جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

دنیا


دیوار کی تعمیر کے معاملے پر ٹرمپ اور پلوسی کی ایک دوسرے پر تنقید

Fri, 18 Jan 2019

دیوار کی تعمیر کے معاملے پر ٹرمپ اور پلوسی کی ایک دوسرے پر تنقید

پلوسی نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ 29 جنوری کو ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ کا خطاب مؤخر کریں، جب تک سرکاری رقوم جاری ہونے کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا اور شٹ ڈاؤن ختم نہیں کیا جاتا


کیلی فورنیا: شدید بارش اور برف باری، ٹریفک حادثات میں کئی افراد ہلاک

Fri, 18 Jan 2019

کیلی فورنیا: شدید بارش اور برف باری، ٹریفک حادثات میں کئی افراد ہلاک

اطلاعات کے مطابق، ایک ہفتے سے جاری شدید طوفانی موسم کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں


ثاقب نثار متنازع اور ناکام چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے: علی احمد کرد

Fri, 18 Jan 2019

ثاقب نثار متنازع اور ناکام چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے: علی احمد کرد

سابق جج جسٹس ناصرہ جاوید نے کہا ہے کہ ’’ججوں کو اپنا کام اپنے فیصلوں کے ذریعے کرنا چاہیے اور براہ راست مقننہ اور انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے‘‘


امریکہ: ہائپر سونک میزائل حملوں کا خلا سے دفاع کرنے کا منصوبہ

Thu, 17 Jan 2019

امریکہ: ہائپر سونک میزائل حملوں کا خلا سے دفاع کرنے کا منصوبہ

میزائل حملوں سے دفاع کا امریکی ادارہ ایم ڈی اے، آواز سے کئی گنا تیز رفتار میزائلوں کا راستہ روکنے کے لیے خلا میں ایسے مراکز قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے جہاں سے راکٹ داغ کر میزائل کو راستے میں ہی تباہ کر دیا جائے۔


امریکہ اور برطانیہ کو بیک وقت نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں کا سامنا

Thu, 17 Jan 2019

امریکہ اور برطانیہ کو بیک وقت نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں کا سامنا

امریکہ اور برطانیہ دنوں ایسے سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہیں جو ختم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ امریکی ایوان نمائیندگان کے نئے منتخب ہونے والے ارکان نے بدھ کے روز سنیٹ پر زور دیا کہ وہ شٹ ڈاؤن یعنی حکومت کی بندش کے بارے اخراجاتی بلوں پر ووٹنگ کروایں جبکہ برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے پارلیمان میں بریکسٹ کے سمجھوتے کی شکست کے بعدکل بدھ کے روز عدم اعتماد کی  ووٹنگ میں بال بال بچیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئے ارکان کانگریس نے کل بدھ کے روز سنیٹ  پر زور دیا کہ وہ  اس مالی بل پر رائے شماری کا اہتمام کرے جس سے شٹ ڈاؤن ختم کیا جا سکے۔  ایوان نمائیندگان میں ڈیموکریٹک  پارٹی کی  نو منتخب رکن اِلہان عمر کا کہنا ہے ’’ہم نے سنیٹ میں اکثریتی فریق کو وہی بل بھجوائے ہیں جن کے حق میں وہ پہلےووٹ دے چکے ہیں۔ اب ہم اُنہیں یہ بل منظور کرنے کیلئے اپنی انتظامیہ کی طرف سے اجازت کا انتظار کئے بغیر لیڈرشپ دکھانے کا ایک موقع فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کر دئے ہیں جس کے ذریعے فرلو پر جانے والے یا پھر بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے لگ بھگ 800,000 سرکاری ملازمین کو معاوضے کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ۔میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کیلئے فنڈنگ کی منظوری نہیں دی جاتی، وہ شٹ ڈاؤن  ختم نہیں کریں گے۔ اُدھر برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے کی بریکسٹ سمجھوتے سے متعلق اپنی پارلیمان کے ساتھ محاذ آرائی جاری ہے۔ یہ سمجھوتا اُنہوں نے یورپین یونین کے ساتھ کیا تھا۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائینا میں سیاسیات کے ماہر کلاس لیرس کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا کی دونوں کلیدی جمہوریتوں کے بحران عوامی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بریکسٹ پر ریفرنڈم 2016 کے وسط میں ہوا تھا۔ ٹرمپ اس کے چند ماہ بعد صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان دونوں میں ایک واضح تعلق موجود ہے کیونکہ 2016 عوامیت کی تحریک کا نقطہ آغاز تھا اور ان دونوں ملکوں نے اس سلسلے میں ایک دوسرے سے تعاون کیا۔۔ لیرس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور بریکسٹ کے لیڈر نائجل فیراج نے کھلے عام ایک دوسرےکی حمیت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے دیوار کی تعمیر پر اصرار اور برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی ایسے معاملات ہیں جن سے عالمی معیشت اور امیگریشن کیلئےشدید خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، ’’اقتصادی انحطاط کا خوف، غیر ملکیوں سے متعلق خوف، پناہ گزینوں کا خوف اور قومی شناخت کھو جانے کا خوف،   میرے خیال میں لوگوں کی اکثریت اس سے گزر رہی ہے اور ان میں برطانیہ اور امریکہ کے عوام کا بڑا طبقہ شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل مدت تک جاری رہنے والے ان سیاسی بحرانوں سے دنیا بھر میں امریکہ اور برطانیہ کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہو رہی ہے اور  روسی صدر ولادی میر پوٹن اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کلاس لیرس کا کہنا ہے کہ  اُن کے خیال میں  اس کا براہ راست فائدہ پوٹن کو نہیں  پہنچ رہا ہے۔  تاہم چاہے امریکہ ہو یا برطانیہ، کوئی بھی ایسا  معاملہ جو  مغرب کے مضبوط جمہوری ملکوں کو نقصان پہنچاتا  ہے وہ امریکہ اور برطانیہ کے دوست ممالک کیلئے اچھا نہیں ہے۔ لیرس کا کہنا ہے کہ امریکہ میں شٹ ڈاؤن اُس وقت ختم ہو گا جب یہ امریکی معیشت کو متاثر کرنے لگے گا۔ برطانیہ کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ بحران کے نتیجے میں ایک اور ریفرنڈم منعقد ہو سکتا ہے۔ یہ ایسا  ریفرنڈم ہو گا جس میں ووٹ دینے والے لوگ یورپین یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے اثرات کا پہلے کی نسبت بہتر طور پر با خبرہوں گے۔


