابینا تھے۔ بس کسی کی نظر نے کام کر دیا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا: ”ارے یہ داہنی آنکھ سے نابینا ہیں اور تصویر کی بائیں آنکھ کانی ہے“۔  پولیس والوں نے بھی غور سے دیکھا اور تب ان کی سمجھ میں آیا کہ اگر چہ شباہت میں مماثلت ہے مگر یہ وہ آدمی نہیں جس کی انھیں تلاش تھی۔ پولیس والے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور اس طرح ایک بے قصور شخص بچ گیا۔ ورنہ اس کو جیل ہو جاتی۔ 


مسئلہ کشمیر نہ گولی سے حل ہوگا نہ گالی سے، مودی

Tue, 15 Aug 2017

مسئلہ کشمیر نہ گولی سے حل ہوگا نہ گالی سے، مودی

نریندر مودی نے کہا کہ ہر شخص ایک دوسرے کو گالی دینے میں مصروف ہے اور مٹھی بھر علیحدگی پسند طرح طرح کے پینترے اختیار کرتے رہتے ہیں۔


گلوبل وارمنگ بھارتی کشمیر کا حسن نگل رہی ہے

Mon, 14 Aug 2017

گلوبل وارمنگ بھارتی کشمیر کا حسن نگل رہی ہے

سرینگر کی شہرہ آفاق ڈل جھیل بھی اب وہ نہیں رہی جو چند دہائیاں پہلے نظر آرہی تھی۔ جہلم، سندھ، لیدر، کشن گنگا یا نیلم ، چناب اور توی جیسے بڑے دریا بھی آلودگی کا شکار ہو گئے ہیں، کئی ندی نالوں کی حالت تو ناگفتہ بہ ہو کر رہ گئی ہے-


گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی

Mon, 14 Aug 2017

گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی

سہیل انجم  قومی انسانی حقوق کمشن نے گورکھ پور کے سرکاری بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں چند روز کے اندر 60 سے زائد بچوں کی اموات پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں صحت انتظامیہ نے انتہائی سنگ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری سے چار ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کی اور متاثرہ خاندانوں کی راحت کاری اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات مانگیں۔ 7 اگست کے بعد سے اب تک وہاں 63 سے زیادہ بچوں کی ا موات چکی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اموات کی وجہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنی نے 65 لاکھ روپے کے بقایا کی ادائیگی کے لیے متعدد بار درخواست کی تھی۔ عدم ادائیگی کی وجہ سے اس نے آکسیجن کی فراہمی بند کر دی تھی۔ بی جے پی صدر أمت شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ طلب کرنے پر کانگریس کی مذمت کی۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری ریاست میں بچو ں کی اموات پر سوگ کا ماحول ہے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر دھوم دھام کے ساتھ پیر کے روز کرشن کا یوم پیدائش یعنی کرشن جنم اشٹمی کی تقریبات کا انعقاد کرے۔ ریاستی حکومت نے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو معطل کرنے کے بعد انسے فلائیٹس مرض اور بچوں کے وارڈ کے سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جب کہ گورکھ پور اور مضافات میں انہیں ایک ہیرو کی حیثیت سے دیکھا جا تا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے10 اگست کی رات میں وہاں تعینات نیم مسلح دستے ایس ایس بی سے اس کی گاڑی مانگی اور متعدد جوانوں کو لے کر مختلف مقامات سے اپنی جیب سے آکسیجن کے سیلنڈر اکٹھے کیے اور کئی بچوں کی جان بچائی۔ بہت سے والدین اور ایس ایس بی کے عہدے داروں نے ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے ہیرو ہیں۔ دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمس کے ڈاکٹروں نے کفیل احمد کو ہٹائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں قرباني کا بکرا بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹرو ں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر ہرجیت سنگھ بھٹی نے کہاکہ ڈاکٹرو ں کو مورد إلزام ٹہرا کر سیاست دان اپنی نااہلی چھپا رہے ہیں۔ ادھر ریاستی وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بچوں کی اموات کے ذمے دار ہوں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


’ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے بھارت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے‘

Mon, 14 Aug 2017

’ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے بھارت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے‘

