جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand

E Paper

ePaper

دنیا


امریکی فوج کا لڑاکا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو اہلکار ہلاک

Sun, 21 Jan 2018

امریکی فوج کا لڑاکا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو اہلکار ہلاک

امریکہ کی  فوج کا ایک لڑاکا ہیلی کاپٹر کیلیفورنیا کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اس پر سوار دو فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جیسن برآؤن نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی کیلیفورنیا میں فورٹ ارون میں واقع قومی تربیتی مرکز میں اے ایچ 64 اپاچی ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کے معاملے کی  تحقیقات جاری ہے۔ فوج کی ایک دوسرے ترجمان نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ اور معاون پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے خاندانوں کو اطلاع دینے سے پہلے ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے ۔ فورٹ کارسن میں فوج کی ترجمان برینڈی گل نے کہا کہ اس ہیلی کاپٹرکا عملہ فورٹ کارسن کولوراڈو میں تعینات تھا اور وہ تربیتی امور میں شرکت کے لیے موآوی صحرا میں مقیم تھے۔  گل نے مزید کہا کہ کہ ہیلی کاپٹر مقامی وقت کے مطابق صبح ایک بجے گر کر تباہ ہوا۔


امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن، عارضی اخراجات بل پر ووٹنگ پیر کو طے

Sun, 21 Jan 2018

امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن، عارضی اخراجات بل پر ووٹنگ پیر کو طے

امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون ساز سرکاری اخراجات کے بل پر اتفاق نہ ہونے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں اور یہ سیاسی تعطل ہفتہ کو بھی جوں کا توں رہا۔ سینیٹ میں اکثریتی راہنما مچ مکونل نے ہفتہ کو دیر گئے کہا کہ انھوں نے حکومت کو آٹھ فروری تک اپنے امور کی ادائیگی کے لیے اخراجات کے نئے بل پر رائے شماری کے لیے پیر ایک بجے علی الصبح کا وقت رکھا ہے۔ جمعہ کو نصف شب اس بل پر اتفاق نہ ہونے کے باعث جزوی شٹ ڈاؤن کا آغاز ہو گیا تھا جس کے بعد سوائے انتہائی ضروری سرکاری امور کے علاوہ دیگر کارکنان کو رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔ قانون سازوں کے درمیان دفاعی اخراجات اور امیگریشن کے معاملات بشمول وہ قانون سازی جس کے ذریعے ان تقریباً آٹھ لاکھ غیرقانونی تارکین وطن نوجوانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو بچپن میں امریکہ آئے تھے، اختلافات پائے جاتے ہیں۔ سینیٹرز نے ہفتہ کی دوپہر اخراجات کے عارضی بل پر دوبارہ بحث کا آغاز کیا تھا۔ تاہم ڈیموکریٹک سینیٹر ٹیمی بالڈون اخراجات کے ان عارضی بلوں پر یہ کہہ کر معترض تھیں کہ سب صرف وقت گزاری کے لیے ہے اور اس سے امریکی عوام کے لیے خدمات انجام نہیں دی جا سکتیں۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ "مجھے معلوم ہے کہ ایک بہت برا لگ رہا ہے لیکن بہت سے سینیٹرز خیرسگالی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔" ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ "صدر اس وقت تک امیگریشن اصلاحات پر مذاکرات نہیں کریں گے جب کہ ڈیموکریٹس یہ کھیل بند نہیں کرتے اور حکومت کو دوبارہ نہیں کھولتے۔" اسی اثنا میں وفاقی اداروں نے اپنے ہاں غیر اہم ملازمتوں پر مامور لوگوں کو رخصت پر بھیجنا شروع کر دیا ہے۔


خواتین کا امریکہ میں اپنے حقوق کے لیے بڑا مظاہرہ

Sun, 21 Jan 2018

خواتین کا امریکہ میں اپنے حقوق کے لیے بڑا مظاہرہ

ایک سال بعد  20 کو ہفتے کے روز ایک بار پھر امریکہ بھی میں خواتین اپنے حقوق اور  جنسی  طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کے خلاف اکھٹی ہوئیں۔