ٹرمپ کو 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب مؤخر کرنے کا مشورہ

Thu, 17 Jan 2019

ٹرمپ کو

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے پیشِ نظر کانگریس سے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب مؤخر کردیں۔ صدر ٹرمپ کو کانگریس کے دونوں ایوانوں سے 29 جنوری کو اپنا سالانہ خطاب کرنا ہے جس کی تیاریاں جاری ہیں۔ لیکن ہاؤس اسپیکر پیلوسی نے بدھ کو صدر کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے باعث اس انتہائی اہم سالانہ تقریب کی سکیورٹی کے انتظامات متاثر ہوسکتے ہیں۔ نینسی پیلوسی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ 26 روز سے جاری شٹ ڈاؤن کے باعث امریکی صدر کی سکیورٹی کے ذمے دار ادارے 'سیکرٹ سروس' اور محکمہ داخلی سلامتی کو بھی فنڈز نہیں مل سکے ہیں جس سے ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ جاری شٹ ڈاؤن کے باعث صدر ٹرمپ اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت پر مامور 'سیکرٹ سروس' کے اہلکار بغیر تنخواہوں کے کام کر رہے ہیں۔ اپنے خط میں نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ ان حالات میں 'اسٹیٹ آف دی یونین' کی تیاریاں اور سکیورٹی متاثر ہوسکتی ہے جس کے پیشِ نظر اسے شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک مؤخر کرنا بہتر ہے۔ خط میں پیلوسی نے صدر کو پیش کش کی ہے کہ شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے بعد وہ دونوں باہم مشاورت سے 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کے لیے کوئی اور مناسب تاریخ طے کرلیں گے یا ان کے بقول اگر صدر 29 تاریخ کو ہی خطاب کرنا چاہتے ہیں تو وہ تحریری طور پر ارکان سے مخاطب ہوں اور اپنی تقریر کا مسودہ ارکانِ کانگریس کو ارسال کردیں۔ امریکہ کے آئین کے تحت صدر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ "وقتاً فوقتاً کانگریس کو یونین کی صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔" لگ بھگ ایک صدی قبل تک صدر اپنا یہ خطاب تحریری صورت میں ہی ارکانِ کانگریس کو بھیجا کرتے تھے۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز سے ری پبلکن اور ڈیموکریٹس صدور بذاتِ خود ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سےیہ خطاب کرتے آ رہے ہیں جو ٹی وی اور ریڈیو پر براہِ راست نشر کیا جاتا ہے۔ عموماً اس خطاب میں امریکی صدر قانون سازی سے متعلق ترجیحات اور ملک کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہیں جسے عموماً ان کی جماعت کے ارکانِ کانگریس خوب سراہتے ہیں جب کہ مخالف جماعت کے ارکان خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ گو کہ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ہاؤس اسپیکر کے خط پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن داخلی سلامتی کے وزیر کرسجن نیلسن نے کہا ہے کہ تمام سرکاری ادارے 'اسٹیٹ آف دی یونین' کا انعقاد اور اس کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ غالب امکان ہے کہ وائٹ ہاؤس نینسی پیلوسی کی خطاب ملتوی کرنے کی تجویز مسترد کردے گا کیوں کہ یہ خطاب صدر ٹرمپ کے لیے شٹ ڈاؤن سے متعلق اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کرنے اور سرحدی دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے ڈیموکریٹس پر دباؤ بڑھانے کا ایک شاندار موقع ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ کانگریس بجٹ میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر کی  ابتدائی رقم مختص  کرے جسے ڈیموکریٹس ارکانِ کانگریس مسترد کرچکے ہیں۔ بجٹ پر یہی تنازع 22 دسمبر کو امریکی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کا سبب بنا تھا جو تاحال جاری ہے۔ شٹ ڈاؤن سے امریکہ کی وفاقی حکومت کے آٹھ لاکھ سے زائد ملازمین متاثر ہوئے ہیں جن میں سے نصف بغیر تنخواہ کے جبری رخصت پر ہیں جب کہ باقی بغیر تنخواہوں کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔


محکمہٴ خارجہ جولائی میں آزادی مذہب پر سہ روزہ اجلاس منعقد کرے گا

Thu, 17 Jan 2019

محکمہٴ خارجہ جولائی میں آزادی مذہب پر سہ روزہ اجلاس منعقد کرے گا

آزادی مذہب کے قومی دن کے موقعے پر بدھ کو ایک اخباری بیان میں مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ’’دنیا کے ہر ایک شہری کو آزادی ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جس عقیدے کو درست سمجھے اختیار کرے اور اُس پر عمل پیرا ہو‘‘


امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن: کام کریں، تنخواہ نہ مانگیں

Wed, 16 Jan 2019

امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن: کام کریں، تنخواہ نہ مانگیں

امریکی تاریخ کے اس طویل ترین شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سرحد پر دیوار کی تعمیر سے متعلق تنازعے میں  کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔


شٹ ڈاؤن کے دوران وائٹ ہاؤس میں فاسٹ فوڈ ڈنر

Tue, 15 Jan 2019

شٹ ڈاؤن کے دوران وائٹ ہاؤس میں فاسٹ فوڈ ڈنر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز امریکی کالج فٹ بال چیمپین شپ کی فاتح ٹیم کلیمسن ٹائگرز کے اعزاز میں فاسٹ فوڈ ڈنر کا اہتمام  کیا۔ اس موقع پر میکڈونلڈ کے کوارٹرز پاؤنڈرز اور وینڈی کے ’ریڈ اینڈ وائٹ‘ برگر کھانے کا اہم حصہ تھے۔ وائٹ ہاؤس میں عام طور پر کھانے کا اہتمام وائٹ ہاؤس کے شیف کرتے ہیں۔ تاہم اس بار شیف سمیت وائٹ ہاؤس کا متعلقہ عملہ شٹ ڈاؤن کے باعث فرلو پر ہے۔ لہذا صدر ٹرمپ نے ضیافت میں فاسٹ فوڈ آرڈر کروایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکی کھانا ہے۔ اس لئے یہ شاندار ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’ہمارے پاس یہاں بہت سے پیزا، 300 برگر اور بہت سے فرینچ فرائیز ہیں جو ہم سب کا پسندیدہ کھانا ہے۔‘‘ کلیمسن ٹایگرز کے کھلاڑی رسمی سوٹوں میں ملبوس اس ضیافت میں شریک ہوئے۔ کھانے کے بعد کھلاڑیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ضیافت کو شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک کیلئے ملتوی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لہذا اُنہوں نے اس کیلئے فاسٹ فوڈ منگوانے کا فیصلہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری سارا سینڈرز نے بتایا ہے کہ اس ضیافت کے تمام اخراجات صدر ٹرمپ نے خود برداشت کئے۔ امریکن فٹبال ملک کا مقبول ترین کھیل ہے۔ اس کھیل کی یونیورسٹی سطح پر ہونے والی سالانہ چیمپئن شپ بھی نیشنل ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کی جاتی ہے۔ اور ملکی سطح پر کھیلنے والے کھلاڑی کالج فٹبال سے ہی آگے آتے ہیں۔ کلیسن ٹائگرز نے 7 جنوری کو  کالج فٹ بال چیمپین شپ کے فائنل میں ایلاباما کرمزن ٹائیڈ کو شکست دے کر چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔


تارکین وطن کا ایک اور قافلہ امریکہ کی جانب رواں

Tue, 15 Jan 2019

تارکین وطن کا ایک اور قافلہ امریکہ کی جانب رواں

ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں کئی سو لوگ سین پیڈرو سولا میں اکھٹے ہو چکے ہیں۔ وہ ہنڈورس کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ اپنے اس سفر میں انہیں امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر پہنچنے میں کئی ہفتے بلکہ مہینوں لگ سکتے ہیں۔


صدر ٹرمپ کا روس سے تعلق کے الزامات سے انکار

Tue, 15 Jan 2019

صدر ٹرمپ کا روس سے تعلق کے الزامات سے انکار

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اس بارے میں دو ٹوک تردید کی کہ انہوں نے کبھی بھی روس کے لیے کام کیا تھا۔ جب کہ اس سے پہلے اتوار کو فاکس نیوز پر نشر ہونے والے ایک انٹر ویو کے دوران وہ بظاہر اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے دکھائی دیے تھے۔


میکسیکو دیوار کے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، صدر ٹرمپ

Tue, 15 Jan 2019

میکسیکو دیوار کے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، صدر ٹرمپ

63 فی صد امریکیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کو ڈیموکریٹس کی تجویز قبول کر لینی چاہیے، جس میں دیوار کی بجائے بارڈر سیکیورٹی کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں۔


'امریکی کانگریس میں پیش کیا جانے والا ہر بل قانون نہیں بنتا'

Mon, 14 Jan 2019

امریکی کانگریس میں ہر سال ہزاروں بل پیش کئے جاتے ہیں، لیکن قانون بننے کے مرحلے تک تھوڑے ہی پہنچ پاتے ہیں۔ یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان کے نان نیٹو اتحادی ملک سے متعلق بل قانون بن سکے گا یا نہیں۔


سعودی بادشاہ اور ولی عہد خشوگی کے قاتلوں کا احتساب جلد مکمل کرنے پر رضامند

Mon, 14 Jan 2019

سعودی بادشاہ اور ولی عہد خشوگی کے قاتلوں کا احتساب جلد مکمل کرنے پر رضامند

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سعودی نژاد صحافی خشوگی کے قتل کے سلسلے میں احتساب کا عمل جلد مکمل ہونا چاہیے۔ پومپیو آج پیر کے روز ریاض میں سعودی فرمان روا اور ولی عہد کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔ وہ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے دورے کے دوران قطر سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ سعودی ولی عہد سے ملاقات کے دوران یمن میں جاری تنازعے کی شدت کم کرنے اور اہم شہر ہودیبہ میں فائر بندی کے امکانات کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ پومپیو نے ریاض میں سعودی لیڈروں کے ساتھ تجارت، سیکورٹی اور علاقائی مسائل کے بارے میں بھی بات چیت کی۔ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ یمن کے تنازعے کا خاتمہ جامع سیاسی مزاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ سعودی عرب 2015  میں باغی حوثیوں کی طرف سے یمن کے دارالحکومت اور دیگر متعدد شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یمنی حکومت کی حمایت میں باغی حوثیوں کے خلاف ہوائی حملے اور دیگر فوجی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کی ان کارروائیوں میں امریکہ بھی سعودی عرب کی مدد کرتا رہا ہے جس میں فضا میں جہازوں کو ایندھن کی فراہمی اور نقل حمل میں تعاون جیسے اقدامات شامل ہیں۔ سعودی عرب کے دورے سے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کا مشرق وسطیٰ کا دورہ اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس دورے کے دوران اُنہوں نے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی قیادت کے ساتھ شام سے مجوزہ امریکی انخلا کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اُنہوں نے ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کیلئے امریکی کوششوں کے حوالے سے ان ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کی۔ وزیر خارجہ پومپیو نے قطر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکہ قطر کی خلیجی ممالک اور مصر کے ساتھ محاذ آرائی کا خاتمہ چاہتا ہے، جس سے بقول اُن کے ایران کے خلاف حمایت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مائک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’’صدر ٹرمپ اور میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ علاقائی تنازعہ کچھ زیادہ ہی طوالت اختیار کر گیا ہے اور اس تنازعے کا فائدہ مخالف قوتوں کو حاصل ہو  رہا ہے جبکہ اس سے ہمارے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہمارے ملک اہم کام کر رہے ہیں اور ہمیں یہ اہم کام مل کر جاری رکھنا ہے۔ امریکہ کو اُمید ہے کہ اس تنازعے میں شرک فریقین تعاون کے ثمرات کا ادراک کریں گے اور اپنی صفوں میں دوبارہ اتحاد قائم کرنے کیلئے ضروری اقدامات اختیار کریں گے۔ درایں اثناء ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے روز دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئے عراق کا دورہ کیا۔ ایران یمن میں حوثی باغیوں کو مسلح کر رہا ہے اور وہ شام کی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ عرب ممالک نے شام میں حکومت کے مخالفین پر ظلم کرنے کے سلسلے میں شامی حکومت کی مزمت کی ہے۔ تاہم بہت سے عرب ملک اب شام کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دورے کے دوران ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا، ’’ہم نے علاقائی معاملات پر بات کی اور شام کے تمام علاقوں میں خود مختاری کی بحالی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شامی حکومت کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا۔ ہم عراقی حکومت کی طرف سے شام  اور دیگر عرب ملکوں کے ساتھ  تعلقات بحال کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔


پاکستان کی نان نیٹو اتحادی حیثیت ختم کرنے کا بل کانگریس میں پیش

Mon, 14 Jan 2019

پاکستان کی نان نیٹو اتحادی حیثیت ختم کرنے کا بل کانگریس میں پیش

اس نئے قانونی مسودے میں پاکستان کو دوبارہ نان نیٹو اتحادی کا درجہ دینے کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی سے مشروط کیا گیا ہے۔


امریکہ کا وسطی و مشرقی علاقہ برفباری کی زد میں، 10 افراد ہلاک

Mon, 14 Jan 2019

امریکہ کا وسطی و مشرقی علاقہ برفباری کی زد میں، 10 افراد ہلاک

حکام نے واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے لوگوں سے کہا تھا کہ ''کسی مجبوری کے بغیر'' وہ سڑکوں کا رُخ نہ کریں؛ اور سفر کے دوران انتہائی درجے کی احتیاط برتیں۔ پہلے ہی ورجینیا اور میری لینڈ کے مختلف شہروں نے اعلان کر رکھا ہے کہ شدید سرد موسم کی وجہ سے پیر کو اسکول بند رہیں گے


امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن

Sat, 12 Jan 2019

امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن

22 دسبمر سے شروع ہونے والا امریکی حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن چکا ہے جس کے باعث امریکی حکومت کی 15 میں سے 9 وزارتوں کی سرگرمیاں اور معمول کے کام جزوی طور پر معطل ہیں۔


فی الحال ایمرجنسی کے اعلان کا کوئی ارادہ نہیں: ٹرمپ

Sat, 12 Jan 2019

فی الحال ایمرجنسی کے اعلان کا کوئی ارادہ نہیں: ٹرمپ

اس تعطل کے نتیجے میں جزوی سرکاری شٹ ڈاؤن جاری ہے جسے اب 21 دِن ہوگئے ہیں، جو امریکی تاریخ کی طویل ترین بندش ہے


کیا ٹرمپ ایمرجنسی لگا کر میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنا لیں گے؟

Fri, 11 Jan 2019

کیا ٹرمپ ایمرجنسی لگا کر میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنا لیں گے؟

ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کے درمیان دیوار کی تعمیر کا تنازع ایک نئی صورت حال کی طرف بڑھ رہا ہے اور صدر نے ایمرجینسی نافذ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایمرجینسی لگا کر دیوار بنوا سکتے ہیں۔


مسلمان ریپبلکن شاہد شفیع کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش ناکام

Fri, 11 Jan 2019

مسلمان ریپبلکن شاہد شفیع کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش ناکام

جمعرات کی رات ہونے والی ووٹنگ میں ڈاکٹر شاہد کی برطرفی کے لئے 49 ری پبلکن اراکین نے ووٹ دیے، جبکہ ریپبلکنز سمیت 139 ممبران نے نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے انھیں وائس چئیرمین کے عہدے پر برقرار رکھنے کی حمایت کی