 سہیل انجم نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمشن میں بھی پاکستان کا 70 واں یوم آزادی منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے پاکستان کے قومی ترانہ کی دھن پر اپنے ملک کا پرچم لہرایا اور بھارت سے اپیل کی کہ وہ پرامن برصغیر کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔ پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط کو گذشتہ دنوں اپنے منصب سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ اس تقریب میں پاکستانی شہریوں، ہائی کمشن کے عہدے داروں، پاکستان مسلح افواج کے نمائندوں اور دیگر لوگوں نے حصہ لیا۔ خیال رہے کہ بھارت بھی وقتاً فوقتاً خطے میں قیام امن کے لیے کام کرنے کی اپیل پاکستان سے کرتا رہتا ہے۔ سید حیدر شاہ نے تقریب کے دوران پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیر أعظم شاہد خاقان عباسی کے پیغامات پڑھ کر سنائے جن میں کہا گیا کہ 21 ویں صدی میں دنیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے۔ پاکستان اس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور عالمی امن کے لیے کام کر رہا ہے۔  سید حیدر شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت جبکہ پاکستان اپنا یوم آزادی منا رہا ہے ہم بھارت کے عوام کو بھی ان کی آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس خطے اور دونوں ملکوں میں امن قائم ہوگا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ دراصل اس خطے کے تمام لوگوں کو مل کر اسے ایک پرامن علاقہ بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس موقع پر پاکستان ہائی کمشن کے اسکول کی ایک طالبہ عمران سرور نے تقریر کی اور بچوں نے قومی ترانہ اور پروگرام پیش کیے۔ ڈپٹی ہائی کمشنر کی اہلیہ پلواشہ حیدر نے اسکول کے اساتذہ اور بچوں کو تحائف اور النعامات تقسیم کیے۔ حیدر شاہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر قیام پاکستان کی 70 ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔ ادھر واہگہ اٹاری سرحد پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس سے قبل اتوار کے روز پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واہگہ سرحد پر چار سو فٹ کی بلندی پر 120 اونچا اور 80 فٹ چوڑا پاکستانی پرچم لہرایا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ جنوبی ایشیا کا سب سے اونچا پرچم ہے۔  ​ بھارت نے مارچ میں اٹاری میں 360 فٹ کی بلندی پر بھارت کا ترنگا لہرایا تھا۔ بھارتی عہدے دار چاہتے تھے کہ اسے لاهور سے دیکھا جا سکے۔ لیکن جب اس کی دیکھ بھال میں دشواری ہوئی اور تیز ہواؤں سے ترنگا پھٹنے لگا تو اسے اتار لیا گیا۔


بھارت: لینڈ سلائیڈنگ سے 47 افراد ہلاک

Mon, 14 Aug 2017

بھارت: لینڈ سلائیڈنگ سے 47 افراد ہلاک

حادثہ ہماچل پردیش کے ضلعے منڈی میں اتوار کی صبح پیش آیا جو دارالحکومت نئی دہلی سے 431 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔


ایران: میزائل پروگرام اور بیرونی فوجی مہمات کے بجٹ میں اضافہ

Mon, 14 Aug 2017

ایران: میزائل پروگرام اور بیرونی فوجی مہمات کے بجٹ میں اضافہ

ایران کے خبررساں ادارے ارنا کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اتوار کے روز 247 ارکان پر مشتمل ایوان میں سے 240 نے مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔


نیپال میں شدید بارشیں، 49 افراد ہلاک

Sun, 13 Aug 2017

نیپال میں شدید بارشیں، 49 افراد ہلاک

پولیس اور فوج کے اہل کار مسلسل لاپتا افراد کو تلاش کرنے اور امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ بارشوں سے  34 ہزار سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔


افغانستان: فضائی حملوں میں داعش کے متعدد سینئر کمانڈر ہلاک

Sun, 13 Aug 2017

افغانستان: فضائی حملوں میں داعش کے متعدد سینئر کمانڈر ہلاک

ہفتے کے روز افغان عہدے داروں نے کہا تھا کہ ننگرہار مین امریکی فضائی حملوں کی زد میں آکر عورتوں اور بچوں سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔


بھارتی کشمیر میں جھڑپ، تین جنگجو اور دو بھارتی فوجی ہلاک

Sun, 13 Aug 2017

بھارتی کشمیر میں جھڑپ، تین جنگجو اور دو بھارتی فوجی ہلاک

عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند مقامی کشمیری تھے اور ان کا تعلق سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے تھا۔


افغانستان میں امریکی جنگ کی نجکاری کی تجاویز پر 'سرد مہری'