امریکی حکومت کے جزوی 'شٹ ڈاؤن' کا آغاز

Sat, 20 Jan 2018

امریکی حکومت کے جزوی

امریکہ کے سرکاری اخراجات کے بل پر سینیٹ میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث نصف شب کے بعد امریکی حکومت کو 'جزوی شٹ ڈاؤن' کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث کاروبار حکومت کے غیر ضروری امور معطل ہو گئے ہیں۔ 100 ارکان والے ایوان میں اس بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں لیکن طویل بحث و مباحثے اور مذاکرات کے بعد بھی اس پر اتفاق نہ ہو سکا اور اسبل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 49 ووٹ آئے۔ اس بل کے ذریعے حکومت کو آئندہ ماہ کی 16 تاریخ تک اخراجات کے بجٹ کی اجازت دی جانی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے اس پر اپنے فوری ردعمل میں کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹک سینیٹرز پر عائد کی اور اسے "شومر شٹ ڈاؤن" قرار دیا۔  بیان میں ان قانون سازوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو جائز امریکی شہریوں پر فوقیت دی۔ ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ "انھوں نے سیاست کو ہماری قومی سلامتی، عسکری خاندانوں، بچوں اور تمام امریکیوں کی خدمت کرنے کی ہماری قابلیت پر فوقیت دی۔" قبل ازیں سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر کی اس بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ ڈیموکریٹ ارکان نے اس بل کی مخالف کی کیونکہ وہ ان لاکھوں نوجوان تارکین وطن کو تحفظ دینے کے حق میں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی قرار دے کر ان کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔


'امریکی دفاعی پالیسی کی توجہ کا مرکز اب دہشت گردی نہیں'

Sat, 20 Jan 2018

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی قومی دفاعی حکمت عملی کی توجہ دہشت گردی کی بجائے ان کے بقول "طاقت کے عظیم مقابلے" کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے یہ بات پینٹاگون کی "قومی دفاعی حکمت عملی" کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔ یہ پالیسی عسکری حوالوں سے آنے والے سالوں میں امریکہ کے خدوخال مرتب کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں نے عندیہ دیا کہ امریکی محکمہ دفاع اپنی توجہ دہشت گردی سے ہٹا رہا ہے جو ان کے بقول 17 سالوں سے امریکی منصوبہ سازوں کو مصروف رکھے ہوئے تھی۔ "ہم دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپنی مہم جاری رکھیں گے لیکن اب امریکی قومی سلامتی کی بنیادی توجہ طاقت کے عظیم مقابلے پر ہوگی نہ کہ دہشت گردی پر۔" جم میٹس نے چین اور روس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں دنیا کو "طاقت کے محور کے مطابق" قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ "روس نے اپنی قریبی ریاستوں کی سرحدوں کی خلاف ورزیاں کی اور اپنے ہمسایوں کی اقتصادی، سفارتی اور سلامتی کے امور پر اقوام متحدہ میں اپنے ویٹّو کی طاقت کا سہارا لیا۔" چین کے بارے میں انھوں نے کہا کہ "چین اقتصادیات کو استعمال کرتے ہوئے اسٹریٹیجک مسابقت اختیار کے ذریعے اپنے ہمسایوں کے لیے خطرہ ہے جب کہ بحیرہ جنوبی چین میں عسکری موجودگی کو بڑھا رہا ہے۔" روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "تصادم" کی پالیسی قرار دیا اور کہا کہ امریکی فوجی حکام کی طرف سے اپنے بڑے فاعی اخراجات کو تحفظ دینے کی کوشش ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'تاس' کے مطابق لاوروف نے کہا کہ "ہمیں افسوس ہے بین الاقوامی قانون کو استعمال میں لاتے ہوئے مذاکرات کی بجائے امریکہ اپنی قیادت کو تصادم کی حکمت عملی سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔" پینٹاگون نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایران اور شمالی کوریا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیانگ یانگ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی میزائل دفاع نظاموں کی ضرورت ہے۔ اس کے مطابق ایران "مسلسل تشدد کے بیج بوتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔"


افغان طالبان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کریں: امریکی اہل کار

Sat, 20 Jan 2018

افغان طالبان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کریں: امریکی اہل کار

سلیوان نے کونسل کو بتایا کہ ’’ہم پاکستان کے ساتھ پیوستگی اور مؤثر طور پر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ لیکن، اگر حالات جوں کے توں رہے تو کامیابی حاصل نہیں ہوگی؛ یوں کہ ملک کی سرحدوں کے اندر دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوں، جنھیں جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی رہے‘‘


پینس مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ

Sat, 20 Jan 2018

پینس مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ

جب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا، جس کی عالمی سربراہان نے مذمت کی، وہ خطے کا دورہ کرنے والے انتظامیہ کے پہلے اعلیٰ عہدے دار ہیں۔


میری انتظامیہ ہمیشہ زندگی کی قدر کے حق کا دفاع کرے گی: ٹرمپ

Fri, 19 Jan 2018

میری انتظامیہ ہمیشہ زندگی کی قدر کے حق کا دفاع کرے گی: ٹرمپ

اس سے قبل، ٹرمپ نے 19 جنوری کو ’’انسانی وجود کی حرمت کا قومی دِن‘‘ منانے کا اعلان کیا تھا۔ رونالڈ ریگن نے 1987 اور جارج ڈبلیو بش نے 2003اور 2004 میں تقریب سے خطاب کیا تھا


حافظ سعید کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے: امریکی محکمہٴخارجہ

Fri, 19 Jan 2018

حافظ سعید کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے: امریکی محکمہٴخارجہ

ترجمان ہیدر نوئرٹ نے جمعرات کے روز اخباری بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ وہ 2008ء کے ممبئی حملوں کا سرغنہ ہے، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن میں امریکی بھی شامل ہیں‘‘


حکومتِ امریکہ کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا خدشہ لاحق

Fri, 19 Jan 2018

حکومتِ امریکہ کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا خدشہ لاحق

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ سرکاری کاروبار میں جزوی خلل ’’پڑ سکتا ہے‘‘، جو 2013ء کے بعد پہلا ’شٹ ڈاؤن‘ ہوگا


فوجی امداد کی بندش پاکستان کے لیے واضح پیغام ہے: ہیلی

Thu, 18 Jan 2018

فوجی امداد کی بندش پاکستان کے لیے واضح پیغام ہے: ہیلی

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر، نکی ہیلی نے کہا ہے کہ ’’وہ (افغان حکومت) یہ دیکھ رہی ہے کہ طالبان نے ہتھیار ڈالنے کا آغاز کردیا ہے، وہ دیکھنے لگے ہیں کہ وہ بات چیت کی میز پر آنے پر تیار ہیں‘‘


روس پابندیوں سے بچنے میں شمالی کوریا کی مدد کر رہا ہے: ٹرمپ

Thu, 18 Jan 2018

روس پابندیوں سے بچنے میں شمالی کوریا کی مدد کر رہا ہے: ٹرمپ

صدر نے الزام عائد کیا کہ شمالی کوریا ایسے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی جانب روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کر رہا ہے جن کی پہنچ امریکہ تک ہو۔


شمالی کوریا کا رویہ اطمینان بخش نہیں: نِکی ہیلی

Thu, 18 Jan 2018

شمالی کوریا کا رویہ اطمینان بخش نہیں: نِکی ہیلی

اقوام متحدہ میں مستقل امریکی مندوب نے کہا ہے کہ ’’چونکہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا نے آپس میں ہاتھ ملا لیا ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے‘‘


صدر ٹرمپ کا پہلا سال کیسا رہا؟

Thu, 18 Jan 2018

صدر ٹرمپ کا پہلا سال کیسا رہا؟

نکولس برنز کا کہنا ہے کہ ’’صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کو کمزور کر دیا ہے؛ اور وہ اسے منفی سمت کی جانب لے گئے ہیں۔ اُنہوں نے ہمارے کچھ اتحادیوں کے ساتھ رابطوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔‘‘