Sun, 13 Aug 2017

افغانستان میں امریکی جنگ کی نجکاری کی تجاویز پر

امریکہ میں ایک بڑی نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کی طرف سے افغانستان میں امریکی جنگ کے ایک بڑے حصے کی نجکاری کرنے کی تجویز پر کابل اور واشنگٹن کے بڑے حلقوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے اس تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں۔ پرنس کا استدلال ہے کہ یہ تجویز اخراجات کے حساب سے موثر ہے اور اس سے جنگ کا پانسہ پلٹا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کے تحت افغان فورسز کو مشاورت فراہم کرنے والے فوجیوں کی جگہ تقریباً پانچ ہزار کنٹرکٹرز کو تعینات کیا جائے گا جنہیں نجی فضائی قوت کی معاونت حاصل ہوگی۔ پرنس کے مطابق یہ کنٹریکٹرز افغان حکام کے زیر کنٹرول ہوں گے۔ وائس آف امریکہ کی افغان سروس سے گفتگو کرتے ہوئے پرنس کا کہنا تھا کہ " یہ سب مرکزی افغان حکومت اور افغان مسلح افواج کے سربراہ کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یہ کوئی مقامی ملیشیا نہیں ہے جو بننے جا رہی ہے۔" لیکن کئی اہم افغان حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ پرنس کی یہ نجی فوج احتساب سے بالا ہوگی اور ان کے بقول اس اقدام سے بلیک واٹر کے کارندے ویسے ہی مظالم ڈھا سکتے ہیں جو انھوں نے گزشتہ دہائی میں عراق اور افغانستان میں کیے۔ افغان حکومت نے تاحال اس تجویز پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن ایک سینیئر افغان دفاعی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ " اس منصوبے کے لیے قانونی پیچیدگیاں ہیں اور یہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی سکیورٹی معاہدوں پر سوالات اٹھاتا ہے۔" اس وقت افغانستان میں لگ بھگ نو ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کی اکثریت جنگ کی بجائے افغان فورسز کی تربیت میں مصروف ہے۔ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کا افغانستان میں لڑاکا مشن 2014ء میں ختم ہو چکا ہے۔ اس کے بعد سے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی افغان فورسز کو طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے اور کئی علاقے سرکاری کنٹرول سے نکل ہو چکے ہیں۔ کابل کی حکومت اس وقت ملک کے نصف سے تھوڑے زیادہ حصے پر عملداری رکھتی ہے۔ پینٹاگان کے اعلیٰ عہدیداران بشمول وزیردفاع جم میٹس اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی۔ یہ ایک مہنگی جنگ بھی ہے۔ امریکہ کو اس سال تقریباً 45 ارب ڈالر یہاں صرف کرنا ہوں گے۔ ایرک پرنس کی تجویز کے مطابق امریکہ کی یہ جنگ "وائسرائے" کے ذریعے مربوط کی جائے گی۔ پانچ ہزار کنریکٹرز افغان فوجی یونٹس کے ساتھ منسلک ہوں "انھیں تربیت دیں گے اور ضرورت پڑی تو ان کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ اور وہ افغان حکومت کو رپورٹ کریں گے۔" پرنس نے "ایک بڑی فضائیہ" کی بھی تجویز دی۔ اس میں ان کی نجی فضائی فورس کے 90 طیارے شامل ہوں گے جن پر "افغان فضائیہ کا نشان اور ان کے اشارے ہوں گے اور اس پر ایک افغان بھی سوار ہو گا اور بمباری کا حکم بھی افغان حکام ہی دیں گے۔" لیکن پرنس کے اس منصوبے کو مخالفت کا سامنا بھی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان سے متعلق نئی تجاویز سننے پر آمادہ ہیں۔ لیکن اگر وہ پرنس کے منصوبے کو مان لیتے ہیں تو یہ امریکی فوجی کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی مخالفت ہو گی جو اس تجویز کو پسند نہیں کرتے۔ افغانستان میں بھی ایک وسیع حلقہ اس تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ "سختی" سے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ افغانستان کی قومی خودمختاری کی "صریح خلاف ورزی ہے۔" افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ شہریوں کے مزید غصے کا باعث بنے گا جس سے طالبان کو اپنے لیے لوگ بھرتی کرنے میں مدد ملے گی۔ صدر ٹرمپ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ افغانستان سے متعلق جلد ہی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ پرنس کی تجاویز کے علاوہ ان کے پاس افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے یا کلی طور پر یہاں سے انخلا کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔


بھارتی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی کوششیں

Sat, 12 Aug 2017

بھارتی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی کوششیں

بی جے پی کے ترجمان، وریندر گپتا نے جمعہ کو بتایا کی آئینِ ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ، اُن کے بقول، '' یہ دفعات علیحدگی کی نفسیات اور سوچ کو پروان چڑھانے کا موجب بنی ہیں''


گورکھپور میڈیکل کالج میں پانچ دنوں کے اندر 63 بچوں کی موت

Sat, 12 Aug 2017

گورکھپور میڈیکل کالج میں پانچ دنوں کے اندر 63 بچوں کی موت

رپورٹوں کے مطابق، اموات کی وجہ بچوں کے وارڈ میں آکسیجن سپلائی میں رکاوٹ اور 'انسے فلائٹس'، یعنی جاپانی بخار ہے۔ 23 بچوں کی موت صرف جمعرات کے روز ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بدھ کے روز میڈیکل کالج کا دورہ کیا تھا


میانمر: راخین میں مزید سینکڑوں فوجی تعینات

Sat, 12 Aug 2017

میانمر: راخین میں مزید سینکڑوں فوجی تعینات

اطلاعات کے مطابق فوج نے تقریباً پانچ سو فوجیوں کو بنگلا دیش کی سرحد کے قریب واقع قصبوں میں امن و امان کی صورت حال پر کنٹرول کے لیے بھیجا ہے۔


وزیر اعظم مودی سے محبوبہ مفتی کی ملاقات

Fri, 11 Aug 2017

وزیر اعظم مودی سے محبوبہ مفتی کی ملاقات

وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد، نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ”پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کے ایجنڈے کی بنیاد یہ ہے کہ دفعہ 370 کو برقرار رکھا جائے گا اور اس کے خلاف کوئی بھی نہیں جائے گا“