انسداد دہشت گردی، امریکہ قازقستان قریبی تعاون جاری رکھنے پر متفق

Wed, 17 Jan 2018

انسداد دہشت گردی، امریکہ قازقستان قریبی تعاون جاری رکھنے پر متفق

نائب صدر نے بدعنوانی کے تدارک کی کلیدی کوششوں اور شہری آزادی کے بارے میں قزاقستان میں کام کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کی، خاص طور پر مذہبی آزادی کے تحفظ کے عزم کے حوالے سے


ٹرمپ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے مکمل فٹ ہیں: وائٹ ہاؤس

Wed, 17 Jan 2018

ٹرمپ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے مکمل فٹ ہیں: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کے طبی معالج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ اپنے فرائض انجام دینے کے لیے طبی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہیں۔ منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر رونی جیکسن نے بتایا کہ 71 سالہ ٹرمپ کا وزن 108 کلوگرام (239 پاؤنڈز) اور قد چھ فٹ تین انچ ہے اور مجموری طور پر ان کی صحت بہترین ہے۔ ان کے بقول تمام طبی معلومات یہ واضح کرتی ہیں کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور اپنی مدت صدارت کے دوران ان کی صحت ایسی ہی برقرار رہے گی۔ جیکسن نیوی کے ریئرایڈمرل ہیں اور انھوں نے سابق صدر براک اوباما کا بھی بطور صدر آخری طبی معائنہ کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق کئی سوالات اٹھ رہے تھے جس کے بعد جمعہ کو انھوں نے بطور صدر اپنا پہلا مکمل طبی معائنہ والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں کروایا۔ جیکسن کا کہنا تھا کہ صدر نے انھیں ہدایت کی تھی وہ پریس بریفنگ کے دوران موجود رہیں اور ہر ایک سوال کا جواب دیں۔ صدر کی ذہنی صحت کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ٹرمپ کی خواہش پر کیے جانے والے تجزیے میں وہ مکمل طور پر فٹ پائے گئے۔ جیکسن کا کہنا تھا کہ "ہم ہر روز متعدد بار آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور مجھے ان کی ذہنی صحت کے درست ہونے میں قطعاً کوئی شبہ نہیں۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا تو میں یہ بات متعلقہ لوگوں کے علم میں ضرور لاتا۔" تاہم صدر کے وزن اور ان کے روزمرزہ معمولات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر انھیں ورزش کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اپنا وزن 10 سے 15 پاؤنڈز تک کم کرنا چاہیے۔ ٹرمپ صدر گالف کھیلتے ہیں اور مرغن غذاؤں کے شوقین ہیں۔ جیکسن نے بتایا کہ وہ خاتون اول ملانیا ٹرمپ اور صدر کی بیٹی ایوانکا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ٹرمپ کو ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت بخش غذا کے استعمال کی طرف راغب کیا جائے۔


'چیلسی حملہ آور‘ پر ساتھی قیدیوں کو شدت پسندی پر مائل کرنے کا الزام

Wed, 17 Jan 2018

امریکہ میں  استغاثہ  کا کہنا ہے کہ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جسے نیویارک شہر میں واقع مین ہیٹن کے علاقے چیلسی میں خود ساختہ بم نصب کرنے کا مجرم قرار دیا تھا، اس پر الزام ہے کہ اُس نے جیل میں دیگر قیدیوں کو داعش کے شدت پسندی پر مبنی نظریے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ احمد خان رحیمی کو وفاقی قانون کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کے استعمال اور عوامی مقامات پر بم دھماکے کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اس کو یہ سزا 13 فروری کو سنائی جائے گی۔ مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں منگل کو  جمع کروائی گئی دستاویزات  میں استغاثہ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کے جیل میں رحیمی نے اپنے ساتھی قیدیوں میں "دہشت گردی سے متعلق پروپیگنڈا مواد " تقسیم کیا۔ استغاثہ نے کہا کہ اس مواد میں داعش کے ایک رسالے کے شمارے اور القاعدہ کے سابق رہنما  اور اسامہ بن لادن کی تقاریر شامل تھیں۔ جیل کے عملے کو رحیمی کے سامان سے ایک ایسی نوٹ بک ملی ہے جس پر جیل میں بند دیگر قیدیوں کےنام در ج ہیں جنہیں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے۔ استغاثہ کے مطابق دیگر قیدیوں میں سجمیر علی محمدی بھی شامل ہے جس پر الزام ہے کہ اُس نے قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار کو شام میں جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی، تاہم اس اہلکار نے اپنی شناخت کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ مہند محمود علی الفارغ بھی شامل ہے جسے افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے پر القاعدہ کی طرف سے بم نصب کرنے کے منصوبے میں مدد دینے پر گزشتہ سال ستمبر میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ فیڈرل ڈیفنڈر آف نیویارک نامی غیر سرکاری تنظیم کا ایک وکیل رحیمی کی طرف سے عدالت میں پیش ہوا تھا، اس گروپ نے رواں ماہ قبل ازیں اس مقدمے سے یہ  علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ رحیمی کے موجودہ وکیل زیوئیر ڈونلڈسن سے جب منگل کو ان کا ردعمل جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور کچھ بھی نہیں کہا ہے۔


امریکہ نے فلسطینی مہاجرین کی کروڑوں ڈالر کی امداد روک دی

Wed, 17 Jan 2018

امریکہ نے فلسطینی مہاجرین کی کروڑوں ڈالر کی امداد روک دی

امریکہ ’یو این آر ڈبلیو اے‘ کو تقریباً سالانہ 36 کروڑ اور 40 لاکھ ڈالر دیتا ہے، جو دو اقساط میں ادا کیے جاتے ہیں، جو اس ادارے کی امداد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے


پینس، غنی رابطہ؛ جنوبی ایشیائی حکمتِ عملی پر گفتگو

Tue, 16 Jan 2018

پینس، غنی رابطہ؛ جنوبی ایشیائی حکمتِ عملی پر گفتگو

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں اس مکالمے کے سلسلے کو جاری رکھا گیا جو نائب صدر نے گذشتہ ماہ کابل میں اشرف غنی اور افغان چیف اگزیکٹو عبداللہ سے کی تھی


کیلیفورنیا: اپنے بچوں کو قید رکھنے کے الزام میں میاں بیوی گرفتار

Tue, 16 Jan 2018

کیلیفورنیا: اپنے بچوں کو قید رکھنے کے الزام میں میاں بیوی گرفتار

امریکہ کی مغربی ریاست کیلیفورنیا میں حکام نے ایک میاں بیوی کو اپنے 13 بچوں کو انتہائی ’’غلیظ‘‘ ماحول میں گھر پر قید رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ڈیوڈ اور لوئس نامی اس جوڑے کے خلاف تشدد اور بچوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے الزامات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ پولیس کو اس بارے میں 17 سالہ لڑکی نے اطلاع دی جو کہ لاس اینجلس کے قریب پیریس نامی شہر کے اس گھر میں قید تھی اور فرار ہونے میں کامیابی کے بعد اس نے پولیس کو فون کیا۔ پولیس کے مطابق یہ 17 سالہ لڑکی اس قدر لاغر اور نحیف تھی کہ دیکھنے میں وہ دس سال کی بچی معلوم ہو رہی تھی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جب اس گھر پر چھاپا مارا تو وہاں انھیں 12 بچے ملے لیکن ان میں 18 سے 29 سال کے درمیان عمروں کے جوان بھی شامل تھے۔ حکام نے بتایا کہ گھر میں موجود سب سے کم سن بچہ دو سال کا تھا اور بعض بچوں کو بستروں پر ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر رکھا گیا تھا۔ ان کمروں میں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی کہ پورے گھر میں عجیب بدبو پھیلی ہوئی تھی جب کہ محبوس کیے گئے بچے انتہائی گندے اور غذائیت کی کمی کا شکار نظر آ رہے تھے۔ ریور سائیڈ کاؤنٹی شیرف کے محکمے سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ جوڑا اپنے گھر سے پرے ایک ڈے کیئر اسکول چلاتا تھا اور حالیہ برسوں میں اسے مالی مسائل کا سامنا رہا۔ پولیس کے مطابق تاحال یہ جوڑا اپنے بچوں کو اس طرح کی صورتحال میں قید رکھنے کی کوئی معقول وجہ حکام کو نہیں بتا سکا۔